30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود اس کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے ۔چنانچہ حضرت سیدنا سلمان بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا : ’’بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤاور اس سے اذیت کو ہٹاؤ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب العقیقہ، باب اماطۃ الاذی عن الصبی فی العقیقۃ، الحدیث ۱۵۱۸، ج۳، ص۵۴۸)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :
’’جو بچہ قبل بلوغ مرگیا اور اس کا عقیقہ کردیا تھا یا عقیقہ کی استطاعت نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا ان سب صورتوں میں وہ ماں باپ کی شفاعت کریگا جبکہ یہ دنیا سے با ایمان گئے ہوں ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج۲۰، ص۵۹۶)
عقیقہ کے لئے ساتواں دن بہتر ہے جیسا کہ حضرت سیدناامام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیدناسمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے ساتویں روز اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ، نام رکھا جائے ، اور اس کا سر مونڈا جائے۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب الاضاحی ، باب العقیقہ بشاۃ ، الحدیث۱۵۲۷، ج۳ ، ص۱۷۷)
اگر ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں لیکن سات دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے ۔اسے یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ، اس سے پہلے والا دن جب بھی آئے گا ساتواں ہوگا ۔ مثلاً ہفتے کو بچہ پیدا ہوا تو جمعۃ المبارک ساتواں دن کہلائے گا ۔علٰی ھذاالقیاس (ماخوذ از بہارِ شریعت ، حصہ ۱۵، ص۱۵۴)
حضرت سیدنا عمروبن شعیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایاکہ : ’’جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے عقیقے کی قربانی کرنا چاہے تو لڑ کے کی طرف سے ایک جیسی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب العقیقہ، الحدیث ۲۸۴۱، ج۳، ص۱۴۳)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے روایت ہے فرماتی ہیں نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ : ’’لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جائے۔‘‘(المسندللامام احمدبن حنبل ، مسند السیدہ عائشہ ، الحدیث ۲۶۱۹۴، ج۱۰، ص۱۰۱)
(۱) عقیقہ کے جانور کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں ۔ اس کا گوشت فقراء اور رشتہ داروں میں کچا تقسیم کردیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا ان کو بطورضیافت کھلایا جائے ، ہر طرح سے جائز ہے ۔
(۲) لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کی جائے اگر لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی کی طرف سے بکرا کیا گیا جب بھی حرج نہیں ۔
(۳)گائے ذبح کرنے کی صورت میں لڑکے کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ کافی ہے ۔
(۴) گائے کی قربانی میں عقیقہ کرنے کے لئے حصہ ڈالا جاسکتا ہے ۔
(۵) بہتر یہ ہے کہ اس کی ہڈی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈیوں پر سے چھری وغیرہ سے گوشت اتار لیا جائے کہ بچے کی سلامتی کی نیک فال ہے ۔اگر ہڈی توڑ کر گوشت بنایا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
(۶) گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں مگر میٹھا پکانا بہتر ہے کہ بچے کے اخلاق اچھے ہونے کی فال ہے ۔
(۷)گوشت کی تقسیم اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ سری پائے حجام کو اور ران دائی کودینے کے بعد بقیہ گوشت کے تین حصے کر لیں ، ایک حصہ فقراء ، دوسرا عزیز رشتہ دار اور تیسرا حصہ گھر والے کھائیں ۔
(۸) عقیقے کا گوشت بچے کے ماں باپ ، دادا ، دادی اور نانا ، نانی وغیرہ بھی کھاسکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(۹) عقیقے کے جانور کی کھال کا وہی حکم ہے جو قربانی کی کھال کا ہے کہ چاہے تو خود استعمال کرے یا مساکین کو دے دے یا کسی اور نیک کام مثلاً مسجد یا مدرسہ وغیرہ میں خرچ کرے ۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت ، حصہ ۱۵، ص۱۵۵)
مدینہ : مزید معلومات کے لئے امیراہلسنّت مدظلہ العالی کی تالیف’’عقیقے کے بارے میں سوال جواب ‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’فطرت پانچ چیزیں ہیں ، ختنہ کرنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، بغل کے بال نوچنا، مونچھیں کترنا، ناخن کاٹنا۔‘‘(صحیح مسلم، باب خصال الفطرۃ ، الحدیث۲۵۷، ص۱۵۳)
ختنہ کرنا سنت ہے اوریہ شعائرِ اسلام میں سے ہے کہ اس سے مسلمان اور غیر مسلم میں امتیاز ہوتا ہے اسی لئے اسے مسلمانی بھی کہا جاتا ہے ۔ ولادت کے سات دن کے بعدختنہ کرنا جائز ہے ، ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال تک ہے ۔ (الفتاویٰ الہندیہ ، کتاب الکراہیۃ ، باب التاسع عشر فی الختان ۔۔۔الخ ، ج۵، ص۳۵۷، و بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶، ص۲۰۰)
حضرت سیدنا مولیٰ علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اپنے بچے کا ساتویں دن ختنہ کرو کہ یہ گوشت اگنے کے لئے جلدی اور ستھرا ہے اور دل کے لئے راحت ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع