30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے تاکہ اَدائیگی وقت کے اندر ہو جائے ۔ ([1])
(4) فجر کے لیے اتنا وقت نہیں کہ وضو اور اگر غسل کرنا ضَروری ہو تو غسل کر کے پوری نماز پڑھ سکے یا ظہر و عصر و مغرب و عشا کی نمازوں میں وقت کے اندر صِرف نیَّت بھی نہ باندھ سکے تو تیمم کر کے پاک کپڑوں میں یہ نمازیں پڑھ لے مگر بعد میں وُضو یا غسل کر کے یہ نمازیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : صبح اتنے تنگ وقت اُٹھا کہ وُضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلامِ نماز سے پہلے سورج چمک آئے یا امامِ جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلامِ جمعہ سے پہلے وقتِ عصر آجائے یا مقتدی جماعتِ جمعہ میں قبلِ سلام شریک نہ ہو پائے اور دوسری جگہ بھی امام مقررِ جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے یا محدث وضو خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا عصر یا مغرب یا عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے یا فرض عشا پڑھ کر سویا اُٹھا تو نہانے کی حاجت ہے یا وُضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل یا وُضو کر کے دوبارہ بعدِ وقت پڑھے ۔ بالجملہ فجر و جمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امام مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیرِ تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اِعتبار چاہئے کہ فجر و جمعہ و عیدین سلام سے پہلے خروجِ وقت سے باطل ہو جاتی ہیں بخلاف باقی صَلَوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے ۔ ([2])
میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں، وقت ہی پر
ہوں سارے نوافِل ادا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
سُوال : تنگ وقت میں اِختصار کے ساتھ نماز ادا کرنے کا طریقہ بیان فرما دیجیے ۔
جواب : اگر سُنَن، مستحبات اور واجبات کے ساتھ نماز ادا کرنے کا وقت نہ ہو تو فجر، جُمُعہ اور عیدین میں صِرف فَرائِض کے ساتھ نماز ادا کی جائے کیونکہ ان نمازوں میں وقت کے اَندر سلام پھیرنا ضَروری ہے بخلاف ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا کی نمازوں کے کہ ان میں اگر وقت میں تکبیرِ تحریمہ باندھ لی تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے ۔ چنانچہ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : (ظہر ، عصر، مغرب اور عشا میں سے کسی نماز میں)وقت میں اگر تحریمہ باندھ لیا تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے ۔ مگر نمازِ فجر و جمعہ و عیدین کہ ان میں سلام سے پہلے بھی اگر وقت نکل گیا نماز جاتی رہی ۔ ([3])
فجر میں کسی کی آنکھ دیر سے کھلی وقت ختم ہونے والا ہے تو اس کی بعض صورتیں یہ ہیں : (۱) وُضو اور اگر غسل کی حاجت ہو تو غسل کر کے ، پاک کپڑوں میں فَرائض و واجبات کے ساتھ فجر کی سنتیں اور فرائض پڑھ سکتا ہے تو پڑھے ۔ (۲) وضو اور اگر غسل کی حاجت ہو تو غسل کرنے کے بعد ، پاک کپڑوں میں فرائض و واجبات کے ساتھ صِرف فجرکے فَرض پڑھ سکتا ہے تو پڑھے ۔ ان دونوں صورتوں میں مختصر نماز پڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے :
نیت کر کے اَللہُ اَکْبَر کہے پھر قیام میں سورۃُ الفاتحہ اور ایک چھوٹی سورت جو یاد ہو مثلاً سورۃُ الکوثر پڑھ لے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رکوع کرے اور رکوع میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہے پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہوئے کھڑا ہو پھر کھڑے ہو کر رَبَّنا لَکَ الْحَمْد کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سجدہ کرے اور سجدے میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے اور مکمل بیٹھ کر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسرے سجدے میں جائے اور سجدے میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو پھر قیام میں سورۃُ الفاتحہ اور ایک چھوٹی سورت جو یاد ہو مثلاً سورۃُ الاخلاص پڑھے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رکوع کرے اور رکوع میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہے پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہوئے کھڑا ہو پھر کھڑے ہو کر رَبَّنا لَکَ الْحَمْد کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سجدے میں جائے اور سجدے میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے جلسے میں بیٹھے اور مکمل بیٹھ کر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے دوسرے سجدے میں جائے اور سجدے میں مکمل پہنچ کر ایک مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے بیٹھ کر اَلتَّحِیَّات پڑھے : اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ اَلسَّلَامُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع