دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Talaq kay Aasan Masail | طلاق کے آسان مسائل

book_icon
طلاق کے آسان مسائل

کیا حکم ہے ؟

جواب : جب تین طلاقوں کے بعد قرآن و حدیث کے فرامین سے عورت کا مرد پر حرام ہونا ثابت ہے تو خاندان کے بڑے یا غیر مقلدین ہرگزاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حرام کو حلال نہیں کرسکتے ۔ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالے کے بیوی رکھنا حرام ہے اور بے غیرتی ہے۔ اور ایسی عورت سے مرد کا جماع کرنا حرام و زنا ہے ۔اور اس زنا کے گناہ میں مرد و عورت ، خاندان کے صلح کرانے والے لوگ اور غیر مقلدسب شامل ہیں۔ اور اس بے غیرتی میں سب شریک ہیں۔ او ر یہ ایسا زنا ہوگا جو ساری زندگی ہوتا رہے گا ۔ کہ جب وہ مرد و عورت میاں بیوی نہیں تو ان کا جب بھی میاں بیوی والا تعلق ہوگا وہ زنا ہی ہوگا ۔ اور ہر مرتبہ سب افراد گناہ میں شریک ہوں گے ۔لہذا ضروری ہے کہ جب بھی عورت کو طلاق دیں تو ایک طلاق دیں اور پھر چھوڑدیں حتی کہ عدت گزر جائے تاکہ اگر بعد میں صلح کا ارادہ بنے تو بغیر حلالہ کے صلح ہوسکے ۔

سوال نمبر۲۹ : جو بغیر حلالہ کے سابقہ بیوی کو رکھے اس کے ساتھ رشتے داروں کو کیا سلوک کرنا چاہیے ؟

جواب : ایسے شخص سے رشتے داروں کو قطع تعلق کرنا چاہیے ۔ اس سے لین دین ، بات چیت اور شادی و غمی میں آنا جانا بند کردیں ۔ تاکہ وہ مجبور ہوکر اس زنا کاری سے باز آجائے ۔ حکمِ خداوندی ہے

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان :  اور اگر شیطان تجھے بھُلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔ (الانعام ۷/ ۶۸)

سوال نمبر۳۰ : طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟

جواب : طلاق دینے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ان پاکی کے دنوں میں جن میں عورت سے جماع نہ کیاہو ایک طلاق دی جائے او ر چھوڑ دیا جائے حتی کہ عدت کے دن گزرجائیں او راس سے کم اچھا طریقہ متعدد صورتوں پر مشتمل ہے۔ (۱)جس عورت سے خلوت نہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے اگر چہ حیض کے دنوں میں ہو ۔ (۲)جس سے خلوت ہوچکی اس کو تین طہروں (پاکی کے دنوں میں) تین طلاقیں دی جائیں ہر طلاق ایک طہر میں واقع ہو اور کسی طہر میں عورت سے جماع نہ کیا ہواور نہ ہی حیض کے دنوں میں عورت سے جماع کیا ہو (۳)وہ عورت جسے حیض نہیں آتا مثلاً نابالغہ یا حاملہ یا حیض نہ آنے کی مدت کو پہنچی ہوئی عورت ان سب کو تین مہینوں میں تین طلاقیں دیں اگر چہ جماع کرنے کے بعد یہ سب صورتیں بھی جائز ہیں ان میں کچھ کراہت نہیں ۔ او ر اس کے علاوہ حیض میں طلاق دینا یا ایک ہی طہر (پاکی کے دنوں) میں تین طلاقیں دینا یا جس طہر میں عورت سے جماع کیا اس میں طلاق دینا یا طلاق طہر میں دی مگر اس سے پہلے جو حیض گزرا اس میں عورت سے جماع کیا تھا یا پہلے والے حیض میں طلاق دی تھی یا یہ سب باتیں نہیں مگر طہر میں طلاق بائن دی تھی یعنی وہ طلاق جس میں بغیر نکاح کے رجوع نہیں ہوسکتا جس کی تفصیل (سوا ل نمبر ۲۱) کے جواب میں گزری ان سب صورتوں میں طلاق دینا بہت برا اور ممنوع ہے ۔ مگر سب صورتوں میں طلاق ہوجائے گی۔ لہذاچاہیے کہ سب سے پہلا طریقہ اختیار کیا جائے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک طلاق شاید ہوتی ہی نہیں تین طلاقیں ہی صحیح طلاق ہوتی ہے۔ یہ بات درست نہیںجیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہوچکا ۔

سوال نمبر ۳۱ : اگر شوہر نے طلاق لکھ کر دی یا طلاق کی تحریر پر دستخط کئے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

جواب :  جس طرح زبانی طلاق ہوجا تی ہے اسی طرح تحریر ی طلاق بھی ہوجاتی ہے بلکہ اس میں متعدد صورتیں ہیں (۱)خود طلاق کا مضمون تحریر کیا (۲) دوسرے کو مضمون تحریر کرنے کا کہا(۳)دوسرے نے اپنی طرف سے طلاق کاکاغذ لکھا شوہر نے کاغذ پڑھ کر یا مفہوم جان کررضا مندی کا اظہار کر دیا یا دستخط کردیے (۴)پڑھوا کر تو نہیں سنا مگر یہ معلوم تھا کہ اس میں میری بیوی کو طلاق دی گئی ہے اس پر رضامندی کر دی یادستخط کر دیئے۔ ان تمام صورتوںمیں رضامندی کا اظہار کیا یادستخط کئے یا انگوٹھا لگا یا طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور تحریر ی طلاق میں لکھ دینے سے ہی یا لکھے ہوئے پر دستخط کرنے تھے تو دستخط کرتے ہی طلاق ہوجائے گی ۔ وہ کاغذ عورت تک پہنچے یا نہ پہنچے ۔اور خواہ یہ خود یا کوئی اور وہ کاغذ پھاڑ دے ۔ البتہ اگر تحریری طلاق کے الفاظ یہ ہوں ’’ میرا یہ خط جب تجھے پہنچے تو تجھے طلاق ہے ۔ تو عورت کو جب تحریر پہنچے گی اس وقت طلاق ہوگی ۔ عورت چاہے پڑھے یا نہ پڑھے ۔ او ر اگر اُسے تحریر پہنچی ہی نہیں مثلاً شوہر نے مذکورہ الفاظ تولکھ دیے مگر وہ تحریر بھیجی نہیں یا پھاڑ دی یا راستے میں گم ہوگئی یا عورت کے باپ یا بھائی یا کسی اور رشتے دار کو پہنچی اُس نے عورت تک پہنچنے سے پہلے ہی پھاڑ کر پھینک دی تو ان سب صورتوں میں طلاق نہ ہوگی ۔ البتہ اگر یہ تحریر لڑکی کے باپ کو پہنچی اور اس نے وہ تحریر پھاڑدی تو اگر لڑکی کے تمام کاموں میں باپ تصرف کرتا ہے اور وہ تحریر اُس شہر میں باپ کو ملی جہاں لڑکی رہتی ہے تو طلاق ہوگئی ورنہ نہیں ۔

سوال نمبر  ۳۲ : اگر مرد نے عورت کو تنہائی میں تین طلاقیں دیں او ر اب انکار کرتا ہے تو عورت کیا کرے ؟

جواب : شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیں پھر انکار کرے اور عورت کے پاس گواہ نہ ہوں تو جس طرح ممکن ہو عورت اُس سے پیچھا چھڑائے مہر معاف کرکے یا اپنا  مال دے کر اس سے علیحدہ ہوجائے ۔ غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح مرد نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے ۔ مگر ہر وقت اِسی فکر میںرہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کوشش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے ۔ یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے عورت جب ان باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اورشوہر بہرحال گناہگار ہے ۔

سوال نمبر ۳۳ : عورت کو جب طلاق ہوجائے ۔تو وہ کیا کرے ۔کیا طلاق کے بعد بھی شوہر کے ذمہ عورت کے کچھ حقوق رہتے ہیں ؟

جواب : عورت کو جب طلاق ہوجائے تو وہ عدت گزارے گی اور شوہر کے ذمہ عدت کے دوران عورت کو رہائش اور خرچہ دینا لازم ہے ۔ عورت اسی مکان میں عدت گزارے گی جس میں طلاق کے وقت شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی ۔اگر کسی اور جگہ عورت گئی ہوئی تھی تو اطلاع ملتے ہی شوہر کے گھر پہنچ جائے ۔

سوال نمبر ۳۴ : -عورت عدت کیسے گزارے گی ؟

جواب : اگر عورت کو طلاق رجعی ہوئی ہے تو عورت عدت میں بناؤ سنگھار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کواس کے رجوع کرنے کی امید ہو۔ اور اگر شوہر موجود نہیں یا عورت کو شوہر کے رجوع کرنے کی امید نہیں ۔ تو زینت نہ کرے ۔ اور شوہر کا رجوع کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ بھی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ جائے اور جب عورت کے مکان میں جائے تو خبر دیدے یا کھنکھار کر جائے یا اس طرح کہ عورت جوتے کی آواز سُنے۔   

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن