30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے کچھ کھجوریں نکال کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں پیش کیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے وہ کھجوریں اپنے مبارک منہ میں ڈال کر چبائیں ، پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بچے کا منہ کھول کر اسے بچے کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اسے چوسنے لگا۔پھر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’انصار کو کھجوروں کے ساتھ محبت ہے‘‘اور اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔‘‘(صحیح مسلم : کتاب الادب، باب استحباب تحنیک المولود۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۲۱۴۴، ص ۱۱۸۳)
انہی احادیث کی بناء پر مسلمانوں کا یہ معمول ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صالح ومتقی مسلمانوں سے تَحْنِیْک کرواتے ہیں ۔اگر کھجور میسر نہ ہو تو شہد یا کسی بھی میٹھی چیز سے تحنیک کی جاسکتی ہے ۔
مفتیٔ اعظم ہند کی تَحْنِیْک :
اعلیٰ حضرت ، عظیم المرتبت ، پروانۂ شمع رسالت ، مجددِ دین وملت الشاہ امام احمدرضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے گھر جب آپ کے چھوٹے شہزادے مصطفی رضاخان (مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ )کی ولادت ہوئی تو آپ اس وقت اپنے مرشد خانے میں تھے ۔ حضرت ابوالحسین نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آپ کو پیدائشِ فرزند کی مبارک باد دی اور فرمایا : ’’آپ بریلی تشریف لے جائیں ۔ ‘‘
کچھ دن بعد حضرت نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بریلی تشریف لائے تو شہزادۂ اعلیٰ حضرت کو آغوشِ نوری میں ڈال دیا گیا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی انگشت ِ مبارک مصطفی رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے منہ میں رکھ کر قادری وبرکاتی برکات سے ایسامالا مال کردیاکہ یہی شہزادے بڑے ہو کر مفتی اعظم ہند بنے ۔(تاریخ مشائخ قادریہ ، ج۲ ص ۴۴۷، ملخصًا)
(5,4,3) نام رکھنا ، بال مُونڈنااورعقیقہ کرنا :
ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور سر منڈانے کے وقت اس کاعقیقہ کیا جائے اور بالوں کا وزن کر کے چاندی یاسونا صدقہ کیا جائے ۔
(المعجم الاوسط ، الحدیث۵۵۸ ، ج۱، ص۱۷۰)
والدین کو چاہئیے کہ بچے کا اچھا نام رکھیں کہ یہ ان کی طرف سے اپنے بچے کے لئے سب سے پہلا اور بنیادی تحفہ ہے جسے وہ عمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب میدانِ حشر بپا ہوگا تو وہ اسی نام سے مالکِ کائنات عَزَّوَجَلَّ کے حضوربلایا جائے گا جیسا کہ حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔‘‘(سنن ابی داود ، کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء ، الحدیث ۴۹۴۸، ج۴، ص۳۷۴)
اس حدیثِ پاک سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو اپنے بچے کانام کسی فلمی اداکار یا(معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ )کفار کے نام پر رکھ دیتے ہیں ، اس سے بدترین ذلت کیا ہوگی کہ مسلمان کی اولاد کو کل میدانِ محشر میں کفار کے ناموں سے پکارا جائے ۔والعیاذ باللہ
ہمارے معاشرے میں بچے کے نام کے انتخاب کی ذمہ داری عموماً کسی قریبی رشتہ دار مثلاً دادی ، پھوپھی ، چچا وغیرہ کو سونپ دی جاتی ہے اورعموماً مسائل شرعیہ سے نابلد ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن کے کوئی معانی نہیں ہوتے یا پھر اچھے معانی نہیں ہوتے ، ایسے نام رکھنے سے احتراز کیا جائے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ اورصحابہ کرام وتابعین عظام اور اولیائے کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م کے ناموں پر نام رکھنے چاہئیں جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے کا اپنے اسلاف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م سے روحانی تعلق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہستیوں سے موسوم ہونے کی برکت سے اس کی زندگی پر مدنی اثرات مرتب ہوں گے ۔
حضرت سیدناابووہب جشمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھو۔‘‘(سنن ابی داود ، کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء ، الحدیث ۴۹۵۰، ج۴، ص۳۷۴)
بچے کی کنیت رکھنا جائز ہے اور حصولِ برکت کے لئے بزرگوں کی نسبت سے کنیت رکھنا بہتر ہے مثلاً ابوتراب (یہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ہے )وغیرہ
(ماخوذ از بہارِ شریعت ، ج۳، حصہ ۱۶، ص۲۱۳)
حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اپنے بچوں کی کنیت رکھنے میں جلدی کرو کہیں ان کے (برُے)القابات نہ پڑ جائیں ۔‘‘(کنزالعمال، کتاب النکاح ، باب السابع، الفصل الاول ، الاکمال ، الحدیث ۴۵۲۲۲، ج۱۶، ص۱۷۶)
عبدالمصطفیٰ ، عبدالنبی اور عبدالرسول نام رکھنا بالکل جائز ہے کہ اس سے شرف ِ نسبت مقصود ہے ۔ عبد کے دو معانی ہیں ، بندہ اور غلام ، اس لئے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔غلام محمد ، غلام صدیق ، غلام فاروق ، غلام علی ، غلام حسین وغیرہ نام رکھنا جن میں غلام کی نسبت انبیاء وصالحین کی طرف کی گئی ہو ، بالکل جائز ہے ۔ (بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ص۲۱۳، ماخوذًا)
مسئلہ :
محمد بخش ، احمد بخش ، پیر بخش اور اسی قسم کے دوسرے نام رکھنا جس میں نبی یا ولی کے نام کے ساتھ بخش کا لفظ ملا یا گیا ہو ، بالکل جائز ہے ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ص۲۱۴)
مسئلہ :
طہ ، یسین نام بھی نہ رکھے جائیں کہ یہ الفاظ مقطعاتِ قرآنیہ میں سے ہیں جن کے معانی معلوم نہیں ۔ (بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ص۲۱۳)
مسئلہ :
جو نام برُے ہوں انہیں بدل کر اچھے نام رکھنے چا ہئیں ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ص۲۱۳)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ برُے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے ۔
(جامع الترمذی ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی تغییر الاسماء ، الحدیث۲۸۴۸، ج۴، ص۳۸۲)
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ حضرت جویریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا کا نام پہلے برّہ تھا ، سرورِعالم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (برّہ سے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع