30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈرامے دیکھنے ، نامحرم عورتوں کا ہاتھ پکڑنے والا اور دیگراعلانیہ گناہ کرنے والا شخص کبھی ولی نہیں ہوسکتا ۔ بعض جاہل یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ شریعت ایک راستہ ہے اور راستہ کی حاجت ان کو ہوتی ہے جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں ، ہم تو پہنچ گئے ۔ ایسوں کے بارے میں سیدالطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’بے شک وہ سچ کہتے ہیں ، وہ پہنچ گئے مگر کہاں ؟ جہنم میں ۔‘‘
(الیواقیت والجواہر، مبحث السادس والعشرون، الجزء الاول، ص۲۰۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
قرآن ایک نور ہے اگر بچوں کا دل ودماغ قرآن کی روشنی سے آراستہ کیا جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کا باطن بھی منوّر ہوجائے گا ۔معلمِ اعظم ، شفیع معظم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی اولاد کو تعلیمِ قرآن سے آراستہ کرنے والوں کو کئی بشارتیں عطا فرمائی ہیں ۔ چنانچہ
(۱) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس شخص نے دنیا میں اپنے بچے کو قرآن پڑھنا سکھایا، توبروزِ قیامت جنت میں اس شخص کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی بناء پر اہلِ جنت جان لیں گے کہ اس شخص نے دنیا میں اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی تھی۔‘‘ (المعجم الاوسط، الحدیث۹۶، ج۱، ص۴۰)
(۲) دوجہاں کے سلطان، سرورِ ذیشان، صاحب ِ قرآن، محبوبِ رحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ مغفرت نشان ہے : ’’جو شخص اپنے بیٹے کو ناظر ہ قرآن کریم سکھائے اس کے سب اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔‘‘(المعجم الاوسط، الحدیث۹۶۳۵، ج۱، ص۵۲۴)
اگر بچیّ کا رجحان ہو تو اسے قرآن پاک بھی حفظ کروائیے اس کی فضیلت زیادہ ہے جیسا کہ حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جس شخص نے اپنے بیٹے کو قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا سکھایا ، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے اپنے بچے کو بغیر دیکھے پڑھنا سکھایا تو اللہ تَعَالٰی اس باپ کو چودہویں رات کے چاند کی مانند اٹھائے گا اور اس کے بیٹے سے کہا جائے گا : پڑھ، پس جب بھی وہ ایک آیت پڑھے گا ، اللہ تَعَالٰی اس کے باپ کا ایک درجہ بلند فرمادے گا یہاں تک کہ وہ پورا قرآن ختم کر لے ۔‘‘(المعجم الاوسط، الحدیث۱۹۳۵، ج۱، ص۵۲۴)
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچیّ کو قرآن پاک پڑھانے کے لئے ایسے صحیح العقیدہ قاری صاحب کا انتخاب کریں جو بچے کو دُرست مخارج سے قرآن پاک پڑھائیں کیونکہ قرآن پاک اتنی تجوید سے پڑھنا فرضِ عین ہے کہ حرف دوسرے سے صحیح ممتاز ہو(فتاویٰ رضویہ ج۳ص۲۵۳) ، اس کے ساتھ ساتھ وہ قاری صاحب بچیّ کی تربیت میں والدین کے معاون بھی بنیں ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے زیرِ انتظام اندرونِ وبیرونِ ملک حفظ وناظرہ کے ہزاروں مدارس بنام’’ مدرسۃ المدینہ‘‘ قائم ہیں ۔جہاں بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہّ دی جاتی ہے ۔ صرف پاکستان میں تادمِ تحریر کم وبیش 42,000 ہزار مدنی منّے اور مدنی منّیوں کو حفظ وناظرہ کی مفت تعلیم دی جارہی ہے ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچیّ کی بہتر تربیت کے لئے اسے قریبی مدرسۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔
سات برس کی عمر سے نماز کی تاکید کیجئے
جب بچہّ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنا سکھائیں اور اسے پانچوں وقت کی نماز ادا کروائیں تاکہ بچپن ہی سے ادائیگی نماز کی عادت پختہ ہو ۔ بچے کوبالخصوص صبح سویرے اٹھنے اور وضو کر کے نماز پڑھنے کی عادت ڈالئے۔مگر سردیوں میں بچے کو وضو کے لئے نیم گرم پانی مہیا کیجئے تاکہ وہ سردپانی کی مشقت سے گھبرا کر وضو اور نماز سے جی نہ چرائے۔ بلکہ والد صاحب کو چاہیے کہ اسے مسجد میں اپنے ساتھ لے جائیں لیکن پہلے اسے مسجد کے آداب سے آگاہ کردیں کہ مسجد میں شور نہیں مچانا، ادھر ادھر نہیں بھاگنا، نمازیوں کے آگے سے نہیں گزرنا وغیرہ ۔ پھر اسے جماعت کی سب سے آخری صف میں دوسرے بچوّں کے ساتھ کھڑا کریں ۔اس حکمتِ عملی کی بدولت بچیّ کا مسجد کے ساتھ روحانی رشتہ قائم ہوجائے گا ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
شاہِ بنی آدم ، نبی مکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ بچوں کو سات سال کی عمر ہوجانے پر نماز سکھاؤاور دس سال کے ہوجانے پر انہیں نماز کے معاملے پر مارو ۔‘‘
(سنن ترمذی، ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء متی یو مر الصبیّ بالصلوٰۃ، الحدیث۴۰۷، ج۱، ص۴۱۶)
جب محدّثِ اعظم حضرت علامہ مولانا سردار احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بچپن میں چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اپنے والد ماجد کے ہمراہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانا شروع کردیا ۔
(حیاتِ محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ، ص۳۰)
نماز کی طرح بچے کو روزہ رکھنے کا بھی عادی بنایا جائے ۔اسے روزے کی مشق اس طرح کروائی جائے کہ پہلے اسے چندگھنٹے بھوکا رہنے کاذہن دیا جائے پھر بتدریج اس دورانیے کو بڑھایا جائے اور جب بچہ روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے تو اسے روزہ رکھوایا جائے ۔ لیکن اسے باور کروایا جائے کہ محض بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام روزہ نہیں بلکہ روزے میں ہربرُے کام سے بچنا چاہیے۔
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہل سنت ، مجدددین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی روزہ کشائی کی تقریب کا حال بیان کرتے ہوئے مولانا سید ایوب علی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ : ’’رمضان مبارک کامقدّس مہینہ ہے اوراعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیزکے پہلے روزہ کشائی کی تقریب ہے ، کاشانۂ اقدس میں جہاں افطار کااوربہت قسم کا سامان ہے۔ ایک محفوظ کمرے میں فیرینی کے پیالے جمانے کے لئے چُنے ہوئے تھے۔ آفتاب نصف النہارپرہے ٹھیک شدت کی گرمی کاوقت ہے کہ حضور کے والدِماجدآپ کو اسی کمرے میں لے جاتے ہیں اور دروازہ کے پٹ بندکرکے ایک پیالہ اٹھا کر دیتے ہیں کہ ’’ اِسے کھا لو۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع