30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
: ’’وہ گوشت ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا جو حرام میں پلا بڑھا ہے ۔‘‘(سنن الدارمی ، کتاب الرقاق، باب فی اکل السحت، الحدیث۲۷۷۶، ج۲، ص۴۰۹)
حضرت سیدناعبد اللہ بن حنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ سود کا ایک درہم جو انسان (اس کا سود ہونا)جانتے ہوئے کھائے ، چھتیس بار زنا کرنے سے سخت تر ہے ۔‘‘ (المسندللامام احمد بن حنبل حدیث عبد اللہ بن حنظلہ ، الحدیث۲۲۰۱۶، ج۸، ص۲۲۳)
تنگ دستی کی وجہ سے حرام کمانے والا :
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین دار کو اپنا دین بچانے کے لئے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اور ایک غار سے دوسری غار کی طرف بھاگنا پڑے گا تو جب ایسا زمانہ آجائے تو روزی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی ہی سے حاصل کی جائے گی پھر اس زمانہ میں آدمی اپنے بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا ، اگر اس کے بیوی بچے نہ ہوں تو وہ اپنے والدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگا اگر اس کے والدین نہ ہوئے تو وہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا ۔ ‘‘صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!وہ کیسے؟‘‘ فرمایا : ’’ وہ اسے اس کی تنگ دستی پر عار دلائیں گے تو وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے کاموں میں مصروف کر دے گا ۔‘‘(الزھد الکبیر، الحدیث ۴۷۹، ص۱۸۳)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے صاحبزادے حضرت حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے(جبکہ ابھی بچے ہی تھے) ایک مرتبہ صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی جب حضور اکرم، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دیکھا تو فورا فرمایا ’’کخ کخ‘‘یعنی اس کو منہ سے نکال کر پھینک دو ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم یعنی بنو ہاشم صدقے کا مال نہیں کھاتے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب الزکوٰۃ، باب تحریم الزکوٰۃ علی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔۔۔الخ ، الحدیث ۱۰۶۹، ص۵۰۱)
حضرت ِ سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جب سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے :
’’یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ ! ہمارے مدینے، ہمارے پھلوں اور ہمارے مد اور صاع میں برکت دربرکت عطا فرما ۔‘‘ پھر وہ پھل وہاں موجود بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے ۔‘‘
(صحیح مسلم کتاب الحج ، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفیھا باالبرکۃ الحدیث۳۷۳ا، ص۷۱۳)
جب کوئی نیا پھل آئے تو اپنے بچوں کو کھلائیے کہ نئے کو نیا مناسب ہے ۔ پھل وغیرہ بانٹنے میں پہلے بیٹیوں کو دیجئے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ہوتا ہے ۔حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو بازار سے اپنے بچوں کے لئے کوئی نئی چیز لائے تو وہ ان پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور اسے چاہیے کہ بیٹیوں سے ابتداء کرے کیونکہ اللہ تَعَالٰی بیٹیوں پر رحم فرماتا ہے اور جو شخص اپنی بیٹیوں پر رحمت وشفقت کرے وہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں رونے والے کی مثل ہے اور جو اپنی بیٹیوں کو خوش کرے اللہ تَعَالٰی بروزِ قیامت اسے خوش کرے گا ۔‘‘(فردوس الاخبار، باب المیم، الحدیث۵۸۳۰، ج۲، ص۲۶۳)
والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اچھی صحت کے لئے ضروری لوازمات مثلاً اچھی غذا، صاف ستھرے گھر اور موسم کے مطابق آرام دہ لباس کا خیال رکھیں ۔ان کے استعمال کی اشیاء کو جراثیم سے بچاکر رکھیں ۔ انہیں حفاظتی ٹیکے لگوائیں ۔ اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو کسی ماہر طبیب کی خدمت حاصل کریں ۔حصول ِ شفاء کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیاروں کی بارگاہ میں بھی حاضر ہونا چاہیے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا سائب بن یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میری خالہ مجھے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِ بابرکت میں لے گئیں اور عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میرا بھانجا بیمار ہے ۔‘‘ (یہ سن کر )رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعائے برکت فرمائی ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وضو فرمایا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل ، باب اثبات خاتم النبوۃ، الحدیث۲۳۴۵، ص۱۲۷۷)
پیارے اسلامی بھائیو! اگر کبھی آپ کی اولاد یا گھر کا کوئی اور فرد بیمار ہوجائے تو طِبّی علاج کے ساتھ ساتھ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرنے والے مدنی قافلوں میں شامل ہوکر اس کی صحت یابی کی دعا بھی کیجئے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ !راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کی برکت سے شفایابی کے کئی واقعات ہیں ۔دوبہاریں ملاحظہ ہوں …
شیخ طریقت ، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پاس ایک صاحب اپنے منّے کو گود میں اٹھاکر دم کروانے کے لئے لائے اور بتایا کہ بچے کی بینائی چلی گئی ہے ۔ امیراہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دم کرنے کے بعد مشورہ دیا کہ آپ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے میں سفر کریں اور سفر پر جاکر دعا کریں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ کرم ہوگا ۔ کچھ عرصے بعد وہ صاحب پھر اپنے منیّ کو لے کر فیضانِ مدینہ تشریف لائے اور بتایا کہ میں نے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے میں سفر کیا اور سفر پر جاکر دعا مانگی تھی ،اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! میرے منّے کی آنکھوں کی روشنی واپس آچکی ہے ۔
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں (دعوتِ اسلامی کی بہاریں ، قسط اول، ص۳)
ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ہمارے پڑوسی کا بچہ کسی مُوذی مرض میں مبتلا ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا اگر اس کی زندگی چاہتے ہو تو اسے بیرونِ ملک لے جاؤ۔وہ بے چارہ غریب شخص بیرونِ ملک علاج کروانے کے لئے لاکھوں روپے کہاں سے لاتا ۔ الغرض وہ اپنے لختِ جگر کی زندگی سے ناامید ہوگیا ۔ باب المدینہ(کراچی)میں ہونے والا تین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع