30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجدمیں آکر فساد ڈالیں اور ناجائز غُل مچائیں اور بِلاوجہ فوجداری پر آمادہ ہوں جیسا کہ سائِل نے بیان کیا مُوذی( یعنی اِیذا دینے والے ) ہیں اور مُوذی کی نسبت حکم ہے کہ اُسے مسجد میں نہ آنے دیا جائے ۔ ( [1] )
سُوال : زید تَراویح پڑھا رہا تھا کہ دو رَکعت پر تشہد میں بیٹھا ، پچھلی صفوں میں سے نمازیوں نے لقمہ دیا ان کے گمان میں ایک رَکعت ہوئی تھی امام نے ان کا لقمہ نہیں لیا بلکہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرا لقمہ دینے والوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟
جواب : صورتِ مذکورہ میں جو لقمہ دیا گیا وہ بے محل دیا گیا اور بے حاجت لقمہ دینے کا حکم یہ ہے کہ ایسا لقمہ دینے والے کی نماز فاسِد ہو جاتی ہے لہٰذا جنہوں نے لقمہ دیا ان کی نماز فاسِد ہوگئی ۔ ( [2] )
تَراویح میں خَتم قُراٰن کا طریقہ
سورۂ اِخلاص کا تَراویح میں تین بار پڑھنا :
ختم ِ قراٰن کا طریقہ یہ ہے کہ جب سورۂ اِخلاص پر پہنچیں تو اس سورت کو ایک ہی رَکعت میں تین مرتبہ پڑھیں کہ پورے قراٰنِ عظیم کا ثواب ملنے کی اُمّید ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال ہوا کہ ”سورۂ اِخلاص کا تَراویح میں تین بار پڑھنا کیسا ہے ؟ تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً اِرشاد فرمایا : مستحسن ہے ۔ ( [3] ) صحیح حدیث میں آیا کہ سورۂ اِخلاص ثُلُث ِ قراٰن ہے ۔ تو تین بار پڑھنے میں پورے قراٰنِ عظیم کا ثواب ملنے کی اُمّید ہے ۔ ( [4] )
کسی ایک سورت سے قبل بآوازِ بلند بِسْمِ اللہ پڑھنا :
اگر اس سے پہلے کسی سورت کی اِبتدا میں بلند آواز سے بِسْمِ اللہ شریف نہیں پڑھی تو سورۂ اِخلاص یا اس کے بعد والی کسی سورت کی اِبتدا میں ایک بار بلند آواز سے بِسْمِ اللہ شریف ضَرور پڑھ لیں ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ایک بار بآواز تسمیہ ہونا چاہیے خواہ کہیں ہو”الٓمّٓ “کے اَوّل( یعنی شروع میں ) ہو یا سورۂ( قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ )کے اَوّل ہو یا سورۂ اِخلاص شریف کے اَوّل ہو اور باقی آہستہ ہو ۔ ( [5] ) نمازمیں بِسْمِ اللہ شریف آواز سے پڑھنا منع ہے صرف تَراویح میں جب ختمِ کلامِ مجید کیاجائے سورۂ بقرہ سے سورۂ ناس تک کسی ایک سورہ پر آواز سے پڑھ لی جائے کہ ختم پورا ہو ، ہر سورۃ سے آواز سے پڑھنا ممنوع ہے اور مذہبِ حَنَفی کے خلاف ۔ ( [6] )
سورۂ بقرہ کی اِبتدائی آیات”مُفْلِحُوۡنَ“تک پڑھنا :
آخری رَکعت میں سورۂ بقرہ کی اِبتدائی آیات”ْمُفْلِحُوۡنَ“ تک پڑھیں ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتسے سُوال ہوا کہ ” تَراویح میں ختم کے روز”الْمُفْلِحُوۡنَ“ تک پڑھنا کیسا ہے ؟ توآپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جوابا ً اِرشاد فرمایا : جائز اور دُرُست ہے ۔ حدیث میں ایسا کرنے کو ”حَال مُرْ تَحِل“فرمایا ہے یعنی منزل پر پہنچ کر کوچ کر دینے والا ۔ جب ایک پارہ پڑھ چکتا ہے شیطان کہتا ہے : اب شاید رُک جائے نہ پڑھے ۔ جب دوسرا پارہ ختم کرتا ہے تو کہتا ہے : اب شاید نہ پڑھے ۔ اِسی طرح ہر پارہ پر کہتا ہے ، یہاں تک کہ جب تیسوں پارے ختم ہوجاتے ہیں کہتا ہے : اب نہ پڑھے گا اب ختم کرچکا ۔ پھر”الْمُفْلِحُوۡنَ“ تک پڑھتا ہے ۔ کہتا ہے : یہ نہ مانے گا پڑھتا ہی رہے گا ۔ مایوس ہوجاتا ہے ، اس کی اُمّید ٹوٹ جاتی ہے ۔ ( [7] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع