دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Talaq kay Aasan Masail | طلاق کے آسان مسائل

book_icon
طلاق کے آسان مسائل

واقع ہوگی اور اس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کے بعد دونوں صورتوں میں اگر مرد و عورت دونوں نکاح کرلیں تو رجوع ہوجائے گا ۔اس میں حلالہ کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اس صورت میں عورت سے نکاح کے لئے اس کی اجازت و رضامندی ضروری ہے اگر وہ راضی نہ ہو تو نکاح نہیں ہوسکتا ۔ یونہی اگر عورت کو ایک یا دو طلاقیں رجعی دی تھیں اور شوہر نے عدت میں رجوع نہ کیا حتی کہ عدت گزر گئی تو اب نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا ۔ تب رجوع ہوگا اور ایسی صورت میں عورت کی رضا مندی ضروری ہے ۔ اگر وہ راضی نہیں تو شوہر تنہا رجوع نہیں کرسکتا ۔(رد المحتار ۵/ ۴۰)

سوال نمبر۲۲ : شوہر اگر عورت سے رجوع کرے تو اب اُسے کتنی طلاقوں کا حق حاصل ہوگا؟

جواب : اگر شوہر نے ایک طلاق کے بعد رجوع کیا تو دو طلاقوں کا اختیار ہے اور اگر دو طلاقوں کے بعد رجوع کیا تو ایک طلاق کا اختیار ہے ۔ یعنی زندگی میں اُسے تین طلاقوں کااختیار ہے اگر ایک طلاق چالیس سا ل پہلے بھی دی تو وہ بالکل ختم نہ ہوجائے گی دوبارہ اگر طلاق دی تو وہ دوسری شمار کی جائے گی پھر اگر چہ ستر سال بعد طلاق دے وہ تیسری شمار کی جائے گی اور وہ عورت اس مرد پر حرام ہوجائے گی ۔ البتہ اگر بالفرض ایک یا دو طلاقوں کے بعد عورت نے کسی او ر مرد سے شادی کرلی پھر اُس مرد نے بھی جماع کے بعد طلاق دیدی تو اب اگر وہ عورت پہلے شوہر سے نکاح کرے تو اُسے نئے سِرے سے تین طلاقوں کا اختیار حاصل ہوجائے گا ۔(فتاویٰ رضویہ و شامی و عالمگیری)

سوال نمبر۲۳ : جس عورت کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی اُسے طلاق دی تو کیا حکم ہے؟

جواب : جس عورت کی رخصتی نہیں ہوئی یعنی اس کے ساتھ ایسی تنہائی میّسر نہ ہوئی کہ جس میں وہ اس سے جماع کرسکے اگر اس سے پہلے طلاق دی تو واقع ہوجائے گی البتہ جس عورت سے خلوت ہوچکی اُس میں اور اِس غیر مدخولہ (جس سے خلوت نہ ہوئی) میں یہ فرق ہے ۔ کہ غیر مدخولہ کو اگر اکٹھی تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہوجائیں گی یعنی یوں کہا ’’ تجھے تین طلاق ‘‘ اور اگر کہا تجھے دو طلاق تو دو واقع ہوں گی۔ اور اگر ایسی عورت کو یوں طلاقیں دیں تجھے طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا تجھے طلاق ، طلاق ، طلاق یا کہ تجھے طلاق ہے ایک اور ایک او رایک (تین مرتبہ) یعنی ایسی تمام صورتیں جن میں طلاق کے الفاظ کی صرف تکرار کرے تین طلاقیں نہ کہے تو صرف ایک طلاق واقع ہوگی اور باقی لغو قرار دی جائیں گی ۔ اور خلوت و تنہائی سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں مقرر کردہ مہر کا نصف دیا جائے گا مثلاً د س ہزار روپے مقرر ہوا تو پانچ ہزار دیاجائے گا ۔اور اگر مقرر ہی نہ کیا گیا تھا ۔تو ایک جوڑا دینا واجب ہے ۔اگر میاں بیوی دونوں مالدار ہوں تو جوڑا اعلی درجے کا اور اگر دونوں محتاج ہوں تو جوڑا معمولی قسم کا اور اگر ایک مالدار اور دوسرا محتاج ہوتو درمیانے درجے کا جوڑا دینا واجب ہے ۔

سوال نمبر۲۴ : وہ کون سی طلاق ہے جس کے بعد حلالہ کے سوا چارہ نہیں ؟

جواب : اگر شوہر نے بیوی کو تین طلاقیںدے دیں تو بغیر حلالہ کے چارہ نہیں ۔خواہ یکبارگی تین طلاقیں دیں یا جدا جدا کرکے ۔ ہر صورت میں اب بغیر حلالہ کے کوئی صورت دوبارہ نکاح میں آنے کی نہیں ۔فرمان باری تعالیٰ ہے ۔

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ

ترجمہ کنزالایمان :  پھر اگر (شوہر نے)تیسری طلاق اسے(عورت کو) دی تو اب وہ عورت اسے (پہلے شوہر کیلئے) حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔(البقرۃ۲۳۰)

 اور یہی بات بخاری و مسلم او دیگر کتب احادیث میں نبی کریم رؤف رّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک صحابی حضرت رفاعۃ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی سے فرمائی ۔

سوال نمبر۲۵ : -خواہ مخواہ حلالہ کروانا کیسا ہے ؟

جواب : حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم رؤ ف رّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا اس پر لعنت فرمائی ۔(مشکوٰۃ شریف)

سوال نمبر۲۶ : حلالہ کی کیا صورت ہے کہ جس میں گناہ نہ ہو ؟

جواب : اگر نکاح میں حلالہ کی شرط نہ رکھی جائے تو گناہ نہیں مثلاً کوئی قابلِ اعتماد آدمی ہے اس کے سامنے ساری صورت حال بیان کردی جائے تو وہ عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرلے اور نکاح میں حلالہ کی شرط نہ رکھی جائے پھر وہ آدمی نکاح کے بعد جماع کرکے طلاق دیدے تو اس میں کوئی کراہت نہیں بلکہ اگر اچھی نیت ہے تو اجر کا مستحق ہے پھر پہلا شوہر عورت کی عدت گزرنے کے بعد اس سے نکاح کرلے۔(بہار شریعت ۸/ ۷۲)

سوال نمبر۲۷ : کیا ایک وقت میں تین طلاقیں دی جاسکتی ہیں ؟

جواب : ایک وقت میں تین طلاقیں دینا گناہ ہے ۔چنانچہ نسائی شریف میں حدیث ہے حضرت محمود بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں ، کہ نبی کریم رؤف رّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی خدمت میں ایک شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدی تھیں تو نبی کریم رؤف رّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انتہائی جلال میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا وہ شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب کے ساتھ کھیلتا ہے حالانکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں حتی کہ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا۔ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا میں اُسے قتل کردوں۔  

(مشکوٰ ۃ ۴ ۲۸)

        لہذا تین طلاقیں اکٹھی نہ دی جائیں کہ گناہ ہیں البتہ اگر کسی نے تین طلاقیں اکٹھی دے دیں تو یقینا واقع ہوجائیں گی ۔ جیسا کہ مذکورہ بالاحدیث میں موجود ہے ۔اس مسئلے کی تفصیل کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہوتی ہیں کتبِ علمائے اہلسنت میں موجود ہے نیز اس کے لئے دارالافتاء اہلسنت کنزالایمان مسجد بابری چوک (گرومندر ) کراچی سے بھی تفصیلی مدلّل فتوی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

سوال نمبر۲۸ : کیا تین طلاقوں کے بعد خاندان کے بڑے لوگ صلح کرواسکتے ہیں اگر نہیں تو جو لوگ غیر مقلدین سے فتوی لیکر دوبارہ سابقہ بیوی کو گھر میں رکھ لیتے ہیں ان کے بارے میں شریعت کا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن