30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ
پہلے اسے پڑھ لیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بچے اپنے والدین ا ورعزیز واقارب کی امیدوں کا محور ہوتے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کا مفید فرد بنانے کے لئے ان کی بہترین تربیت بے حد ضروری ہے ۔ یہی بچے کل بڑے ہوکر والدین ، تاجراوراستاذوغیرہ بنیں گے اوراس معاشرے کی باگ ڈور سنبھالیں گے ، اگر یہ اپنی ذمہ داریاں شریعت کے مطابق بطریقِ احسن ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ معاشرہ امن وسُکون کا گہوارہ بن جائے گا اورہرطرف سنّتوں کی بہار آجائے گی ۔آج کے اس پُرفتن دور میں بچوں کی مَدَنی تربیت کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے کہ جب جدت پسندی کی رنگینیاں اور فریب کاریاں مسلم معاشرے کو ٹی۔وی ، ڈش انٹینا ، کیبل نیٹ ورک ، انٹر نیٹ کی صورت میں گھیرے ہوئے ہیں ۔تفریح اور معلوماتِ عامہ میں اضافے کے نام پر یہ آلات بے حیائی کو جس تیزی سے فروغ دے رہے ہیں ، یہ کسی پر پوشیدہ نہیں ۔
زیرِ نظر کتاب ’’تربیتِ اولاد ‘‘میں بچوں کی تربیت کے سلسلے میں قراٰن واحادیث واقوالِ اکابرین کی خوشبو سے معطر معطر مدنی پھول پیش کئے گئے ہیں ۔اس کتاب میں بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی شادی تک کے تمام امور مثلاً نام رکھنا ، عقیقہ، ختنہ ، تحنیک اور مختلف آداب ِ زندگی وغیرہ کا تذکرہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔یوں یہ کتاب صاحب ِ اولاد مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی بھائیوں کے لئے بھی یکساں مفید ہے ۔ اس کتاب کو نہ صرف خود پڑھئے بلکہ دوسروں کو اس کے مطالعہ کی ترغیب دلا کر ثوابِ جاریہ کے حق دار بنئے ۔
اللہ تَعَالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شعبہ ا صلاحی کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تَعَالٰی اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتاہے کہ یہ نِفاق اورجہنم کی آگ سے آزاد ہے اوراُسے بروزِ قیامت شُہَدا ء کے ساتھ رکھے گا ۔‘‘
(مجمع الزوائد ، کتاب الادعیۃ، باب فی الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، الحدیث ۱۷۲۹۸، ج۱۰، ص۲۵۲ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رب تعالٰی کا انعامِ عظیم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
نیک اولاد اللہ تبارک و تَعَالٰی کا عظیم انعام ہے۔اولادِ صالح کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی حضرت سیدنازکریا علی نبیّنا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دُعامانگی۔چنانچہ قراٰن پاک میں ہے :
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) (پ ۳، اٰل عمران : ۳۸)
ترجمہ کنز الایمان : اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔
اور حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبیّنا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کی یوں دعا مانگی :
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ (پ ۱۳، ابرہیم : ۴۰)
ترجمہ کنز الایمان : اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اورمیری دعا سن لے۔
یہی وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے والدین کے لئے راحت ِ جان اور آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان بنتی ہے ۔بچپن میں ان کے دل کا سرور ، جوانی میں آنکھوں کا نور اوروالدین کے بوڑھے ہوجانے پر ان کی خدمت کرکے ان کا سہارا بنتی ہے ۔ پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت منداولاد اپنے والدین کے لئے بخشش کا سامان بنتی ہے جیساکہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے :
(۱)صدقہ جاریہ…
(۲)وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے…
(۳)نیک اولاد جو اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ ، باب مایلحق الانسان ، الحدیث ۱۶۳۱، ص۸۸۶)
ایک اور مقام پر حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’جنت میں آدمی کا درجہ بڑھا دیا جاتا ہے تووہ کہتا ہے : ’’میرے حق میں یہ کس طرح ہوا؟‘‘تو جواب ملتا ہے’’ اس لیے کہ تمہارا بیٹا تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب بر الوالدین ، الحدیث ۳۶۶۰، ج۴، ص۱۸۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع