30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قراءت زائد ہو گی اور قراٰنِ کریم کے ہر حرف پر
دَس نیکیاں ہیں سو کی جگہ پانچ سو حرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزار نیکیاں ملیں ۔ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : جس نے قراٰنِ کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس نیکیاں ، میں نہیں فرماتا کہ”الم“ایک حرف ہے بلکہ ”الف“ ایک حرف ہے اور”لام“ ایک حرف ہے اور ”میم“ایک حرف ہے ۔ ( [1] ) اور ہر ثواب سمجھ کر پڑھنے پر موقوف نہیں ۔ امام احمد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو خواب میں دیکھا ، عرض کی : اے میرے رب!تیرے بندوں کو تیرے عذاب سے نجات دینے والی کیا چیز ہے ؟ فرمایا : میری کتاب ۔ عرض کی : اے میرے رب! سمجھ کر یا بے سمجھے بھی؟ فرمایا : سمجھ کر اور بے سمجھے ۔
دُوم : کسل ۔ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : بیشکاللہ تعالیٰ ثواب دینے میں کمی نہیں فرماتا جب تک تم نہ اکتاؤ ۔ ( [2] ) ( اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں : یہ وجہ عام عوام کو عام ہے اور احکامِ فقہیہ میں غالب ہی کا اِعتبار ہوتا ہے ۔ مگر اس وجہ کا مفاد صرف کراہتِ تنزیہی ہے اور مکروہِ تنزیہی جواز و اباحت رکھتا ہے نہ کہ گناہ و حرمت ۔
سِوم : ہَذرَمَہ گھاس کاٹنا ۔ بعض لوگ ایسا جلد پڑھتے ہیں عَلِیْم یا حَکِیْم ، یَعْقِلُوْن ، تَعْلَمُوْنغرض لفظ ختمِ آیت کے سِوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ نفسِ سُنَّت کا فانی ( یعنی سُنَّت کو مٹانے والا ) اور بِدعتِ شنیعہ ( بُری بدعت ) اور اِسَاءَت ہے ۔ چہارم : قراءَت کے واجبات مثلاً مَدِّ متصل وغیرہ کا ترک کرنا ۔ یہ صورت گناہ و مکروہِ تحریمی ہے ۔ پنجم : وہ حروف جو آواز میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں مثلاً ث س ص ، ت ط ، ز ذ ظ وغیرہا میں فرق نہ کرنا ۔ یہ خود حرام و مفسدِ نماز ہے ۔ ( [3] )
شبینہ پڑھنا صَالح مسلمانوں کا دَستور ہے :
مُفَسّرِ شہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ہمیشہ سے صالح مسلمانوں کا دَستور ہے کہ رَمَضانُ المبارک میں شبینہ کرتے ہیں ، کبھی ایک رات میں ، کبھی دو میں اور کبھی تین راتوں میں پورا قراٰن شریف تَراویح میں ختم کرتے ہیں ۔ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ وہ رَمَضان کے علاوہ بھی روزانہ ایک قراٰن شریف پڑھ لیتے تھے ۔ یہ سب کچھ جائز اور ثواب ہے ، بشرطیکہ اتنی جلدی نہ پڑھے کہ حُروف ِ قراٰن دُرُست ادا نہ ہوں ، نہ سُستی اور کَسل سے پڑھے ۔ ( [4] )
شبینہ پڑھنے اور سُننے کی ناجائز صورتیں :
اگر شبینہ پڑھنے اور سُننے میں اس کے آداب کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر یہ جائز نہیں جیسا کہ صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : شبینہ کہ ایک رات کی تَراویح میں پورا قراٰن پڑھا جاتا
ہے ، جس طرح آج کل رَواج ہے کہ کوئی بیٹھا باتیں کر رہا ہے ، کچھ لوگ لیٹے ہیں ، کچھ لوگ چائے پینے میں مشغول ہیں ، کچھ لوگ مسجد کے باہرحُقَّہ نوشی کر رہے ہیں اور جب جی میں آیا ایک آدھ رَکعت میں شامل بھی ہوگئے یہ ناجائز ہے ۔ ( [5] )
تَراویح کی اُجرت لینا دینا کیسا؟
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ460 صفحات پر مشتمل کتاب ، ”فیضانِ رمضان“صفحہ163تا 166 پر ہے : قراٰنِ کریم پڑھنے پڑھانے والوں کو اپنے اندر اِخلاص پیدا کرنا ضَروری ہے اگر حافظ اپنی تیزی دِکھانے ، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کیلئے قراٰنِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع