30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹا پیدا ہویا بیٹی ، انسان کو اللہ تَعَالٰی کا شکر بجا لانا چاہیے کہ بیٹا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت اور بیٹی رحمت ہے اور دونوں ہی ماں باپ کے پیار اور شفقت کے مستحق ہیں ۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ عزیز واقربا کی طرف سے جس مسرت کا اظہار لڑکے کی ولادت پر ہوتا ہے ، محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں ، مبارک سلامت کا شور مچ جاتاہے لڑکی کی ولادت پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا ۔
دنیاوی طور پر لڑکیوں سے والدین اور خاندان کو بظاہر کوئی منفعت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس ان کی شادی کے کثیر اخراجات کا بار باپ کے کندھوں پر آن پڑتا ہے شاید اسی لئے بعض نادان بیٹیوں کی ولادت ہونے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور بچی کی امی کو طرح طرح کے طعنے دئیے جاتے ہیں ، طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ اوپر تلے بیٹیاں ہونے کی صورت میں اس دھمکی کو عملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے۔ ایسوں کوچاہیے کہ وہ ان روایات کو بار بار پڑھیں جن میں بیٹی کی پرورش پر مختلف بشارتوں سے نوازا گیا ہے ۔چنانچہ
(۱) حضرت نبیط بن شریط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کے گھر فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں ’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو ۔ پھر فرشتے اس بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ناتواں وکمزور جان ہے جو ایک ناتواں سے پیدا ہوئی ہے ، جو شخص اس ناتواں جان کی پرورش کی ذمہ داری لے گا تو قیامت تک مددِ خدا عَزَّوَجَلَّ اس کے شاملِ حال رہے گی ۔‘‘
(مجمع الزوائد، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الاولاد، الحدیث۱۳۴۸۴، ج۸، ص۲۸۵)
(۲) حضرت نبیط بن شریط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’بیٹیوں کو بُرا مت کہو ، میں بھی بیٹیوں والا ہوں ۔بے شک بیٹیاں تو بہت محبت کرنے والیاں ، غمگسار، اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔‘‘(مسند الفردوس للدیلمی، الحدیث۷۵۵۶، ج۲، ص۴۱۵)
(۳) حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماسے روایت ہے کہ نبی کریم ، رء وف ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ِ عظمت نشان ہے کہ’’ جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے ایذاء نہ دے اور نہ ہی برا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ تَعَالٰی اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘(المستدرک للحاکم، کتاب البر والصلۃ ، الحدیث۷۴۲۸، ج۵، ص۲۴۸)
(۴) حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمت ِ عالم ، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جس کی تین بیٹیاں ہوں ، وہ ان کا خیال رکھے ، ان کو اچھی رہائش دے ، ان کی کفالت کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔‘‘عرض کی گئی : ’’اور دو ہوں تو؟‘‘ فرمایا : ’’اور دوہوں تب بھی ۔‘‘ عرض کی گئی : ’’اگر ایک ہو تو ؟‘‘ فرمایا : ’’ اگر ایک ہو تو بھی ۔‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۶۱۹۹، ج۴، ص۳۴۷)
(۵) حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اروایت کرتی ہیں کہ مدینے کے سلطان ، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے روک بن جائیں گی ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب فضل الاحسان الی البنات ، الحدیث۲۶۲۹، ص۱۴۱۴)
مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیٹیوں پر شفقت :
(۱) حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کھڑے ہو جاتے ، ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ، پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ، اسے بوسہ دیتے پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے ۔ اسی طرح جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں ، آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں پھراس کو چُومتیں اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، با ب ماجاء فی القیام، الحدیث ۵۲۱۷، ج۴ ص۴۵۴)
(۲) حضرت سیدتنا ز ینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا رسول اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو اعلانِ نبوت سے دس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ۔ جنگ ِ بدر کے بعد حضور پرنور، شافعِ یوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو مکہ سے مدینہ بلالیا ۔ جب یہ ہجرت کے ارادہ سے اونٹ پر سوار ہوکر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا ۔ ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا ۔ نبی کریم رء وف رّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں ارشادفرمایا : ’’ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی ۔ جب آٹھ ہجری میں حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا کا انتقال ہوگیا تو نمازِ جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا ۔ (شرح العلامۃ الزرقانی ، باب فی ذکر اولادہ الکرام ، ج۲، ص۳۱۸، ماخوذاً)
(۳) حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا فرماتی ہیں کہ نجاشی بادشاہ نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں کچھ زیورات بطورِ تحفہ بھیجے جن میں ایک حبشی نگینے والی انگوٹھی بھی تھی ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس انگوٹھی کو چھڑی یا انگشتِ مبارکہ سے مس کیا اور اپنی نواسی امامہ کو بلایا جو شہزادیٔ رسول حضرت سیدتنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا کی بیٹی تھیں اور فرمایا : ’’اے چھوٹی بچی ! اسے تم پہن لو ۔‘‘(سنن ابی داود، کتاب الخاتم، باب ماجاء فی ذھب للنساء ، الحدیث۴۲۳۵، ج۴، ص۱۲۵)
(۴) حضرتِ سیدنا ابوقتا دہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہمارے پاس تشریف لائے تو آپ (اپنی نواسی)امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ۔پھر آپ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے وقت انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے ۔‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب الادب، باب رحمۃ الولد ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع