30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئے ، نہیں آئے نہیں آئے ، ذِمَّہ داران بِغیرکسی کا اِنتظار کئے بسیں چلوا دیں، ایسا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ماتحتوں کا ذِہن خود ہی بن جائے گا ۔ ہاں پانچ سات مِنَٹ کی تاخیر جو کہ گاڑی والے نیز وقت پر آ جانے والے اسلامی بھائیوں پر گِراں نہ ہو تو حَرَج نہیں ۔
خُصُوصاً بڑے اِجتماعات کے اِختِتام میں دَیر سَوَیر ہوجاتی ہے ، پھر واپَسی میں بِھیڑ کی وجہ سے بھی بعض اَوقات بس تک پہنچتے پہنچتے تاخیر ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا پہلے ہی سے اَندازہ لگا کرایک آدھ گھنٹہ زِیادہ وَقت طے کر لینا مناسِب ہے ۔ مثلاً 10 بجے اجتِماع سے فارِغ ہو جاتے ہیں تو 11بجے تک کا وقت طے کر لیا جائے اور گاڑی والے سے دَرخواست کر دی جائے کہ ہو سکتا ہے ہم جلد آ جائیں ، اگر مناسِب سمجھیں تو بس چلا دیجئے اور اگر نہ چلانا چاہیں تو کوئی بات نہیں ہم 11 بجے تک اِنتظار کر لیں گے ۔ اِس طرح کی تَرکیب بنانے سے اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کافی آسانی رہے گی ۔
سُوال : پوری بس کرائے پر بُک کروائی اور طے ہوا کہ 40 سُوار یاں بٹھائیں گے ۔ مگر روانگی کے وَقت 41 اِسلامی بھائی ہو گئے کیا کریں؟
جواب : صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اِس باب میں قاعِدۂ کلیہ(یعنی اُصول) یہ ہے کہ عَقد ( یعنی سودا طے کرنے ) کے ذَرِیعے سے جب کسی خاص مَنْفَعَت کا اِستحقاق(یعنی مخصوص فائدہ حاصِل کرنے کا حق حاصِل ) ہو تو وہ (فائدہ) یا اس کی مِثل ( یعنی اُس کے جیسا) یا اُس سے کم دَرَجہ کا (فائدہ) حاصِل کرنا، جائز ہے اور زیادہ حاصِل کرنا جائز نہیں ۔ )[1]( اس فقہی جُزئیے کی روشنی میں معلوم ہوا کہ طے شُدہ یا اِس سے کم سُواریاں بٹھانی جائز اور ایک بھی زائد بٹھانی ناجائز ۔ ہاں جہاں یہ عُرف ہو کہ طے شُدہ سُواریوں سے دو چار زائد ہو جانے پر اِعتراض نہیں ہوتا وہاں 40کے بجائے 41 بٹھانے میں حَرَج نہیں ۔ ایسے موقع پر آسانی اس میں ہے کہ سواریوں کی تعداد بتانے کے بجائے پوری گاڑی کی بکنگ کروا لی جائے جیسا کہ ہمارے ملک میں بارات وغیرہ کے لئے مکمَّل بس کی بکنگ ہوتی ہے اور اس میں سواریوں کی تحدید (یعنی تعداد کی حدبندی) نہیں ہوتی ۔
ٹرین میں بھی طے شدہ سُواریاں ہی بٹھایئے
سُوال : اگر ٹرین کی پوری بوگی بُک کروا لی جائے تو کیا اب ہم اس میں اپنی مرضی سے جتنی چاہیں سُواریاں بٹھا سکتے ہیں؟
جواب : ایک بوگی بُک کروائی ہو یا پوری ٹرین، جتنی سُواریوں کا قانون ہے اور جتنی سُواریوں کا کِرایہ ادا کیا ہے صِرف اُتنی ہی سُواریاں بٹھا سکتے ہیں ۔ طے شدہ سے زائد ایک بھی سُواری مفت بٹھائیں گے تو گنہگار اور دوزخ کے حقدار ہوں گے ۔ )[2] (اس حوالے سے ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کیسی اِحتیاط فرمایا کرتے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن مبارک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق (کرائے کے )جانور پر سوار تھے کہ کسی نے عرض کی : ’’حضور میرا یہ خط فُلاں تک پہنچا دیجئے گا! ‘‘توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’(ٹھہرو) میں سواری کے مالک سے اِجازت لے لوں میں نے جانور کرائے پر لیتے وقت یہ خط لے جانے کی شرط نہیں کی تھی ۔ ‘‘یہ حکایت نقل کرنے کے بعد حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : اے مخاطَب(سننے والے )!غور کر حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن مبارک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق نے فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے اس قول کی طرف اِلتفات نہیں کیا کہ ’’اس طرح کی اَشیاء میں چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے ‘‘بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تقویٰ اِختیار کیا ۔ )[3](
٭…٭…٭…٭
روزی میں بَرَکت کا بہترین نُسخہ
ایک شخص نے حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خِدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہو کر اپنی غُربت اور تنگ دَستی کی شکایت کی ۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر میں داخِل ہوتو سلام کرو اگرچہ کوئی بھی نہ ہو، پھر مجھ پر سَلام بھیجو اور ایک بار قُلْ ھُوَاﷲ شریف پڑھو ۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا تو اللہپاک نے اسے اتنا مالدار کر دیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رِشتے داروں میں بھی تقسیم کرنا شروع کر دیا ۔ (القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاة علی رسول الله...الخ، ص۲۷۳ مؤسسة الريان بيروت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع