30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو گا سب کا بھلا، قافِلے میں چلو
کر کے ہمّت ذرا، قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
’’پناہِ خدا‘‘کے چھ حروف کی نسبت سے تَکَبُّر کے6 نقصانات
اِس باطِنی گناہ کے کثیر دنیوی واُخرَوی نقصانات ہیں ، جن میں سے 6یہ ہیں :
(۱) اللّٰہ تعالٰی کا ناپسندیدہ بندہ
رب ِ کائنات عَزَّوَجَلَّ تَکَبُّر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا جیسا کہ سورۂ نحل میں اِرشاد ہوتا ہے :
اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ (پ۱۴، النحل : ۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک وہ مغرور وں کو پسند نہیں فرماتا۔
شَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عبر ت نشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ مُتکبرین (یعنی مغروروں )اوراِتراکرچلنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے ۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث : ۷۷۲۷، ج۳، ص۲۱۰)
(۲)مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُتَکَبِّر کے لئے اِظہارِ نفرت
سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’بے شک قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے نزدیک اور پسندیدہ شخص وہ ہو گا جو تم میں سے اَخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو گا اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے قابلِ نفرت اور میری مجلس سے دُوروہ لوگ ہوں گے جو واہیات بکنے والے ، لوگوں کا مذاق اُڑانے والے اور مُتَفَیْہِق ہیں ۔‘‘ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! بے ہودہ بکواس بکنے والوں اورلوگوں کا مذاق اُڑانے والوں کو تو ہم نے جان لیا مگر یہ مُتَفَیْہِق کون ہیں ؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرشاد فرمایا : ’’اِس سے مراد ہر تَکَبُّر کرنے والا شخص ہے۔‘‘ (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، الحدیث : ۲۰۲۵، ج۳، ص۴۱۰)
نہ اُٹھ سکے گا قیامت تلک خدا کی قسم
کہ جس کو تُو نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا
تَکَبُّر کرنے والے کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاِرشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحِب ِجُودو نَوالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرشاد فرمایا : ’’کیا میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ بداَخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ کمزور اورضَعیف سمجھا جانے والا بَوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اٹھالے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قسم ضَرور پوری فرمائے۔‘‘(المسندللامام احمد بن حنبل، الحدیث : ۲۳۵۱۷، ج۹، ص۱۲۰)
تَکَبُّر کرنے والوں کو قیامت کے دن ذلت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، چنانچِہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا، ہرجانب سے ان پر ذلّت طاری ہو گی، انہیں جہنم کے ’’ بُولَس‘‘ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیکر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں ’’طِیْنَۃُ الْخَبَالیعنی جہنمیوں کی پیپ ‘‘پلائی جائے گی۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء فی شدۃ …الخ، الحدیث : ۲۵۰۰، ج۴، ص۲۲۱)
(۵) ٹخنے سے نیچے پاجامہ لٹکانا
رحمتِ الہٰی سے محروم ہونے والوں میں متکبر بھی شامل ہوگا ، جیسا کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرشاد فرمایا : ’’جو تَکَبُّر کی وجہ سے اپنا تہبندلٹکائے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قِیامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب من جرثوبہٗ من الخیلائ، الحدیث : ۵۷۸۸، ج۴، ص۴۶)
مَدَنی پھول : اعلی حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ’’ : پائچوں کا کَعْبَیْن (یعنی دونوں ٹخنوں )سے نیچا ہونا جسے عربی میں ’’ اِسْبَالْ‘‘ کہتے ہیں اگر براہِ عُجب وتکبر(یعنی خود پسندی اور تکبر کی وجہ سے) ہے تو قَطْعا ممنوع وحرام ہے اور اُس پر وعیدِ شدید وارِد، اور اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکمِ ظاہر احادیث مَردوں کو بھی جائز ہے۔مگر عُلَماء دَر صورتِ عدمِ تکبُّر (یعنی تکبر کے طور پر نہ ہونے کی صورت میں )حکمِ کراہت تَنزیہی دیتے ہیں ۔بِالْجُمْلَہ(یعنی خلاصہ یہ کہ) اِسْبَالْ اگر براہِ عُجب وتکبر ہے‘ حرام ورنہ مکروہ اور خلافِ اَولیٰ۔(ملخصًا ازفتاوی رضویہ ، ج۲۲، ص۱۶۴، ۱۶۷)
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہِدایتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا(یعنی تھوڑا سا) بھی تَکَبُّر ہو گا وہ جنّت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، الحدیث : ۱۴۷، ص۶۰)
حضرتِ علّامہ مُلّا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری لکھتے ہیں : جنت میں داخل نہ ہونے سے مُراد یہ ہے کہ تَکَبُّر کے ساتھ کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا بلکہ تَکَبُّر اور ہر بُری خصلت سے عذاب بھگتنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع