30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ذریعے یا اللہ تَعَالٰی کے عَفْو و کرم سے پاک و صاف ہو کر جنّت میں داخِل ہو گا۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، باب الغضب والکبر، ج۸، ص۸۲۸، ۸۲۹)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اِس تَکَبُّر کا کیا حاصل !
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ذرا سوچئے کہ اِس تَکَبُّر کا کیا حاصل!محض لذّتِ نفس، وہ بھی چند لمحوں کے لئے!جبکہ اِس کے نتیجے میں اللہ ورسول عزوجل وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ناراضی، مخلوق کی بیزاری، میدانِ محشر میں ذلّت ورُسوائی ، رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اِنعاماتِ جنّت سے محرومی اور جہنَّم کا رہائشی بننے جیسے بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے !اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ چندلمحوں کی لذّت چاہئے یاہمیشہ کے لئے جنت !میدانِ محشر میں عزّت چاہئے یا ذلّت !یقیناً ہم خسارے(یعنی نقصان) میں نہیں رہنا چاہیں گے توہمیں چاہئے کہ اپنے اندر اِس مرضِ تَکَبُّر کی موجودگی کا پتا چلائیں اور اِس کے عِلاج کے لئے کوشاں ہوجائیں ۔ہر باطِنی مرض کی کچھ نہ کچھ علامات ہوتی ہیں ، آئیے !سب سے پہلے ہم تَکَبُّر کی علامات کے بارے میں جانتے ہیں پھر سنجیدگی سے اپنا مُحَاسَبَہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یاد رہے! تَکَبُّر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اِصلاحہو نہ کہ دیگر مسلمانوں کے عُیُوب جاننے کی جستجو، خبردار!اپنی ناقِص معلومات کی بنا پرکسی بھی مسلمان پر خواہ مخواہ مُتَکَبِّر ہونے کا حکم نہ لگائیے ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرّحمٰن فرماتے ہیں : لاکھوں مسائل واحکام، نیّت کے فرق سے تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
(فتاوٰ ی رضویہ ، ج۸، ص۹۸)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اِن علامات کومحض ایک مرتبہ پڑھنا اور سرسری طور پر اپنا جائز ہ لے لینا ہی کافی نہیں کیونکہ نفس وشیطان کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم ان علامات کو اپنے اندر تلاش کرکے تَکَبُّر کا عِلاج کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، لہٰذا ! علاماتِ تکبر کو بار بار پڑھ کرخوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے پھر اپنا مسلسل مُحَاسَبَہ جاری رکھئے تو کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے گی ،
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
’’تکبر جہنم میں لے جائے گا ‘‘ کے19 حُرُوف کی نسبت سے تَکَبُّر کی 19علامات
پہلی علامت : اِس بات کو پسند کرنا کہ لوگ مجھے دیکھ کرتعظیماًکھڑے ہو جائیں تاکہ دوسروں پر میری شان وشوکت کااِظہارہو۔(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۸۳)
مُحَاسَبَہ : کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں ؟
مَدَنی پھول : اگر کوئی لوگوں کے کھڑے ہونے کو اِس لئے پسند کرتاہے کہ کم عِلم (جاہِل) لوگوں کو اُس کی حیثیت کا عِلم ہوجائے اور وہ دین کے معاملے میں اُس کی نصیحت کو قبول کریں ، تکبر کا نام ونشان بھی دل میں نہ ہو تو ایسا شخص متکبر نہیں ہے کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، ہر آدمی کے لئے و ہی ہے جس کی اُس نے نیّت کی اورنیتوں کا حال اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے۔ مگر یہ بہت مشکل کام ہے لہٰذا ! ایسے شخص کو اپنے دل پر ایک سو بارہ بار غور کر لینا چاہئے ایسا نہ ہو کہ نفس وشیطان اُسے دھوکے میں مبتَلا کر کے ہلاکت کے جنگل میں پہنچا دیں ۔(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۸۳)
دوسری علامت : یہ چاہنا کہ اسلامی بھائی میری تعظیم کی خاطر میرے سامنے باادب کھڑے رہیں تاکہ لوگوں میں میرامقام ومرتبہ ظاہرہو۔(ایضاً)
مُحَاسَبَہ : کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں ؟
سیِّدُ الْمُرسَلین، خاتم النبین ، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس کی یہ خوشی ہو کہ لوگ میری تعظیم کے لیے کھڑے رہیں ، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔‘‘(جامع الترمذي، کتاب الادب، الحدیث : ۲۷۶۴، ج۴، ص۳۴۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ صاحبِ قراٰنِ مُبین، محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِین، جنابِ صادِق و اٰمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعصا پر ٹیک لگا کر باہَر تشریف لائے۔ ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے کھڑے ہوگئے۔ ارشاد فرمایا : ’’اِس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عَجَمی کھڑے ہوا کرتے ہیں کہ ان کے بعض، بعض کی تعظیم کرتے ہیں ۔‘‘
(سنن أبي داود، کتاب الادب، الحدیث ۵۲۳۰، ج۴، ص۴۵۸)
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 113پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : یعنی عجمیوں کا کھڑے ہونے میں جو طریقہ ہے وہ قَبیح و مذموم(یعنی بُرا) ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی مُمانَعت ہے، وہ یہ ہے کہ اُمَرا بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بروجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں ۔ دوسری صورت عَدَمِ جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو بُرا مانے جیسا کہ ہندوستان میں اب بھی بَہُت جگہ رَواج ہے کہ امیروں ، رئیسوں ، زمینداروں کے لئے اُن کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زَدو کَوب تک نوبت آتی ہے۔ ایسے ہی مُتَکَبِّرِین و مُتَجَبِّرِین (یعنی تکبر اور ظلم کرنے والوں )کے متعلِّق حدیث میں وعید آئی ہے اور اگر اُن کی طرف سے یہ نہ ہو بلکہ یہ کھڑا ہونے والا اس کو مستحقِ تعظیم سمجھ کر ثواب کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا تواضُع کے طور پر کسی کے لئے کھڑ ا ہوتا ہے تو یہ ناجائز نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے۔( بہارِ شریعت، حصہ ۱۶، ص۱۱۳)
حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ جب بنی قُرَیْظہ اپنے قَلْعے سے حضرت سیِّدُناسعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حکم پر اترے ، حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع