دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Talaq kay Aasan Masail | طلاق کے آسان مسائل

book_icon
طلاق کے آسان مسائل

قتل یا عضو کاٹ دینے کی دھمکی یا دھوکے سے نشہ پلا دیا یا حالت اضطرار میں مثلاً پیاس سے مررہا تھا اور کوئی حلال شے پینے کو نہ تھی تو ایسی حالت میں شراب وغیرہ نشہ کی چیز پی اور اس کے نشے میں طلاق دی تو واقع نہ ہوگی اورنیند میں دی جانے والی طلاق بھی واقع نہ ہوگی ۔

سوال نمبر۱۳ :  اگر محض ڈرانے ، دھمکانے کی نیت سے طلاق دی تو واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب : طلاق دینے میں طلاق کی نیت کرنا ضروری نہیں ۔ زبا ن سے طلاق کے الفاظ ادا ہوگئے تو طلاق ہوجائے گی ۔خواہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق سے یا ڈرانے دھمکانے کی نیت سے حتی کہ اگر زبان سے کوئی اور لفظ کہنا چاہتا ہو اور طلاق کے الفاظ نکل جائیں یا لفظِ طلاق بولا مگر اُس کے معنی نہیں جانتا یا بھول کر یا غفلت میں طلا ق دی ہر صورت میں طلاق ہو جائے گی ۔لہذا عام طور پر لوگ جو عذر پیش کرتے ہیں کہ ہماری نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ صرف ڈرانا مقصود تھا اس کا کچھ اعتبار نہیں ۔

سوال نمبر ۱۴ : اگر کوئی نابالغ یا پاگل طلاق دیدے یا لڑکی نا بالغہ یا پاگل ہو تو اس صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے ؟

جواب : نابالغ او ر پاگل نہ خود طلاق دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرف سے ان کے ولی (سرپرست) دے سکتے ہیںاور یہ طلاق واقع بھی نہ ہوگی کیونکہ طلاق کے لئے شوہر کا عاقل ، بالغ ہونا شرط ہے البتہ اگر لڑکی نابالغہ یا پاگل ہے لیکن طلاق دینے والا عاقل و بالغ ہے تو طلاق ہوجائے گی ۔ نابالغ لڑکے کا باپ جس طرح اپنے بیٹے کا نکاح کرسکتا اس طرح طلاق نہیں دے سکتا ۔

سوال نمبر ۱۵ : اگر طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا تو طلاق کب واقع ہوگی ؟

جواب : اگر طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا مثلاً شوہر نے بیوی سے کہا اگر تو فلاں رشتے دار کے گھر گئی تو تجھے طلاق ہے ایسی صورت میں اگر عورت اُس رشتے دار کے گھر گئی تو طلاق پڑجائے گی لیکن طلاق اتنی ہی پڑیں گی جتنی اس نے کہیں مثلاً مذکورہ مثال کی صورت میں اُس رشتے دارکے گھر جانے سے ایک طلاق رجعی پڑ جاتی ہے اور اگر دو یا تین کو معلق کرتا تو اتنی طلاقیں ہی پڑتیں جتنی اس نے کہی تھیں ۔

سوال نمبر ۱۶ : اگر کوئی غصے میں اپنی بیوی کو والدین یا کسی اور عزیز کے ہاں جانے سے منع کردے اور کہے اگر فلاں کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق ۔لیکن بعد میں اس پر پچھتائے اور والدین سے ملنے کی اجازت بھی دینا چاہے تو کیا کرے جس سے عورت والدین کے گھر جا بھی سکے اور تین طلاق بھی نہ ہوں؟

جواب : شوہر کو چاہیے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدت گزرنے کے بعد عورت والدین وغیرہ کے گھر جائے پھر شوہر ا س سے نئے سِرے سے نکاح کرلے اب اگر عورت اس سابقہ ممنوعہ گھر جائے گی تو کوئی طلاق نہ ہوگی ۔ لیکن یہ طریقہ اسی وقت کارآمد ہے۔ جب شوہر پہلے زندگی میں دو طلاقیں نہ دے چکا ہو اگر پہلے دو طلاقیں دے چکا تھا تو اب ہر گز طلاق نہ دے کہ اس صورت میں تیسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی ۔ تو جس شے سے چھٹکارے کا ارادہ تھا اُسی میں پھنس جائے گا ۔ اور تین طلاق کی صورت میں حلالہ کے بغیر رجوع نہ ہوسکے گا ۔(بہار شریعت ۸/ ۴۴)

سوال نمبر ۱۷ : کیا طلاق کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے جس سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے ؟

جواب : شوہر کے وفات پانے سے عورت کا نکاح سے نکل جانا تو واضح ہے البتہ اگر معاذاﷲ شوہر مرتد یعنی کافر ہوجائے تو بھی نکاح ختم ہوجاتا ہے اور عورت عدت گزارکر جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ آجکل یہ صورت بھی مشاہدے میں آئی ہے ۔ کہ لوگ قرآن مجید یا کسی شرعی مسئلے کو جانتے ہوئے بُرا کہہ دیتے ہیں یا دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں پر مطلع ہوکر اوران پر شرعی حکمِ کفر جان کر بھی ان عبارتوں کے قائلین کو مسلمان کہتے ہیں یا کم ازکم کافر ماننے سے انکار کردیتے ہیں ۔ایسی صورت میں بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور عورت عدت گزار کر جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ جن دیوبندیوں کو کافر جاننا ضروری ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے کفریہ عبارتیں کہیں مثلاً اشرفعلی تھانوی وغیرہ اور وہ لوگ کافر ہیں جو ان عبارتوں پر مطلع ہو کر بھی انہیں مسلمان جانتے ہیں ۔آجکل کے وہ دیوبندی جن کو عقائد کا پتہ ہی نہیں انہیں کافر نہیں کہیں گے ۔(فتاوی رضویہ ۴/ ۳۶۶،   بہار شریعت ۷/ ۸۳ )

سوال نمبر۱۸ : طلاق کے لئے کون سا لفظ بولا جائے ؟

جواب : طلاق کے لئے ہمیشہ ایک طلاق کا لفظ بولنا چاہیے۔ تین طلاقیں یکبار گی ہرگز نہ دیں ۔لہذا طلاق دینی ہو تو یہ لفظ کہیں ’’ میں نے تجھے طلاق دی ‘‘یا کہے ’’میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ‘‘ یا بیوی کا نام مثلاً ہندہ ہے تو کہے ’’ میں نے ہندہ کو طلاق دی ‘‘ تین طلاق کا لفظ ہرگز نہ کہیں ۔

سوال نمبر ۱۹ : وہ کونسی طلاق ہے جس کے بعد رجوع ہوسکتا ہے ؟

جواب : اگر بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو شوہر رجوع کرسکتا ہے لیکن اس کی صورت یہی ہے کہ شوہر نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں رجعی دی ہوں۔ مثلاً یوں کہا تھا میں نے تجھے طلاق دی یا یوں کہا تھا ’’ میں نے تجھے دو طلاقیں دیں‘‘ یا ایک طلاق پہلے کبھی زندگی میں دی تھی اور ایک طلاق اب دی تو یہ دوسری طلاق ہوئی اب بھی رجوع ہوسکتا ہے۔(شامی ۵/ ۲۳)

سوال نمبر۲۰ : رجوع کا کیا مطلب ہے اور اس کا کیا طریقہ ہے ؟ اور اس میں عورت کا راضی ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟   

جواب : رجوع یا رجعت کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاقِ رجعی یعنی ایک یا دو طلاقیں دیں عدت کے اندر اُسے اُسی پہلے نکاح پر باقی رکھنا ۔ رجعت کا طریقہ یہ ہے کہ دو عادل گواہوں کے سامنے کہے ۔ ’’ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا یا میں نے اُسے واپس لیا یا روک لیا ‘‘ اگر گواہوں کے سامنے نہ ہو تو بھی رجوع ہوجا تا ہے ۔ رجوع کا دوسرا طریقہ یہ ہے ۔مرد بیوی سے جماع کرلے یا شہوت کے ساتھ بوسہ لے یا شہوت سے بدن کو چھُولے وغیرھا ۔رجوع میں عورت کا راضی ہونا ضروری نہیں اگر چہ وہ انکار بھی کرے تب بھی شوہر کے رجوع کرلینے سے رجوع ہوجائے گا۔

سوال نمبر۲۱ :  وہ کون سی طلاق ہے جس کے بعد دوبارہ نکاح کی ضرورت ہوتی ہے؟

جواب : ایسی طلاق کو طلاقِ بائن کہتے ہیں ۔ مثلاً شوہر صریح الفاظِ طلاق نہ کہے بلکہ یوں کہے تو مجھ پر حرام ہے یا طلاق کی نیت سے کہے ’’میں نے تجھے آزاد کیا یانکل یا چل یا جا یا دفع ہویا شکل گم کر یا اور شوہر تلاش کر یا چلتی نظر آیا بستر اٹھا ‘‘وغیرھا کے الفاظ کہے یا طلاق کے الفاظ ہی یوں کہے ’’تجھے سب سے گندی طلاق یا سب سے سخت طلاق ‘‘ اس قسم کے الفاظ کہے تو اس صورت میں طلاق بائن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن