30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَراویح میں قراٰنِ پاک پڑھا جاتا ہے اور”قراٰنِ مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے ۔ “( [1] ) اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا :( وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴))( پ۹ ، الاعراف : ۲۰۴ ) ترجمۂ کنزالایمان : ”اور جب قراٰن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سُنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔ “ لہٰذا جب قراٰن پڑھا جا رہا ہو تو امام کے پیچھے قِراءَت کرنے اور بے توجہی ، سُستی اور غفلت کا مُظاہرہ کرنے کے بجائے اپنی ساری توجہ قراٰنِ پاک سننے پر لگائے رکھیں ۔
سلام پھیرنے کے بعد بعض لوگ صَف میں بیٹھے رہتے ہیں ، یا کھڑے کھڑے اِدھر اُدھر دیکھتے یا پیچھے جا کر باتیں کرنے یا بِلاوجہ پانی پینے وغیرہ میں مشغول ہو جاتے ہیں جیسے ہی امام صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً آ کر نیت باندھ لیتے ہیں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ بہارِ شریعت جلد 1صفحہ 693 پر ہے : مقتدی کو یہ جائز نہیں کہ بیٹھا رہے جب امام رکوع کرنے کو ہو تو کھڑا ہو جائے کہ یہ منافقین سے مُشابہت ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے : ( وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-) ( پ۵ ، النساء : ۱۴۲ ) ترجمۂ کنز الایمان : اور ( منافِق ) جب نَماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے ۔
بِلاعُذر بیٹھ کر تَراویح نہ پڑھیے :
یوں ہی بعض لوگ صحت مند اور تندرست ہونے کے باوجود كرسيوں پر بیٹھ کر ، کچھ لوگ بعض رَکعتیں کھڑے کھڑے اور بعض زمین پر بیٹھے بیٹھے ادا کرتے ہیں ایسا بھی نہیں کرنا چاہیے ۔ بِلاعُذر تَراویح بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فُقَہائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے نز د یک تو ہوتی ہی نہیں ۔ ( [2] ) یاد رکھیے ! سجدۂ حقیقی ( زمین یا زمین سے بلند بارہ انگل کی کسی چیز ) پر قدرت ہونے کے باوجود کرسی پر نماز پڑھی تو نماز ہو گی ہی نہیں کیونکہ سجدۂ حقیقی فرض اور اس پر قدرت ہونے کے باوجود اگر کرسی پر آگے لگی ہوئی تختی پر سر رکھ کر سجدہ کیا یا فقط سجدہ کا اِشارہ کیا تو سجدہ ہی نہیں ہوااور جب سجدہ نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوئی ۔ ( [3] )
ناسمجھ بچوں کو ساتھ لانے سے اِجتناب کیجیے :
بعض لوگ نمازِ تَراویح میں اپنے ساتھ چھوٹے ناسمجھ بچوں کو لے آتے ہیں ، بچے جب شرارتیں کرنے لگتے ہیں تو ان کی ساری توجہ بچوں کو سنبھالنے میں لگی رہتی ہے جس سے نماز میں خُشوع وخُضوع باقی نہیں رہتا ۔ اِسی طرح بچوں کے رونے دھونے ، شور مچانے اور اُچھل کود کرنے سے جہاں دِیگر نمازیوں کو تشویش ہوتی ہے وہاں قراٰنِ پاک پڑھنے والے حافظ صاحب پر بھی یہ بات نہایت گراں گزرتی ہے اور بسااوقات حافظ صاحب بھول بھی جاتے ہیں ۔
نا سمجھ بچوں کو مسجد میں لانے اور صَف میں کھڑا کرنے کا حکم :
ایسے ناسمجھ بچے جن سے نجاست کا گمان غالِب ہو ، انہیں مسجد میں لانا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ ہے اور اگر نجاست کا محض اِحتمال اور شک ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے یعنی گناہ تو نہیں مگر بچنا بہتر ہے ۔ جہاں تک صفوں میں ان کے کھڑے ہونے کی بات ہے تو بالکل ناسمجھ بچے جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتے چونکہ نماز کے اَہل ہی نہیں ہوتے لہٰذا ان کے صَف میں کھڑے ہونے سے ضَرور صَف قطع ہوگی اور قطعِ صَف ناجائز وگناہ ہے ۔ لہٰذا انھیں ہرگز مَردوں کی صَف میں کھڑا نہ کیا جائے تکمیلِ صَف کا دھیان رکھا جائے ۔ ( [4] ) حدیثِ پاک میں ہے : مسجِدوں کو بچّوں ، پاگلوں ، خرید و فروخت ، جھگڑے ، آواز بلند کرنے ، حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ ۔ ( [5] ) عموماً مُشاہدہ یہی ہے کہ جب چھوٹے بچے مسجِدمیں جمع ہوتے ہیں تو آپس میں شرارتیں شروع کر دیتے ہیں ، نَمازیوں کے آگے سے گزرتے اور خوب اودھم مچاتے ہیں نیز دَورانِ نماز بسااوقات رونا شروع کر دیتے ہیں جس سے
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۳۵۲
[2] درمختار ، کتاب الصلا ة ، مبحث صلاة التراويح ، ۲ / ۶۰۳
[3] کرسی پرنماز پڑھنے کے احکام سے متعلق مزید تفصیل جاننے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ”کرسی پر نماز پڑھنے کے احکام“ کا مطالعہ کیجیے ۔
[4] ماہنامہ فیضانِ مدینہ( دعوتِ اسلامی ) جنوری2018ء ، دار الافتاء اہلسنَّت ، ص۱۳مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[5] اِبنِ ماجه ، کتاب المساجد و الجماعات ، باب ما یکرہ فی المساجد ، ۱ / ۴۱۵ ، حدیث : ۷۵۰ دار المعرفة بيروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع