30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَراویح ) اور تین وتر پڑھائے ۔ ( [1] )
صحابۂ کرام 20 رَکعت تَراویح پڑھا کرتے :
حضرتِ سَیِّدُنا سائِب بِن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : كُنَّا نَقُوْمُ فِيْ زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ ہم فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں 20 رَکعت تَراويح اور وتر پڑھا کرتے تھے ۔ ( [2] )
اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْنعثمانِ غنی اور اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن عَلِیُّ المُرتضیٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے دور میں بھی 20 رَکعت تَراویح پڑھی جاتی تھی ۔ ( [3] ) اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایک شخص کو حکم فرمایا : رَمَضان میں لوگوں کو 20 رَکعت تَراويح پڑھائے ۔ ( [4] )
شارحِ بخاری حضرتِ علَّامہ بَدرُالدِّین محمود بِن احمد عینی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بِن مَسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : كَانَ يُصَلِّيْ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّيُوْ تِرُ بِثَلَاثٍ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ 20 رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر ادا فرماتے ۔ ( [5] )
حضرتِ سَیِّدُنا عبدُالعزیز بِن رَفیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رِوایت کرتے ہیں : كَانَ اُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُّصَلِّيْ بِالنَّاسِ فِيْ رَمَضَانَ بِالْمَدِيْنَةِ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ اُبی بِن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رَمَضان میں مدینۂ منورہ میں لوگوں کو 20 رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔ ( [6] )
20 رَکعت تَراویح پر اِجماعِ صحابہ :
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : اَجْمَعَ الصَّحَابَةُ عَلٰى اَنَّ التَّرَاوِيْحَ عِشْرُوْنَ رَكْعَةً یعنی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اِس بات پر اِجماع( یعنی متفقہ فیصلہ ) ہے کہ تَراویح کی 20 رَکعات ہیں ۔ ( [7] )
بزرگانِ دِین کا 20 رَکعت تَراویح پر عمل :
حضرتِسَیِّدُنا امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اکثر علما کا مذہب 20 رَکعت تَراویح ہے ، جو حضرت عمر ، حضرت علی اور دِیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مَروی ہے ۔ سفیان ثوری ، عبدُ اللہ بِن مُبارَک اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اِسی کے قائِل ہیں ۔ امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّوْنَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً یعنی ہم نے اپنے شہر مکۂ مکرمہ والوں کو 20 رَکعت تَراویح پڑھتے ہوئے پایا ہے ۔ ( [8] )
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوخَصِيب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُجِیْبمشہورتابعی حضرتِ سَیِّدُنا سُوَید بِن غَفَلَہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں فرماتے ہیں : ”كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ فِيْ رَمَضَانَ فَيُصَلِّيْ خَمْسَ تَرْوِيْحَاتٍ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً سُوَید بِن غَفَلَہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیں پانچ تَرویحوں میں 20 رَکعت ( تَراویح ) پڑھاتے تھے ۔ “اورتابعی بزرگ حضرتِ سَیِّدُنا شُتَيْر بِن شَكَلرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المُرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے شاگردوں میں سے ہیں ، ان کے بارے میں مَروی ہے : ”اَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّ يُوْتِرُ بِثَلَاثٍ یہ لوگوں کو رَمَضان میں 20 رَکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع