دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tangdasti kay Asbab aur in ka Hal | تنگدستی کے اسباب اور ان کا حل

book_icon
تنگدستی کے اسباب اور ان کا حل

ترجمہ کنزالایمان :   اور تمہیں جو مصیبت پہنچی۔ وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو مُعاف کردیتا ہے۔

     اس لئے ہمیں چاہئے کہ اعمال ِ بد سے توبہ کر کے نیک اعمال میں مشغول ہوجائیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سورہ ٔ اعراف میں ارشاد فرماتا ہے ۔

اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ۸، الاعراف : ۵۶)

(ترجمۂ قرآن کنز الایمان)  بیشک اللہ کی رَحمت نیکوں سے قریب ہے   

  ناگفتہ بہ حالات   

     افسوس ! آج کا مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکل ترین دُنیوی ذرائع استعمال کرنے کو تو تیار ہے مگر اﷲ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے پیارے رَسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عطا کر دہ روزی میں بَرَکت کے آسان ذرائع کی طرف اسکی توجہ نہیں ۔ آج کل بیرُوزگاری و تنگدستی کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے۔ شایدہی کوئی گھرایسا ہو جو تنگدستی کا شکار نہ ہو ۔

       یاد رکھئے!رِزْق میں بَرَکت کے طالب کیلئے ضَروری ہے کہ وہ پہلے رزْق میں بے بَرَکتی کے اسباب سے آگاہی حاصل کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرے، تاکہ رزْق میں بَرَکت کے ذرائع حاصل ہونے پر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

اس سلسلے میں احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں تنگدستی کے اسباب اور آخِر میں ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بغور مطالَعَہ فرمائیں اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں اسکا نفاذ کرکے رِزْق میں بَرَکت کے اسباب کیجئے۔

مَدَنی پھول

        امیر ِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں کہ رِزْق میں بَرَکت کا صرف یہ معنیٰ نہ سمجھیں کہ دولت کا انبار لگ جائے بلکہ کم رِزْق میں گزارہ ہوجانا اور جو مل جائے اُس پرقَناعَت کی سعادت پانا بھی بہت بڑی بَرَکت ہے۔

تنگدستی کی وجوہات

 امیر ِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک بار فرمایا، آج کل رِزْق کی بے قدری اور بے حرمتی سے کون سا گھر خالی ہے، بنگلے میں رہنے واے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والا مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتا ہے، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا ، چاول اوران کے ا جْزا  بہا کر مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   نالی کی نذر کردیئے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔

 اُمُّ الْمومِنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا فرماتی ہیں ، تاجدارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا، عائشہ (رضی اﷲعنہا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے لوٹ کر نہیں آئی۔     

(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ، باب النھی عن القاء الطعام، الحدیث ۳۳۵۳، ج۴، ص۴۹، دار المعرفہ بیروت)

تجارت میں قَسَم سے بَرَکت زائل ہوجاتی ہے

آج کل کئی دکاندار روزی میں بندِش ختْم کروانے کیلئے تعویذات، عملیات اور دعا کے ذرائع تواپنا تے ہیں ، مگر روزی میں بَرَکت کے زائل ہونے کا ایک بڑاسبب خریدوفروخت میں بے احتیاطی، اسکی طرف توجہ نہیں کرتے ۔

حدیثِ پاک میں ہے کہ پیارے مَدَنی آقا سرکا ر  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، کہ بَیْع (یعنی تجارت) میں قَسَم کی کثرت سے پرہیز کرو کہ یہ اگرچہ مال کو بِکوادیتی ہے مگر بَرَکت کو مٹادیتی ہے۔

(صحیح مسلم ، کتاب المسافات والمزارعۃ، باب النھی عن الخلف ، الحدیث  ۱۶۰۷، ص۸۶۸، دار ابن حزم  بیروت)

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیں جب سچی قَسَم کی کثرت کا یہ حال ہے تو جھوٹی قَسَموں اور رِزْق میں حرام کی آمیزش کا کتنا وَبال ہوگا۔

     اسلیئے اکثر احادیث ِمبارَکہ میں جہاں تجارت کا ذکْر آتاہے، ساتھ ہی ساتھ جھوٹ بولنے اور جھوٹی قَسَم کھانے کی ممانَعَت بھی آتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر تاجر اپنے مال میں بَرَکت دیکھنا چاہتا ہے تو سچی قَسَم کھانے سے بھی پرہیز کرے۔

راشن میں بے بَرَکتی

    آج کل یہ شکوہ بھی عام ہے کہ پہلے جتناراشن مہینے بھر چلتا تھا۔ اب ۱۵ دن میں ہی خَتمْ ہوجاتا ہے۔کاش کہ ہم اس پر بھی غور کرلیتے کہ کھانا کھاتے وقت ابتداء میں بِسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھ لیتے ہیں یا نہیں ؟

شیطان کی شرکت

   کھانے یا پینے سے پہلیبِسْمِ اﷲشَرِیْف پڑھنا سنت ہے۔ حضرت سیّدنا حُذَیفہ رضی اﷲعنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس کھانے پربِسْمِ اﷲ نہ پڑھی جائے شیطٰن اُس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔  (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب آداب الطعام ، الحدیث ۲۰۱۷، ص۱۱۱۶، دارابن حزم بیروت)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن