30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس کی مِثال دُنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی ۔
بہرحال دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں حاضِری کی سعادت ہو یا اِنٹرنیٹ، مَدَنی چینل وغیرہ کے ذَریعے خُصُوصی نشست میں شِرکت ان میں فائدہ ہی فائدہ ہے کہ لوگ اِن اِجتماعات میں شِرکت کی بَرکت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں اور فی زمانہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں، اس مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنقلاب بَرپا ہوا ہے اور وہ اپنے گناہوں سے تائِب ہو کر نمازی اور سُنَّتوں کے عادی بن گئے ہیں ۔
تُو آ بے نَمازی، ہے دیتا نمازی
خدا کے کرم سے بنا مَدَنی ماحول
گر آئے شرابی مٹے ہر خرابی
چڑھائے گا ایسا نشہ مَدَنی ماحول (وسائلِ بخشش)
کسی کو خوش کرنے کے لیے مَدَنی کام کرنا
سُوال : اپنے پیر و مُرشد یا ذِمَّہ داران کو خوش کرنے کے لیے مَدَنی کام کرنا کیا اِخلاص کے مُنافی ہے ؟
جواب : اَعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اگر کسی نے محض لوگوں کو دِکھانے ، اپنی واہ وا کروانے ، دوسروں کی نظروں میں اپنا مقام و مرتبہ بڑھانے اور تَحائف وغیرہ پانے کی نیت سے کوئی اچھا کام کیا تو ظاہر ہے کہ یہ رِیاکاری اور حُبِّ جاہ ہے جو کہ اِخلاص کے قطعاً مُنافی ہے ۔ رِیاکاری کی تعریف کرتے ہوئے حضرتِ سَیِّدُنا امام اِبنِ حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کے علاوہ کسی اور اِرادے سے عبادت کرنا ۔ گویا عبادت سے یہ غَرَض ہو کہ لوگ اس کی عبادت پر آگاہ ہوں تاکہ وہ ان لوگوں سے مال بٹورے یا لوگ اسے نیک آدمی سمجھیں یا اس کی تعریف کریں ۔ )[1](
ہاں! اگر کوئی اپنے پیر و مُرشد ، ذِمَّہ داران یا کسی بھی مومن کے دِل میں خوشی ڈالنے کے لیے کوئی اچھا کام کرے اور مقصود ان سے دُعائیں لینا یا انہیں خوش کر کے اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی رضا حاصِل کرنا ہو تو یہ اِخلاص کے مُنافی نہیں بلکہ حدیثِ پاک میں مسلمان کا دِل خوش کرنے پر جنَّت کی بشارت عطا فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ نبی ٔ رَحمت ، مالکِ کوثر و جنت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جو میرے کسی اُمَّتی کی حاجت اس لیے پوری کردے تاکہ وہ اُمَّتی اس سے خوش ہو جائے تو اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا، اس نے اللہپاک کو خوش کیا اور جس نے اللہ پاک کو خوش کیا، اللہ پاک اسے جنت میں داخِل فرمائے گا ۔ )[2](
اِس حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسِّر، حکیم الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : نیک عمل سے مؤمن کو راضی کرنے اور مؤمن کی رضا کے ذَریعہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو راضی کرنے کی نیت کرنا شِرک نہیں رِیا نہیں بالکل جائز ہے جبکہ اپنی نامود اور ناموری مقصود نہ ہو ۔ )[3]( لہٰذا مَدَنی کاموں میں اللہپاک اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی رضا و خوشنودی حاصِل کرنے کی نیت کے ساتھ ساتھ اپنے پیر و مُرشِد، ذِمَّہ داران اور مومنین کے دِلوں میں خوشی ڈالنے کی نیت کی جا سکتی ہے ۔
سدا پیر و مرشد رہیں مجھ سے راضی
کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
اِجتماع کی خُصُوصی ٹرین کے حوالے سے 6مَدَنی پھول
سُوال : سُنَّتوں بھرے اِجتماع کیلئے مختلف شہروں سے چلائی جانے والی خُصُوصی ٹرینوں کے حوالے سے ذِمَّہ داران کیلئے کچھ مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجئے ۔
جواب : سُنَّتوں بھرے اِجتماع کیلئے مختلف شہروں سے چلائی جانے والی خُصُوصی ٹرینوں کے حوالے سے ذِمَّہ داران اسلامی بھائیوں کیلئے 6 مَدَنی پھول پیشِ خدمت ہیں : (1)جتنی نشستیں مخصوص کروا کر ان کے پیسے ادا کئے ہیں ان سے زائد ایک بھی اسلامی بھائی مُفت مَت بٹھایئے ورنہ گنہگار ہوں گے ۔ (2) اِنتِظامیہ سے آنے جانے کا جو وَقت طے کیا ہوا ہے اُس میں آپ کی طرف سے ہرگز کوتاہی نہیں ہونی چاہئے ، تاخیر سے نِظام مُتأثر ہوتا اور مذہبی لوگوں کی بھی بَدنامی ہوتی ہے ۔ اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع