30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس طرح لباس پردہ ہے عیوب کو چھپاتا ہے، زینت ہے حسن و جمال کو نکھارتا ہے۔ راحت ہے سردی و گرمی سے بچاتا ہے بعینہ، میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے پردہ، زینت اور راحت ہوں اور یوں ملت اسلامیہ کا ہر گھر جنت نظیر بن جائے۔ اسکے برعکس اگر عدم موافقت و مخالفت کی کیفیت پیدا ہو جائے یا باہمی منافرت جنم لے تو ارباب حل و عقد اس اختلاف و عدم اتفاق کی بیخ کنی کی بھرپور سعی کریں۔ اور انہیں ذہنی طور پر یکجا کریں کیونکہ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ابتداء عدم موافقت اور پھر باہمی منافرت و تنازعات کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پاکیزہ رشتہ قائم رکھنا مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ رشتہ ازدواج قائم رہے لیکن جب قوی اندیشہ ہو کہ عدم موافقت کی وجہ سے وہ باہم حدو د اللہ قائم نہ رکھ سکیں گے اور نکاح کے فوائد و ثمرات فوت ہو جائیں گے تو اسلام نے طلاق اور اسکے متعلقات کا ایک ایسا مربوط نظام عطا فرمایا ہے کہ جس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں ، ان میں بھی انسان کی فوز و فلاح پوشیدہ ہے مگر افسوس عوام الناس ، اپنی لا علمی و جہالت کی وجہ سے اس نظام کے چشمۂ صافی سے سیراب ہونے سے محروم ہیں۔ طلاق کے ہتھیار کو بے دریغ استعمال کرنے کی وجہ سے معاشرے کا امن و سکون اور اعلی اقدار روبہ زوال ہیں۔ معاشرتی زندگی میں سخت بے چینی واضطراب ہے۔ دلخراش اور جذبات کو لہو لہان کرنے والے بیسیوں واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے اور روح پر غم و اندوہ چھا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسائل طلاق کو عام فہم اندا ز میں عوام الناس میں پیش کیا جائے ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ! اس معاشرتی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے رب کائنات عزوجل کے کرم اور محبوب کریم صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم کے طفیل برادرِ محترم مفتی محمد قاسم قادری صاحب نے، اللہ تَعَالٰی ان کے علوم اور فیوض و برکات میں اضافہ فرمائے ، مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے اس نظام کو متعارف کر وانے کیلئے یہ کتاب تالیف فرمائی جو کہ آسان ، عام فہم اور انتہائی سلیس انداز میں ہونے کے باوجود ربط و روانی، فقہی گہرائی و گھرائی اور جامعیت کو اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے۔
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کتاب پر عمل کرنے سے طلاق کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں نفرت و عداوت کا جو رستا ہوا ناسور قلق اور افتراق کے جراثیم پھیلا رہا ہے اس کیلئے مر ہم کا کام دے گی۔ دعاہے کہ اللہ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ بے کس پناہ میں یہ کتاب مقبول ہو اور مسلمانوں کیلئے مفید ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
محمد نعیم العطاری المدنی
۹ جمادی الاوّل ۱۴۲۴ھ بمطابق ۸ جولائی ۲۰۰۳ء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
سوال نمبر ۱ : ایک شادی شدہ آدمی کو طلاق کے مسائل سیکھناضروری ہیں یا نہیں ؟
جواب : ہر شخص کو ان مسائل کا سیکھنا ضروری ہے جس کی اُسے موجودہ وقت میں ضرورت اور جن چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے مثلاً نمازی کے لئے نماز کے فرائض، واجبات اور نماز کو فاسد یا ناقص کرنے والی چیزوں کا سیکھنا ضروری ہے ۔ یونہی روزہ رکھنے والے کے لئے روزہ کو توڑنے والی چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ تجارت کرنے والے کے لئے خرید و فروخت کے مسائل جاننا ضروری ہے ۔ عورتوں کے لئے حیض و نفاس اور شوہر کے حقوق کے متعلق مسائل جاننا ضروری ہے۔ اور شوہر کے لئے بیوی کے حقوق اور مخصوص ایام میں اس کے قریب جانے کے مسائل سیکھنا ضروری ہے ۔ اسی طرح طلاق کے مسائل ہیں۔ کہ جب تک طلاق کا موقع نہیں آیا تب تک طلاق کے مسائل سیکھنا ضروری نہیں لیکن جب طلاق کا ارادہ ہو اس وقت ضروری ہے کہ طلاق کے مسائل سیکھے کہ طلاق کس طرح دے ؟ کن حالات میں طلاق دینا جائز ہے ؟ کتنی طلاقیںدینا جائز ہیں ؟ طلاق کے اور مسائل کیا ہیں ؟ وغیرہ لہذا جو شخص بھی طلاق کا ارادہ کرے تو اس وقت اُسے طلاق کے مسائل جاننا ضروری ہیں ۔ اور اس سے پہلے مستحب ہیں کہ موجودہ حاجت سے زائد مسائل کا سیکھنا مستحب ہے ۔(خلاصہ ازفتاوی رضویہ غیر مخرجہجلد دہم ؍۱۰ ص ۱۶)
سوال نمبر ۲ : کیا بلا وجہ عورت کو طلاق دینا جائز ہے ؟
جواب : بلا ضرورت عورت کو طلاق دینا جائز نہیں آج کل معمولی معمولی باتوں پر عورت کو طلاق دے دیتے ہیں اور بعد میں علمائے کرام کے پاس جاکر روتے ہیں۔ پہلے ہی سوچ سمجھ کر ایسا نازک فیصلہ کرنا چاہیے ۔ابوداؤد شریف میں حدیث پاک ہے ’’اﷲعزّوجل کی بارگاہ میں سب سے ناپسندیدہ حلال کام طلاق دینا ہے۔ (مشکوۃ ص ۲۸۳) امام اہلسنت ، اعلحضرت امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ جلد ۵ کتاب الطلاق کے صفحہ نمبر ۱ پر اور صدر الشریعۃ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے فتاوی امجدیہ ۲؍۱۶۴ پر بلا ضرورت طلاق دینے کو ممنوع و گناہ قرار دیا ہے۔
سوال نمبر ۳ : کیا عورت کے لئے طلاق کا مطالبہ کرنا جائز ہے ؟
جواب : اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہے اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے ۔ توعورت شوہر کے ساتھ خلع کرکے طلاق لے سکتی ہے لیکن شوہر کی طرف سے کسی قسم کی اذیت کے بغیر عورت کا اس سے طلاق کا مطالبہ حرام ہے چنانچہ حدیث مبارک میں ہے ۔ ’’ جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر شدید ضرورت کے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔(مشکوۃ ص ۲۸۳)آجکل عورتیں اعلیٰ قسم کا کھانا نہ ملنے پر ، میک اَپ کا سامان نہ ملنے پر ، رشتے داروں کے ہاں جانے کی اجازت نہ ملنے پر ، مشترکہ گھر میں جدا کمرہ ملنے کے باوجود علیحدہ گھر کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر اور اسی قسم کی دیگر معمولی معمولی باتوں پر طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں یہ ناجائز و گناہ ہے اور ایسی عورتیں مذکورہ بالا وعید کی مستحق ہیں ۔اور ایسے ہی وہ ماں باپ اور بہن بھائی اور دیگر رشتے دار جو عورت کو مذکورہ وجوہات کی بنا پر طلاق لینے پر ابھارتے ہیں اور شوہر کو دھمکاتے اور اس سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں اور عورت کو جبراً گھر (میکے ) میں بٹھالیتے ہیں وہ سب بھی اس گناہ او روعید میں شریک ہیں ۔اور بعض احادیث میں بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورتوں کو منافقہ قرار دیا ہے ۔
سوال نمبر ۴ : کیا عورت بذاتِ خود کورٹ سے طلاق لے سکتی ہے ؟
جواب : طلاق کااختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے ۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا طلاق نہیں دے سکتا ۔ آیت مبارکہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع