30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو وہ ان پانچ نمازوں ( کی جماعت ) پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لئے سُنَنِ ھُدٰی مَشْروع کیں اور یہ ( باجماعت ) نَمازیں بھی سُنَنِ ھُدٰی سے ہیں اور اگر تم اپنے گھروں میں نَماز پڑھ لیا کرو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والاگھر میں پڑھ لیتاہے تو تم اپنے نبی کی سُنَّت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سُنَّت چھوڑو گے توگمراہ ہوجاؤ گے ۔ ( [1] ) اِس رِوایت سے اِشارہ ملتا ہے کہ جماعتِ اُولیٰ کی پابندی کرنے والے کا خاتِمہ بالخیرہو گا اور جو بِلاشَرْعی مجبوری کے مسجِد کی جماعتِ اُولیٰ تَرک کرتا ہے اُس کیلئے مَعَاذَ اللّٰہ کُفر پر خاتِمے کا خوف ہے ۔ جو لوگ خوامخواہ سُستی کیوجہ سے پوری جماعت حاصِل نہیں کرتے وہ توجُّہ فرمائیں کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : بحرالرائق میں ہے ، قنیہ میں ہے : اگر اذان سُن کر دُخُولِ مسجِد ( یعنی مسجِد میں داخِل ہونے ) کیلئے اِقامت کا انتِظار کرتا رہا تو گنہگار ہو گا ۔ ( [2] ) فتاویٰ رضویہ شریف کے اسی صفحہ پر ہے : جو شخص اذان سُن کر گھر میں اِقامت کا اِنتطار کرتا ہے اس کی شہادت ( یعنی گواہی ) قبول نہیں ۔ ( [3] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو اِقامت تک مسجِد میں نہیں آجاتا بعض فُقَہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کے نزدیک وہ گنہگار اور مَردودُ الشہادت یعنی گواہی کیلئے نالائق ہے تو جو بِلا عُذر گھر میں جماعت قائِم کرتا یا بِغیر جماعت نَماز پڑھتا یا مَعَاذَ اللّٰہ نَماز ہی نہیں پڑھتا اُس کا کیا حال ہو گا!یا ربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! ہمیں پانچوں نَمازیں مسجِد کی جماعتِ اُولیٰ میں پہلی صَف کے اندر تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی ہمیشہ سعادت نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعَت
ہو توفیق ایسی عطا یااِلٰہی ( وسائلِ بخشش )
شبینہ پڑھنا فِیْ نَفْسِہٖ جائز ہے :
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : شبینہ فی نفسہٖ قطعاً جائز و رَوا ہے ۔ اکابر ائمہ دِین کا معمول رہا ہے ، اسے حرام کہنا شریعت پر اِفتراہے ۔ امامُ الائمہ سیِّدُنا امام اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تیس برس کامل ہر رات ایک رَکعت میں قراٰنِ مجید ختم کیا ہے ۔ علمائے کرام نے فرمایا ہے : سلف صالحین میں بعض اکابر دِن رات میں دو ختم فرماتے بعض چار بعض آٹھ ۔ امام عبدُالوہَّاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَانِی کی میزانُ الشریعہ میں ہے : سیدی علی مَرصَفی قُدِّسَ سِرُّہ نے ایک رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزار ختم فرمائے ۔ آثار میں ہے : اَمِیْرُ الْمُوءمِنِیْن مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قراٰنِ مجید شروع فرماتے اور دَہنا پاؤں رکاب تک نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہو جاتا بلکہ خود حدیث میں اِرشاد ہے کہ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اپنے گھوڑے زین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یا توراۃ مقدس ختم فرما لیتے ۔ توراۃ شریف قراٰنِ مجید سے حَجْم( یعنی ضحامت ) میں کئی حصے زائد ہے ۔ فی نفسہٖ یہ فعل( یعنی شبینہ پڑھنا ) حسن ہے کراہت یا ممانعت اگر آئے گی تو عوارض سے اور وہ یہاں پانچ ہیں :
اوّل : عَدمِ تفقّہ یعنی جلدی کی وجہ سے معانیٔ قراٰنِ کریم میں تفکر و تدبر نہ ہو سکے گا ۔ عبدُ اللہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : جس نے تین رات سے کم میں قراٰنِ مجید ختم کیا اس نے سمجھ کر نہ پڑھا ۔ ( [4] ) یہ وجہ صرف افضلیت کی نفی کرتی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی ۔ ( اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں یہ بھی ان کے لئے ہے جو مَعانی میں غور و فکر کریں ، یہاں کے عام لوگ کہ کتنا ہی دیر میں پڑھئے غور و فکر سے محروم ہیں اُن کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہٖ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے ان کے لیے معتدل جلدی ہی کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع