30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) سورۂ واقعہ کا ہمیشہ بالخُصوص بعدِ مغرب پابندی سے پڑھنا ۔ (۴) مَردوں کوسنّتِ فجر اپنے گھر میں پڑھ کر، فرْض نماز کے لیے مسجد میں جانا۔( بعض روایات میں آیاہے جس شخص نے فجر کی سنتیں اپنے گھر میں پڑھیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ا س کا رِزْق کُشادہ کرتا ہے اور اسکا اَہل و عِیا ل اور رشتہ داروں سے جھگڑا کم ہوجاتا ہے اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا خاتِمہ ایمان پر ہوگا)۔ (۵) نمازِ پنجگانہ کے لیے اذان کا جواب دینا اور اس کا احترام بجالانا، کہ لیٹا ہوا بیٹھ جائے اور اَورادووظائف بلکہ تلاوتِ قرآن بھی مَوقوف کردے، سَرپَر (عمامہ شریف)ٹوپی (اور اسلامی بہنیں )دوپٹا وغیرہ رکھ لے، ہرگز ہرگز دنیا کی کوئی بات نہ کرے کہ(معاذ اللہ)برے خاتِمے کا اَندیشہ ہے۔ (۶) دینی معلومات یعنی سنتیں سیکھنے سکھانے میں مصروف رہنا۔ (۷)دوسروں تک علمِ دین پہنچانا اگرچہ قرآن کی ایک آیت یادین کا ایک مسئلہ کہ دوسروں کو تم سے جو خیر پہنچے وہ تمہارے لیے مبارَک ہے۔(دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکرمدنی کاموں میں مشغولیت بالخصوص مدنی انعامات سے معطر معطر مدنی قافلے میں سفراسکا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔)اس ضمن میں کسی نے ایک سچا واقعہ سنایا کہ ایک مزدور نے دعوت ِ اسلامی کے تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سفر کیا ، واپسی پر سیٹھ نے بتایا کہ گودام کی صفائی کے دوران جو گندم نکلی اسے بیچ کر رقم مزدوروں میں تقسیم کی گئی ، پانچ سو روپے تمہارا حصہ بنا ہے ۔ مزدور حیرت زدہ رہ گیا کہ چھٹی نہ کرنے کی صور ت میں شاید صرف تین سو روپے کماتا ، مگراَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مَدَنی قافلے میں سفر کی بَرَکت سے پانچ سو روپے ملے ۔ (۸) نمازتَہَجُّد پڑھتے رہنا، (۹) توبہ کرتے رہنااورفجْر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان ستّرباراِسْتِغْفار کرنا، (۱۰) گھر میں آیَۃُ الکُرْسی اور سورۂ اِخْلاص پڑھنا، (۱۱)ہر نماز کے بعدتسبیح فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پڑھنا، (یعنی ۳۳ بار سبحان اﷲ، ۳۳بار اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور ۳۴ باراللہُ اَکْبَرْ ) (۱۲) قرآن ِ مجیداور(عُلَماءِاَہلسنّت کی)کتابیں دینی مدرسوں کے لیے وقْف کرنا( مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل شادی، غمی کی تقریبات، اجتماعات، اَعراس اور جلوسِ میلاد وغیرہ میں تقسیم کر نے کی ترکیب اورگاہکوں کو بانیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر کچھ رسائل رکھنے کا معمول بنانے کے ساتھ اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلہ کے ہر گھر میں وقفہ وقفہ سے بدل بدل کر سنتوں بھرے رسائل پہنچا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کی مَدَنی کوشش بھی رزق میں بَرَکت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ )
(۱۳)والدین کی خدمت میں مصروف رہنا، (۱۴)دن بھر میں کم ازکم ایک بار سورۃ المُزَمِّل اور سورۂ نباء کی تلاوت کرنا، (۱۵)سورۃالملک بعد عشاء پڑھ کر سونا، (۱۶) شبِ جُمُعَہ میں سورۂ کہف پڑھنا، (۱۷)گھر میں سِرْکہ رکھنا، (۱۸) اِسی طرح روایت میں ہے کہ اتوار کے دن (جو ناخن ) ترشوائے فاقہ نکلے گااور تَوَنگَری(خوش حالی) آئے گی۔(فیضانِ سنت جدیدص ۵۴۹) (۱۹)عاشورہ(یعنی دس مُحَرَّمُ الحرام) میں مسکینوں کو کھانا کھلانا کہ روایت کے مطابق آج کے روز جو چیز دوسروں کو کھلائی پلائی جاتی ہے سال بھر تک اس میں بَرَکت رہتی ہے ۔(اسی لیے مسلمانوں میں کھچڑے کا عمل جاری ہے)، (۲۰) بکثرت دُرود شریف پڑھنا ۔ (ملخص از سنی بہشتی زیور صفحہ نمبر ۶۰۹)
ایک نیک آدمی تھا، اس نے غَلَبہ شوق کے ساتھ پانچ سو باردُرُود شریف کا روزانہ وِرْد شروع کردیا۔ اس کی بَرَکت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کو غنی کردیا اور ایسی جگہ سے اسکو رِزْق عطا فرمایا کہ اسے پتا بھی نہ چل سکا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ مفلس اور حاجت مند تھا۔ ( ملخص از فیضان سنت ص ۱۵۱)
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص مذکورہ تعداد میں دُرُودِ پاک کا وِرد کرے اور مذکورہ تنگدستی کے اسباب سے بچتے ہوئے اس سے نَجات کے حل بھی اپنائے ، مگر پھر بھی اس کا فَقْر (یعنی تنگدستی و محتاجی) دور نہ ہو تو یہ اس کی نیت کا فُتُور (یعنی فساد) ہے کہ اس کے باطن میں خرابی کی وجہ سے کام نہیں بن سکا۔
دَرْاَصْل دُرُودِ پاک پڑھنے یا مذکورہ اسباب سے بچنے اورنَجات کے حل اپنانے میں نیت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہوتو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ محتاجی ضَرور دور ہوگی ۔
یاد رکھیئے ! محتاجی صرف مال کی کمی کانام نہیں ہے بلکہ بسا اوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان محتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مذموم فِعْل ہے ۔ اِنْ شآ ء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکات سے قناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا) ہی اصْل میں غَنَا (یعنی دولت مندی) ہے اور دنیاوی مال کا حریص (یعنی لالچی) ہی حقیقت میں محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا نہیں ہے اور دنیوی مال سے یقینا افضل ہے ، کیونکہ دنیوی مال فانی بھی ہے اوروبال بھی ، کہ قیامت میں حساب دینا پڑے گا۔
(ملخص از فیضانِ سنت ص۱۵۲)
دعائے عطار( دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) اے ہمارے مہربان اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے مالِ دنیا کی مَحَبَّت سے نَجات عطافرماکر قناعت کی لازوال نعمت نصیب فرما۔(اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
روزی میں بَرَکت کا بہترین نسخہ
حضرت سیدُنا سَہَلْ بن سَعَد رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ اَقْدَس شفیعِ روز ِمَحْشَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہوکر اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، جب تم گھر میں داخل ہوتوگھر والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قل ھواﷲشریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا پھر اللہ تَعَالٰی نے اس کو اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کی بھی خدمت کی۔ (الجامع لاحکام القر آن، للقرطبی، ج۲۰، ص۲۳۱، مطبوعہ پشاور )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع