30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بسم اللہ شریف پڑھنے کی برکت :
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر پر گزرے تو عذاب ہورہا تھا ۔کچھ وقفہ کے بعد پھر گزرے تو ملاحظہ فرمایا کہ نور ہی نور ہے اور وہاں رحمت ِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی بارش ہورہی ہے ۔ آپ علیہ السلام بہت حیران ہوئے اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی کہ مجھے اس کا بھید بتایا جائے ۔ارشاد ہوا : ’’اے عیسیٰ ! یہ سخت گنہگار اور بدکار تھا ، اس وجہ سے عذاب میں گرفتار تھا لیکن اس نے بیوی حاملہ چھوڑی تھی ۔اس کے لڑکا پیدا ہوا اور آج اس کو مکتب بھیجا گیا ، استاذ نے اسے بسم اللہ پڑھائی ، مجھے حیاء آئی کہ میں زمین کے اندر اس شخص کو عذاب دوں جس کا بچہ زمین پر میرا نام لے رہا ہے ۔‘‘(التفسیرالکبیر، الباب الحادی عشر، ج۱، ص۱۵۵ملخصاً)
ایک شخص جس کے باپ کا انتقال ہوچکا تھا اس نے حضور سیدناغوث الاعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’گذشتہ رات ، خواب میں اپنے والد کو عذاب میں مبتلاء دیکھا تومیرے والد مرحوم نے مجھ سے کہا کہ ’’مجھے عذابِ قبر میں مبتلاء کر دیا گیا ہے ، تم غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس جا کر میرے لئے دعائے مغفرت کراؤ ۔‘‘غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دریافت فرمایا کہ ’’کیا تمہارے والد کبھی میرے مدرسے کے سامنے سے گزرے تھے ؟‘‘ اس شخص نے جواب دیا : ’’جی ہاں ۔‘‘ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خاموشی اختیار کر لی، پھروہ شخص اپنے گھرچلا گیا ۔
رات کو اس نے اپنے والد کو خواب میں انتہائی خوش وخرم دیکھا ، انہوں نے سبز لباس پہن رکھا تھا اور فرما رہے تھے کہ’’ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی دعا سے اللہ تَعَالٰی نے میرا عذاب ختم کر دیا ہے اور انہی کے فیض سے مجھے یہ لباس پہنایا گیا ہے، لہٰذا میں تجھے ہدایت کرتاہوں کہ ان کی خدمت میں حاضری اپنے لئے لازم کر لے ۔‘‘ اس شخص نے یہ واقعہ غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ’’خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! مجھ سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی میرے مدرسے کے پاس سے گزر جائے گا تو اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے گی ۔‘‘(بہجۃ الاسرار، باب ذکر فضل اصحابہ وبشراھم ، ص۱۹۴)
حضرت محی الدین ابنِ عربی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک دعوت میں تشریف لے گئے۔ وہاں ایک نوجوان بھی موجود تھا جوکہ کشف کے معاملے میں معروف تھا ۔آپ نے دیکھا کہ کھانا کھاتے ہوئے وہ دفعتاً(یعنی اچانک) رونے لگا ۔وجہ معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ’’ بذریعہ کشف مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے حکم سے فرشتے میری ماں کو جہنم میں لے جارہے ہیں ۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’میرے پاس ستر ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا ہوا محفوظ تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں اس کی ماں کو ایصالِ ثواب کر دیا۔‘‘ وہ لڑکا فوراً ہنس پڑا ، میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ : ’’میں نے ابھی دیکھا ہے کہ فرشتے میری ماں کو جنت کی طرف لے جارہے ہیں ۔‘‘(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، حصہ اول ، ص۱۰۴)
روزانہ ایک قرآن پاک کا ایصال ِ ثواب :
ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ قبرستان کے تمام مردے اپنی قبروں سے باہر نکل کر جلدی جلدی زمین پر سے کوئی چیز سمیٹ رہے ہیں ، لیکن مُردوں میں سے ایک شخص فارغ بیٹھا ہوا ہے ، وہ کچھ نہیں چنتا ۔ اس شخص نے اس سے جاکرپوچھا کہ’’ یہ لوگ کیا چن رہے ہیں ؟‘‘ اس نے جواب دیا : ’’زندہ لوگ جو کچھ صدقہ ۔۔یا۔۔ دعا۔۔ یا۔۔تلاوتِ قرآن وغیرہ اس قبرستان والوں کو بھیجتے ہیں ، اس کی برکات سمیٹ رہے ہیں ۔‘‘ اس نے کہا’’ تم کیوں نہیں چنتے ؟‘‘ جواب دیا’’مجھے اس وجہ سے فراغت ہے کہ میرا ایک بیٹاحافظِ قرآن ہے جو فلاں بازار میں حلوہ بیچتاہے ، وہ روزانہ ایک قرآنِ پاک پڑھ کر مجھے بخشتا ہے ۔‘‘
یہ شخص صبح اسی بازار میں گیا ، دیکھا کہ ایک نوجوان حلوہ بیچ رہا ہے اوراس کے ہونٹ ہل رہے ہیں اس نے نوجوان سے پوچھا ’’تم کیا پڑھ رہے ہو ؟‘‘ اس نے جواب دیا کہ میں روزانہ ایک قرآن پاک پڑھ کر اپنے والدین کو بخشتاہوں ، اسی کی تلاوت کر رہا ہوں ۔ کچھ عرصے بعد اس نے خواب میں دوبارہ اسی قبرستان کے مُردوں کو کچھ چنتے ہوئے دیکھا، اس مرتبہ وہ شخص بھی چننے میں مصروف تھا کہ جس کا بیٹا اسے قرآن پاک پڑھ کر بخشا کرتا تھا، اس کو دیکھ کر اسے بہت تعجب ہوا ، اتنے میں اس کی آنکھ کھل گئی۔صبح اٹھ کر اسی بازار میں گیا اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حلوہ بیچنے والے نوجوان کا بھی انتقال ہوچکا ہے ۔(روض الریاحین، الفصل الثانی الحکایۃ السابعۃ والخمسون، ص۱۷۷ )
اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں شامل ہونے والےاَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہاں کی بھلائیاں پاتے ہیں ۔ ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں نے عید کے دوسرے روز عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کی ۔ اسی دوران والدِ مرحوم جن کو فوت ہوئے دو برس گزر چکے تھے ، میرے خواب میں بہت اچھی حالت میں تشریف لائے ۔میں نے پوچھا : ’’ابو انتقال کے بعد کیا ہوا؟‘‘ فرمایا : ’’کچھ عرصہ گناہوں کی سزا ملی مگر اب عذاب اٹھ گیا ہے ، تم دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کو ہرگز مت چھوڑنا کہ اسی کی برکت سے مجھ پر کرم ہوا ہے ۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
واقعی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے ، نیک اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور ان کی دعاؤں کے طفیل فوت شدہ والدین کے لئے آسانیاں ہوجاتی ہیں ۔ اولاد کو نیک بنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول ایک بہترین ذریعہ ہے۔ (فیضانِ سنّت ، باب آدابِ طعام، ج۱، ص۳۵۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع