30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں کس طرح سمجھایا جائے ؟
جواب : چلتی ریل گاڑی پر سوار ہونا جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتا ہے ، یوں ہی زنجیر کھینچ کر گاڑی رکوانا دوسرے مسافروں کو اَذیت میں مبتلا کرنا ہے لہٰذا ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کیجیے جس میں اپنی یا دوسروں کی اِیذا کا اَندیشہ ہو ۔ ذِمَّہ داران کو چاہیے کہ بارہ بارہ اسلامی بھائیوں پر ایک سلجھے ہوئے مبلغ کو متعین کر دیں جو ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے معمولات پر بھی نظر رکھے ۔ نیز ڈویژن و کابینہ سطح کے ذِمَّہ داران اپنے علاقے کے قافلے کے ساتھ سنَّتوں بھرے اِجتماع کے لیے ٹرین میں سفر کریں تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کے سدِ باب کو یقینی بنایا جا سکے ۔
سُوال : سواری پر نماز پڑھنے کے اَحکام بھی بیان فرما دیجیے ۔
جواب : سواری پر نماز پڑھنے کے چار مَدَنی پُھول پیشِ خدمت ہیں : (۱)بیرونِ شہر (یعنی وہ جگہ جہاں سے مُسافر پر قصر کرنا واجب ہوتا ہے ) سواری پر (مثلاً چلتی کار، بس ، ویگن میں بھی نفل پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں اِسقبالِ قبلہ یعنی قبلہ رُخ ہونا) شرط نہیں بلکہ سواری (یا گاڑی)جس رُخ کو جا رہی ہو اُدھر ہی مُنہ ہو اور اگر اُدھر منہ نہ ہو تو نماز جائز نہیں اور شروع کرتے وقت بھی قبلہ کی طرف مُنہ ہونا شرط نہیں بلکہ سواری (یا گاڑی)جدھر جا رہی ہے اسی طرف مُنہ ہو اور رُکوع و سجود اِشارے سے کرے اور (ضَروری ہے کہ )سجدہ کا اِشارہ بَہ نسبت رُکوع کے پَست ہو ۔ (یعنی رُکوع کے لیے جس قدر جھکا ، سجدے کے لیے اس سے زیادہ جھکے ۔ )([1]) چلتی ٹرین وغیرہ ایسی سواری جس میں جگہ مل سکتی ہے اس میں قبلہ رُخ ہو کر قاعدہ کے مُطابق نَوافل پڑھنے ہوں گے ۔ ([2])
(۲) گاؤں میں رہنے والا جب گاؤں سے باہر ہوا تو سواری (گاڑی )پر نفل پڑھ سکتا ہے ۔ ([3]) (۳)بیرونِ شہر سواری پر نماز شروع کی تھی اور پڑھتے پڑھتے شہر میں داخل ہو گیا تو جب تک گھر نہ پہنچا سواری پر پوری کر سکتا ہے ۔ ([4]) (۴) چلتی گاڑی میں بِلا عُذرِ شَرعی فرض و سُنَّتِ فجر و تمام واجبات جیسے وتر و نذر اور وہ نفل جس کو توڑ دیا ہو اور سجدۂ تلاوت جبکہ آیتِ سجدہ زمین پر تلاوت کی ہو ادا نہیں کر سکتا اور اگر عُذر کی وجہ سے ہو تو ان سب میں شرط یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو قبلہ رُو کھڑا ہو کر ادا کرے ورنہ جیسے بھی ممکن ہو ۔ ([5])
سُوال : کیا سفر میں سُنَّتیں مُعاف ہیں؟
جواب : سُنَّتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائیں گی ۔ خوف اور رَوا رَوی (یعنی گھبراہٹ) کی حالت میں سُنَّتیں مُعاف ہیں اور اَمن کی حالت میں پڑھی جائیں گی ۔ ([6])
قبلہ رُخ معلوم نہ ہو تو نماز کیسے پڑھیں؟
سُوال : سفر میں اگر قبلہ رُخ معلوم نہ ہو تو نماز کیسے پڑھیں ؟
جواب : سفر میں اگر قبلہ رُخ معلوم نہ ہو تو مَساجد کی محرابیں یا چاند سورج کے ذَریعے رُخ معلوم کرنے کی کوشش کرے جیسے سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے اور پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں قبلہ مغرب کی طرف ہے تو وہ اس کے ذَریعے معلوم کرے یا کوئی مسلمان ہے جو قبلہ رُخ بتا سکے تو اس سے معلوم کرے ، ان میں سے کوئی صورت نہ ہو تو غور کرے کہ قبلہ کس سمت میں ہوگا ؟تو اب جس سمت کی طرف دِل جمے اُس طرف منہ کر کے نماز پڑھے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 489پر ہے : اگر کسی شخص کو کسی جگہ قبلہ کی شناخت نہ ہو، نہ کوئی ایسا مسلمان ہے جو بتا دے ، نہ وہاں مسجديں محرابیں ہیں، نہ چاند، سورج، ستارے نکلے ہوں يا ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے معلوم کر سکے ، تو ایسے کے ليے حکم ہے کہ تَحَرّی کرے (یعنی سوچے جدھر قبلہ ہونا دِل پر جمے اُدھر ہی منہ کر کے نماز پڑھے ) اس کے حق میں وہی قبلہ ہے ۔
سُوال : سفر میں نماز کے عِلاوہ بھی آپ قبلہ رُخ کی اِحتیاطیں فرماتے ہیں؟
[1] درمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مطلب فی الصلاة علی الدابة، ۲ / ۵۸۸ ملخصاً دار المعرفة بیروت
[2] نماز کے احکام ، ص۳۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[3] رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مطلب فی الصلاة علی الدابة، ۲ / ۵۸۸ ماخوذاً
[4] درمختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مطلب فی الصلاة علی الدابة، ۲ / ۵۸۹-۵۹۰ ملتقطاً
[5] درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ۲ / ۵۹۴ ملخصاً
[6] فتاویٰ ھندیه، کتاب الصلاة ، الباب الخامس عشر فی صلاة المسافر، ۱ / ۱۳۹ دار الفكر بيروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع