30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کا اِنتِظار کئے بِغیر طے شُدہ وَقت پر ٹرین چل پڑی اور بعض عادی سُست اَفراد سُوار ہونے سے رہ بھی گئے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آئندہ کیلئے عوام و اِنتظامیہ دونوں میں ذِمَّہ دار اسلامی بھائیوں کا اِعتماد بحال ہو جائے گا اور ساری ترکیب مدینہ مدینہ ہو جائے گی ۔ جی ہاں عوام کا اِعتِماد بحال کرنا بھی ضَروری ہے کہ اِعلان کئے ہوئے وَقت پر ٹرین چلوانے میں تنظیمی ذِمَّہ داران کی طرف سے کوتاہی ہو گی تو جو اِعلان پر بھروسا کر کے وَقت کے مطابِق آئے ہوں گے وہ بَدظن ہوں گے ، نیز یہ بھی اِمکان ہے کہ وہ غیبتوں اور بدگمانیوں کے گناہوں میں پڑیں ، آئندہ آنے ہی سے کترائیں یا خود بھی تاخیر سے آنے کے عادی بن جائیں اور نتیجۃً سُنَّتوں بھری مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کی بَدنامی کے اَسباب بنیں ۔ ہمیشہ ہر مُعاملے میں وَقت وُہی دینا چاہئے جس کو نبھانا ممکن ہو اور پھر اُس کی پابندی کروانے میں بھرپور کوشش کرنی چاہئے ۔ (3) دَورانِ سفر پلیٹ فارم پر نَمازیں پڑھنے میں بھی اتنا زیادہ وَقت نہ لگائیے کہ ٹرین کا عملہ بَدظن ہو اور گناہوں بھری، توہین آمیز اور دِل آزاربحثیں چھڑیں ۔ (4) ٹرین کی چھت یا فُٹ بورڈ پر ہرگز کوئی سفر نہ کرے کہ قانون شکنی کے ساتھ ساتھ جان کا بھی خطرہ ہے ۔ (5)طویل سفر اور اسلامی بھائیوں کی کثرت کے سبب بے شک صَبْرآزما مَراحِل دَرپیش ہوتے ہوں گے ، مگر ہر حال میں ٹرین کے عملے کے ساتھ نرمی نرمی اورصِرف نرمی سے ترکیب بنایئے وَرنہ بَداَخلاقیوں، دِل آزارِیوں، بَدنامیوں اور بَد اِنتظامیوں کا سلسلہ رہے گا ۔ (6) بِالفرض ٹرین کے عملے نے زِیادَتی کی ہو، تب بھی آپ ہرگز ”اینٹ کا جواب پتّھر سے “ مَت دیجئے کہ نَجاست کو نَجاست سے نہیں پانی سے پاک کیا جاتا ہے ۔ صَبْرو تحمل سے کام لیجئے اور حِکمتِ عملی کے ساتھ مَسائِل کا حَل نکالئے ۔ بپھر کر گالیاں سُنانا، پتھّر بَرسانا، توڑ پھوڑ مچانا، حکومَتی اِملاک جلانا، گاڑیوں کو آگ لگانا وغیرہ وغیرہ اَفعال سَرا سَر جہالت، پَرلے دَرَجے کی حماقت اور خِلافِ شریعت و سُنَّت، حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فِقہ کا ایک اُصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اَلْمُنْکَرُ لَا یُزَالُ بِمُنْکَر یعنی گناہ کا اِزالہ گناہ سے نہیں ہوتا ۔ )[1](
کیا دُنیوی قانون پر عمل کرنا ضَروری ہے ؟
سُوال : کیا دُنیوی قانون پرعمل کرنا ضَروری ہے ؟
جواب : وہ دُنیوی قانون جو خلافِ شَریعت نہ ہو اُس پر عمل کرنا ضَروری ہے کیونکہ عمل نہ کرتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں ذِلَّت اُٹھانے ، جھوٹ بولنے یا رِشوت وغیرہ کے گناہوں میں پڑنے کا اَندیشہ ہے ۔ فتا ویٰ رضويہ جلد 29صَفْحَہ 93 پر ہے : کسی جُرمِ قانونی کا اِرتِکاب کر کے اپنے آپ کو ذِلَّت پر پیش کرنا بھی منع ہے ، حدیث میں ہے : جو شخص بِغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو بخوشی ذِلَّت پر پیش کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ )[2](
سُوال : بس، کوچ یا ویگن بُک کرواتے وقت یہ طے کرنا کیسا ہے کہ اگر ہم نے بکنگ کینسل کروائی تو ہماری پیشگی جمع کروائی ہوئی رقم تم ضبط کر لینا اور اگر تم نے (یعنی گاڑی والے نے ) بکنگ منسوخ کی تو دُگنی رقم (یعنی جو رَقم ہم نے دی تھی وہ بھی اور اُتنی ہی مزید)واپس دینی ہو گی؟
جواب : گاڑی والے کی طرف سے مَنسوخی کی صورت میں جمع کردہ ضمانت سے دُگنی رقم نہیں لے سکتے کیونکہ یہ تعزیز بِالمال یعنی مالی جُرمانہ ہے اور مالی جُرمانہ ناجائز ہے ۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : مذہبِ صحیح کے مطابِق مالی جُرمانہ نہیں لیا جا سکتا ۔ )[3]( گاڑی والے کو بھی چاہئے کہ بطورِ ضَمانت لی ہوئی رقم لوٹا دے ، اگر رکھ لے گا تو گنہگار ہو گا ۔
دو طرفہ کرائے کی گاڑی کیلئے اِحتیاطیں
سُوال : سُنَّتوں بھرے اِجتماع وغیرہ کیلئے بس یا ویگن دو طرفہ کرائے پر لینے کی صورت میں واپسی میں دیر ہو جانے پر گاڑی والا ناراض نہ ہو اِس کے لئے کیا کیا اِحتیاطیں کرنی چاہئیں؟
جواب : آنے جانے کا وقت گھڑی کے مُطابق طے کر لیجئے اور وَقت وُہی طے کیجئے جس کو آپ نبھا سکیں تاکہ طے شُدہ وقت سے تاخیر نہ ہو ۔ یہ شکایت فُضُول ہے کہ اسلامی بھائی وقت پر نہیں پہنچتے ! اسلامی بھائیوں کی عادَتیں کس نے خراب کیں؟ کیا یہ معمول کی بسوں اور ٹرینوں میں بھی دیر سے پہنچتے ہوں گے ! ہرگز نہیں، وہاں تو شاید وَقت سے پہلے ہی پہنچ جاتے ہوں گے ! تو آخر سُنَّتوں بھرے اِجتماع کی بسوں کیلئے ہی تاخیر سے کیوں آتے ہیں؟ بات دَراصل یہ ہے کہ بعض نادان ذِمَّہ داران خود کوتاہیاں کرتے ، اِس کا اُس کا اِنتظار کرتے اورکبھی اپنا اِنتظار کرواتے ہیں ، اِس طرح تاخیر کا مَرض بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ ہونا یہی چاہئے کہ جو آئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع