30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ت مُساوی ہو دوسری کی قِراءت پہلی سے زیادہ نہ ہونا چاہيے ۔ ( [1] )
نماز میں تَعدیلِ اَرکان واجب ہے :
بعض حفاظ تَراویح میں قراٰن تو دَرمیانے اَنداز میں پڑھتے ہیں لیکن وقت بچانے کے لیے رکوع ، سجود اور تشہد وغیرہ میں بہت جلدی کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے تَعدیلِ اَرکان کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ۔ یاد رکھیے !نماز میں” تَعدیلِ اَرکان یعنی رکوع و سجود و قومہ ( یعنی رکوع سے سیدھا کھڑے ہونے ) و جلسہ( یعنی دو سجدوں کے دَرمیان سیدھا بیٹھنے ) میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اﷲِ کہنے کی قدر ( مِقدار ) ٹھہرنا ( واجب ہے ) ۔ “( [2] ) حدیثِ پاک میں ہے : اِنسان کی نماز دُرُست نہیں ہوتی حتّٰی کہ رُکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۔ ( [3] )
اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : تَعدیلِ اَرکان یعنی نمازکو اِطمینان سے ادا کرنا واجب ہے ۔ اس کے بغیر نماز کامِل نہیں بہت ناقِص اور واجبُ الاعادہ ہے ۔ یہاں اگرچہ رُکوع سجدے کا ذِکر ہے مگر مُراد سارے اَرکان ہیں ۔ ( [4] )
مائیک کی آواز بقدرِ ضَرورت رکھی جائے :
بعض حفاظ اپنی سہولت کی خاطر مائیک کی آواز کافی تیز رکھتے ہیں ، اس سے انہیں تو سہولت مل جاتی ہے مگر نمازیوں کو کافی تشویش ہوتی ہے اور نمازیوں کا تشویش میں پڑنا انہیں بَدظن کر کے مسجد سے دُور کر سکتا ہے ۔ لہٰذا حاجت سے زیادہ تیز آواز نہیں ہونی چاہیے ۔
ایک رُکن میں تین بار نہ کھجایا جائے :
تَراویح میں کافی دیر تک قیام کرنا پڑتا ہے ، اس دَوران بعض حفاظ ایک ہی رُکن میں تین یا اس سے بھی زائد بار مائیک کو مُنہ کے قریب یا دور کرتے یا کھجاتے رہتے ہیں تو اس سے بھی نماز جاتی رہتی ہے جیسا کہ بہارِ شریعت جلد اوّل ، صفحہ 614پر ہے : ایک رُکن میں تین بار کھجانے سے نماز جاتی رہتی ہے ، یعنی یوں کہ کھجا کر ہاتھ ہٹا لیا پھر کھجایا پھر ہاتھ ہٹالیا وَعَلٰی ہٰذَا اور اگر ایک بار ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ حرکت دی تو ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا ۔
کپڑوں کو سمیٹنا یا دونوں ہاتھوں سے دُرُست کرنا کیسا؟
اِسیطرح سجدے میں جاتے یا سجدے سے قیام کی طرف آتے وقت بِلاضَرورت کپڑوں کو سمیٹنے یا دُرُست کرنے سے نماز مکروہ ہو جاتی ہے ۔
داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا کیسا؟
بعض حفاظ کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دَورانِ تَراویح داڑھی کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں یہ مکروہِ تحریمی ہے ۔ بہارِ شریعت میں ہے : کپڑے یا داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا ، کپڑا سمیٹنا ، مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے اُٹھا لینا ، اگرچہ گرد سے بچانے کے ليے کیا ہو اور اگر بِلاوجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ ، کپڑا لٹکانا ، مثلاً سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں ، یہ سب مکروہِ تحریمی ہيں ۔ ( [5] )
ایک یا تین رَکعت پر سلام پھیر دینے کا حکم :
بسااوقات ایک رَکعت یا تین رَکعت پر بھولے سے سلام پھیر دیا جاتا ہے تو اس صورت میں نماز فاسِد ہو جاتی ہے اور یہ رَکعتیں تَراویح میں شامِل بھی نہیں ہوں گی ۔ ہاں اگر سلام پھیرنے کے بعد منافیٔ نماز عمل کرنے سے پہلے یاد آ گیا اور کھڑے ہو کر ایک رَکعت اور ملا لی تو اس صورت میں نماز فاسِد نہ ہو گی ، اَلبتہ آخر میں سجدۂ سہو کرنا ہو گا ۔ اِسی طرح کا ایک سُوال مَع جواب فتاویٰ رضویہ سے پیشِ خدمت ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع