30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ پر دل کھول کر خرچ کیجئے اور بشاراتِ سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق دار بنئے ۔چنانچہ حضرت سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص (ناجائز اور مشتبہ چیز سے) بچنے کے لئے خود پر خرچ کرے گا تو یہ صدقہ ہے اور جو کچھ اپنی بیوی ، اولاد اور گھر والوں پر خرچ کرے گا صدقہ ہے ۔(مجمع الزوائد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فی نفقۃ الرجل ، الحدیث ۴۶۶۰، ج۳، ص۳۰۲)
حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’سب سے پہلے جو چیز انسان کے ترازوئے اعمال میں رکھی جائے گی وہ انسان کا وہ خرچ ہوگا جو اس نے اپنے گھر والوں پر کیا ہوگا۔‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۶۱۳۵، ج۴، ص۳۲۸)
حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور اکرم، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے تُو جتنا بھی خرچ کرتا ہے تجھے اس کا اجر دیا جائے گا حتی کہ جولقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو اس کا بھی اجر ملے گا ۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الجنائز ، باب رثی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ الحدیث ۱۲۹۵، ج۱، ص۴۳۸)
حضرت سیدنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’خرچ کرنے کے اعتبار سے بہترین دینار وہ ہے جسے آدمی اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے اور اسی طرح وہ دینار(بھی بہتر ہے)جسے وہ راہ خدا عَزَّوَجَلَّ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار بھی جسے اپنے ساتھیوں پر راہ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خرچ کر دیتا ہے ۔‘‘(المسندللامام احمدبن حنبل ، حدیث ثوبان ، الحدیث ۲۴۴۳، ج ۸ ، ص۳۲۳)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ایک دینار وہ ہے جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے جسے تم مسکین پر صدقہ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے جسے تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو، ان میں سب سے زیادہ اجر اس دینار پر ملے گا جسے تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، باب فضل النفقۃ علی العیال۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۹۹۵، ص۴۹۹)
حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ کے ایک شخص نے ایک غلام کو مدبرکیا(یعنی یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے)حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو یہ خبر پہنچی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس شخص سے پوچھا : ’’کیا تیرے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے؟‘‘اس نے عرض کی ’’نہیں ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟۔‘‘حضرت سیدنا نعیم بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کوآٹھ سو در ہم میں خرید لیا، اور وہ در ہم لا کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت اقدس میں پیش کر دئیے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے وہ درہم اس غلام کے مالک کو دئیے اور فرمایا’’پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو، پھر اگر بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، پھر اگر اپنے اہل و عیال سے کچھ بچے تو قرابت داروں پر، اور اگر قرابت داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھراُدھر، اپنے سامنے، دائیں اور بائیں ۔‘‘
(صٓحیح مسلم ، کتاب الزکوۃ، باب الابتداء فی النفقۃ بالنفس۔۔۔۔الخ، الحدیث ۹۹۷، ص۴۹۹)
مسئلہ :
آدمی پر کم از کم اتنا کمانا فرض ہے جو اس کے لئے ، اس کے اہل وعیال کے لئے، ادائیگی ٔ قرض کے لئے اور انہیں کفایت کر سکے جن کا نفقہ اس کے ذمے واجب ہے ۔ماں باپ محتاج وتنگ دست ہوں تو انہیں بقدرِ کفایت کما کر دینا فرض ہے ۔ (الفتاوی الھندیہ ، کتاب الکراہیۃ ، باب الخامس عشر فی الکسب ، ج۵ ، ص۳۴۸ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اپنے گھر والوں کو رزقِ حلال کھلانے کا التزام کیجئے کہ اس کی بڑی برکتیں اور فضائل ہیں ، چنانچہ حضرت سیدنا کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے سے گزرا۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م نے اس کی چستی دیکھ کر عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کاش یہ شخص جہاد میں شریک ہوتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے نکلا ہے تو بھی اللہ تَعَالٰی کی راہ میں ہے اور اگر اپنے آپ کو (ناجائز وشبہ والی چیز سے)بچانے کے لئے نکلا ہے تو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ریاکاری اور تفاخر کے لئے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں ہے ۔‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث ۲۸۲، ج۱۹، ص۱۲۹ )
امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل فرماتے ہیں : ’’جوشخص لگاتار حلال کی روزی کماتا ہے اور حرام کے لقمہ کی آمیزش نہیں ہونے دیتا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دل کو اپنے نور سے روشن کردیتا ہے اور حکمت کے چشمے اس کے دل سے جاری ہوجاتے ہیں ۔‘‘(کیمیائے سعادت، باب اول ، فضیلت طلب حلال ، ج۱، ص۳۴۴)
حضور اکرم، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’جو شخص اس لئے حلال کمائی کرتا ہے کہ سوال کرنے سے بچے ، اہل وعیال کے لئے کچھ حاصل کرے اور پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا ۔ ‘‘(شعب الایمان ، باب فی الزہد وقصر الامل ، الحدیث ۱۰۳۷۵، ج۷، ص۲۹۸)
پیارے اسلامی بھائیو!
تکمیلِ ضروریات اور آسائشوں کے حصول کے لئے ہرگزہرگز حرام کمائی کے جال میں نہ پھنسیں کہ یہ آپ کے اور آپ کے گھر والوں کے لئے دنیا وآخرت میں عظیم خسارے کا باعث ہے جیسا کہ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع