30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : سفر ہو یا حَضَر ، نماز میں ہوں یا نماز کے علاوہ ہر حال میں قبلہ کا اَدب و اِحترام کرنا چاہیے ۔ عام طور پر جو لوگ قبلہ رُخ پاؤں کرنے سے بچتے ہیں، ان کی بھی ایک تعداد ہے جو سفر میں اس کا لحاظ نہیں رکھ پاتی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جن دِنوں ٹرینوں میں میرا سفر ہوا کرتا تھا میں حتَّی الامکان قبلہ رُخ پاؤں پھیلانے سے بچنے کی کوششیں کرتا تھا ۔ اِسی طرح اِستنجا کرتے وقت بھی قبلے کو نہ تو منہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیٹھ، دَورانِ سفر یا کسی کے گھر جانے میں بھی اِس کا لحاظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
وُضو اور تیمم کی کوئی صورت نہ ہو تو…؟
سُوال : اگر دَورانِ سفر پانی نہ ہو اور مٹی بھی ناپاک ہو یا کوئی ایسی چیز نہ ملے جو مٹی کی جنس سے ہو (جیسے گرد، ریت، پتھراور مٹی کا فرش وغیرہ) جس سے تیمم کیا جا سکے تو اب نماز کیسے ادا کی جائے ؟
جواب : دَورانِ سفر اپنے ساتھ پانی کا گیلن اور کچی مٹی کا بَرتن رکھنا چاہیے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرا یہ معمول ہے کہ دَورانِ سفر اپنے ساتھ یہ چیزیں رکھتا ہوں تاکہ پانی نہ ملنے یا ختم ہو جانے کی صورت میں تیمم کر کے نماز ادا کی جا سکے ۔ بہرحال اگر واقعی وُضو اور تیمم کی کوئی صورت نہ ہو تو بِلا نِیّتِ نماز ، نماز کے اَرکان ادا کر لیے جائیں اور بعد میں وُضو یا تیمم کر کے اس نماز کو دُہرایا جائے ۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نہ پانی ملتا ہے نہ پاک مٹی کہ تیمم کرے تو اسے چاہیے کہ وقتِ نماز میں نماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکاتِ نماز بِلانیتِ نماز بجا لائے (اور بعد میں وضو یا تیمم کر کے اس نماز کو دہرائے ) ۔ ([1])
اِجتماع کے دَوران گھومتے پھرتے رہنا
سُوال : دَورانِ اِجتماع اسلامی بھائیوں کا اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے رہنایا مَزارات ِ اَولیا پر حاضری دینا اور پھر اِختتامی نشست میں شریک ہونا کیسا ہے ؟
جواب : اِجتماع کے دَوران اسلامی بھائیوں کا اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے رہنا نفع میں نقصان کے مُتَرادِف ہے ۔ مَزاراتِ اَولیا پر حاضِری دینا یقیناً اچھا کام ہے لیکن اگر ہم دَورانِ اِجتماع اِس کام میں مَصروف ہو گئے تو شرکائے اِجتماع جیسے آئیں گے ویسے ہی لوٹ کر چلے جائیں گے ۔ انہیں وُضو، غُسل ، نماز اور دِیگر ضَروری مَسائل کون سکھائے گا؟ دِین کو سیکھنے اور سکھانے کے لیے اِجتماعات کی حاجت ہے اور یہ ہر وقت نہیں ہوتے جبکہ مَزاراتِ اَولیا پر حاضِری کسی بھی وقت دی جا سکتی ہے لہٰذا مَزاراتِ طَیِّبَہ پر حاضِری کی تَرکیب اِجتماع سے پہلے یا پھر اِجتماع کے بعد بنائی جا ئے تاکہ اِجتماع میں آنے کا مقصد بھی پورا ہو اور مَزاراتِ اَولیا کی بَرکتیں بھی نصیب ہوں ۔
اَفسوس!صَدکروڑ اَفسوس!آج لوگوں کے دِلوں میں دُنیوی عُلُوم و فُنُون حاصِل کرنے اور مال کمانے کی محبت اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ علمِ دِین حاصِل کرنے اور نیکیاں کمانے کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں اور اب حالت یہ ہے کہ بعض اسکولز اور کالجز وغیرہ میں اِسلامیات کے مضمون کو بھی اَہمیت نہیں دی جاتی ۔ آج ہرشخص مال و دولت کمانے کے لیے بیقرار ہے مگر دِین کے لیے وقت دینے کے لیے کوئی تیارنہیں جبکہ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کے نزدیک علمِ دِین کی مجلس میں شرکت کی اَہمیت اِس قدر تھی کہ کچھ بھی ہو جائے وہ کسی بھی صورت علمِ دِین کی مجلس چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوتے یہاں تک کہ حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے صاحبزادے کا جب اِنتقال ہوا تو اس کی تَدفین کی ذِمَّہ داری پڑوسیوں اور رِشتہ داروں کے حوالے کر کے خود امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلسِ علم میں حاضِر ہو گئے ، اس ڈر سے کہ کہیں استادِ گرامی سے کوئی علمی بات سیکھنے سے رہ گئی تو عمر بھر اس کا اَفسوس دامن گیر رہے گا ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو علمِ دِین سیکھنے کا کس قدر شوق ہوتا اور وہ علمِ دِین کی مجلس میں حاضِر ہونے کا کیسا اِہتمام فرماتے ۔ ہم تو شاید ایسا نہ کر پائیں بلکہ اگر کوئی جذبات میں آ کر ایسا کر بھی لے تو لوگ باتیں بنائیں گے تو کم از کم اِجتماع کے دَوران اِدھر اُدھر گھومنے پھرنے کے بجائے اوّل تا آخر سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شِرکت کر کے ڈھیروں بَرکتیں حاصِل کریں ۔ یاد رکھیے ! موقع ملنے کے باوجود اپنے آپ کو علمِ دِین سیکھنے سے محروم رکھنا بَروزِ قیامت حسرت و ندامت کا سبب بن سکتا ہے ۔ چنانچہ خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : سب سے زیادہ حسرت قیامت کے دِن اُس شخص کو ہو گی جسے دُنیا میں طَلبِ علم کا موقع مِلا مگر اس نے طَلب نہیں کیا ۔ ([3])
شہا! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع