30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنَ اَشْھَدُاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہ پھر سیدھی طرف گردن پھیر کر اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہ پھر اُلٹی طرف گردن پھیر کر اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہ کہے ۔ اِس طریقے میں اگرچہ ہر چیز واجب نہیں ہے مگر بہت سی باتیں واجب کے لیے مددگار اور نمازی کے لیے آسان ہیں ۔
(3)وُضو اور اگر غسل کی حاجت ہو تو غسل کر کے فجر کی صِرف دو فرض رکعتیں فَرائض کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کر سکتا ہے تو ادا کرے اور بعد میں اس نماز کا اِعادہ کرنا پڑے گا ۔ (۴) وقت اتنا تنگ ہے کہ تیمم کے ساتھ صِرف فرض کی دو رَکعت فرائض کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کر سکتا ہے تو ادا کرے مگر بعد میں وُضو یا غسل لازِم ہونے کی صورت میں غسل کر کے یہ نماز دہرانی ہو گی ۔ ان دونوں صورتوں میں بھی مختصر نماز پڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے :
نیت کر کے اَللہُ اَکْبَر کہے پھر قیام میں ایک آیت پڑھے مثلاً اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رکوع کرے پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہوئے رکوع سے کھڑا ہو پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سجدے میں جائے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسرے سجدے میں جائے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو پھر قیام میں ایک آیت پڑھے مثلاً قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رکوع کرے پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہوئے کھڑا ہو پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سجدہ کرے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسرے سجدے میں جائے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے بیٹھ کر اَلتَّحِیَّات پڑھے : اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنَ اَشْھَدُاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہ پھر پہلے سیدھی طرف گردن پھیر کر اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہ کہہ کر سلام پھیرے پھر اُلٹی طرف ۔ اِس طریقے میں ہر چیز فرض نہیں ہے مگر بہت سی باتیں فرض کے لیے مددگار اور نمازی کے لیے آسان ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تنگ وقت میں مختصر نماز پڑھنے کے لیے علم ہونا اور بَروقت صحیح فیصلہ کرنا ضَروری ہے ۔ تنگ وقت میں اِختصار کے ساتھ دُرُست نماز وہی ادا کر سکتا ہے جسے نماز کے فرائض ، واجبات، سنن اور مستحبات کا علم ہو، اگر علم نہیں ہو گا تو ممکن ہے کہ سنن و مستحبات کے بجائے فرائض و واجبات چھوڑ دے اور یوں اپنی نماز ضائع کر دے ۔ بعض نمازی ثنا، دُرُودِ اِبراہیمی اور دُعائے ماثورہ وغیرہ مکمل پڑھتے ہیں مگر جلدی میں تعدیلِ اَرکان([1]) اور اَلتَّحِیَّات کے اَلفاظ چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نماز نہیں ہوتی ۔ بہرحال وقت میں تنگی ہو تو بھی کئی باتوں کا لحاظ ضَروری ہوتا ہے ۔ ([2])
نماز قضا ہونے کا اَندیشہ ہو تو رات دیر سے سونا کیسا؟
سُوال : رات دیر تک جاگنے کے بعد ظنِّ غالِب ہو کہ اب اگر سو گیا تو فجر میں آنکھ نہیں کھلے گی تو ایسے وقت میں سونا کیسا ہے ؟
جواب : رات تاخیر سے سونے کے سبب اگر نَمازِ فجر قَضا ہونے کا اندیشہ ہو تو شرعاً سونے کی اِجازت نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 701 پر ہے : نَماز کا وَقت داخِل ہو جانے کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا اور نَماز قَضا ہو گئی تو قطعاً گنہگار ہواجبکہ جاگنے پر صحیح اِعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دُخولِ وَقت سے پہلے بھی سونے کی اِجازت نہیں ہو سکتی جبکہ اکثر حصّہ رات کا جاگنے میں گزرا اور ظنِّ غالب ہے کہ اب سو گیا تو وَقت میں آنکھ نہ کھلے گی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نعت خوانیوں، ذِکر و فِکر کی محفلوں نیز سنَّتوں بھرے اِجتماعات وغیرہ میں رات دیر تک جاگنے کے بعد سونے کے سبب اگر نَمازِ فجر قَضا ہونے کا اَندیشہ ہو تو بَہ نیّتِ اِعتکاف مسجِد میں قِیام کریں یا وہاں سوئیں جہاں کوئی قابلِ اِعتماد اسلامی بھائی جگانے والا موجود ہو ۔ یا اَلارم والی گھڑی ہو جس سے آنکھ کُھل جاتی ہو مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسا نہ کیا جائے کہ نیند میں ہاتھ لگ جانے سے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے کا اِمکان رہتا ہے ، دو یا حَسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے ۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’جب یہ اَندیشہ ہو کہ صبح کی نَماز جاتی رہے گی تو بِلاضَرورتِ شَرعیَّہ اُسے رات دیر تک جاگنا ممنوع ہے ۔ ‘‘([3])
نمازِ باجماعت پانے کی چند تدابیر
سُوال : سونے کی وجہ سے نمازِ باجماعت فوت نہ ہو اس کے لیے کیا تدابیر اِختیار کرنی چاہئیں؟
[1] تعدیلِ اَرکان یعنی رُکوع و سجود و قومہ( رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونے )اور جلسہ( دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے ) میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اللّٰہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا ضروری ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )
[2] نماز کے فرائض و واجبات، سنن و مستحبات اور دِیگر مَسائل جاننے کے لیے شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب ”نماز کے اَحکام “ کا مُطالعہ کیجیے اور ساتھ ہی ساتھ عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنَّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عاشقانِ رسول کی صحبت اور مَدَنی قافلوں کی بَرکت سے نماز وغیرہ کے ضَروری مَسائل سیکھنے کا موقع ملے گا ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع