بندوں کے مقابلے میں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

(۳)بندوں کے مقابلے میں

        یعنی  اللہ  ورسول    عَزَّوَجَلَّ    وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر   تَکَبُّر کرنا ، وہ اِس طرح کہ اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اُس پربڑائی چاہنا اور مُساوات(یعنی باہم برابری) کو ناپسند کرنا، یہ صورت اگرچِہ پہلی دو صورَتوں سے کم تَر ہے مگر اِس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہِ حقیقی    عَزَّوَجَلَّ    ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجِزاور کمزور بندے کے ۔(احیاء العلوم، ج۳، ص۴۲۵ملخصًا)

 تَکَبُّر  کرنے والے کی مثال

          تَکَبُّر  کرنے والے کی مثال ایسی ہے کہ کوئی غُلام بغیر اِجازت بادشاہ کا تاج پہن کر اُس کے شاہی تخت پر بِرا جمان ہو جائے ، توجس طرح یہ غُلام بادشاہ کی طرف سے سخت سزا پائے گا بالکل اِسی طرح’’صفتِ کِبْر ‘‘میں شرکت کی مذموم کوشش کرنے والاشخص   اللہ    عَزَّوَجَلَّ    کی جانب سے سزا کا مستحق ہو گا ۔چنانچہ نبیِّ اکرم نُورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  رب    عَزَّوَجَلَّ    اِرشاد فرماتاہے : ’’کبریائی میری چادر ہے، لہٰذا جومیری چادرکے مُعامَلے میں مجھ سے جھگڑے گا میں اُسے پاش پاش کردوں گا۔ ‘‘

 (المستدرک للحاکم ، کتاب الایمان، باب اھل الجنۃ المغلوبون…الخ، الحدیث : ۲۱۰، ج۱، ص۲۳۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رب  تَعَالٰی کا کبریائی کو اپنی چادر فرمانا ہمیں سمجھانے کے لئے ہے کہ جیسے ایک چادر کودو نہیں اَوڑھ سکتے، یونہی عظمت وکبریائی سوائے میرے دوسرے کے لیے نہیں ہوسکتی۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح ، ج۶، ص۶۵۹)

انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کی پیدائش بدبودار نُطفے(یعنی گندے قطرے) سے ہوتی ہے انجامِ کار سڑا ہوا مُردہ ہے اور اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک ، پیاس، نیند، خوشی ، غم ، یادداشت، بیماری یا موت پر اسے کچھ اختیار نہیں ، اِس لئے اسے چاہئے کہ اپنی اصلیّت ، حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے، وہ اس دنیا میں ترقّیوں کی منزلیں طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام ومرتبے پر کیوں نہ پہنچ جائے ، خالقِ کون و مکاں  عَزَّوَجَلَّ  کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے، صاحبِ عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فِرعونیت ، قارونیت اورنَمرودیت والی راہ پکڑی ہے بسا اوقات  اللہ   تَعَالٰی نے اسے دنیا ہی میں ایساذلیل وخوار کیا ہے کہ اُس کا نام مقامِ تعریف میں نہیں بطورِ مذمت لیا جاتا ہے۔ لہٰذاعقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اِس دنیا میں اونچی پرواز کے لئے انسان جیتے جی پیوندِ زمین ہوجائے اور عاجزی و اِنکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے پھر دیکھئے کہ اللہ  ربُّ العزت اُس کو کس طرح عزت وعظمت سے نوازتاہے ا ور اُسے دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اُس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  عاشقانِ رسول کے میٹھے بول کی بَر کات

        دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ’’ فیضان سنت‘‘ جلد 2 کے 505 صَفحات پر مشتمل باب ، ’’ غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صَفْحَہ 223 پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : شہر قُصُور( پنجاب ، پاکستان) کے ایک نوجوان اسلامی بھائی کی تحریر بالتَّصَرُّف پیش کرتا ہوں :  ’’ میں اُن دنوں میٹرک کا طالبِ علم تھا، بُری صُحبت کے باعِث زندگی گناہوں میں بسر ہو رہی تھی، مزاج بے حد غُصیلا تھا اور بد تمیزی کی عادتِ بد اِس حد تک پَہنچ چکی تھی کہ والِدصاحِب کُجا داداجان اور دادی جان کے سامنے بھی قینچی کی طرح زَبان چلاتا۔ ایک روزتبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی قافِلہ ہمارے مَحَلّے کی مسجِد میں آ پہنچا ، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں عاشِقانِ رسول سے ملاقات کیلئے پَہنچ گیا۔ ایک اسلامی بھائی نے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھے درس میں شرکت کی دعوت پیش کی، ان کے میٹھے بول نے مجھ پر ایسا اثر کیا کہ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انہوں نے درس کے بعد انتِہائی میٹھے انداز میں مجھے بتایا کہ چند ہی روز بعد’’صحرائے مدینہ‘‘ مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کا تین روزہ بینَ الاقوامی سنّتوں بھرا اجتِماع ہو رہا ہے آپ بھی شرکت کر لیجئے۔ ان کے درس نے مجھ پر بَہُت اچّھا اثر کیا تھا لہٰذا میں انکارنہ کر سکا۔ یہاں تک کہ میں سنّتوں بھرے اجتِماع (صحرائے مدینہ، ملتان) میں حاضِر ہو گیا۔ وہاں کی رونَقَیں اور بَرَکتیں دیکھ کر میں حیران رَہ گیا ، اجتِماع میں ہونے والے آخِری بیان’’ گانے باجے کی ہَولناکیاں ‘‘سُن کر میں تھرّا اُٹھا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   میں گناہوں سے توبہ کر کے اُٹھا اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول  سے وابَستہ ہوگیا۔میری مَدَنی ماحول سے وابَستگی سے ہمارے گھر والوں نے اطمینان کا سانس لیا، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے مجھ جیسے بگڑے ہوئے بد اخلاق اور خَستہ خراب نوجوان میں مَدَنی انقِلاب سیمُتأَثِّر ہو کر میرے بڑے بھائی نے بھی داڑھی مبارک رکھنے کے ساتھ ساتھ عمامہ شریف کا تاج بھی سجا لیا۔ میری ایک ہی بہن ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   میری اکلوتی بہن نے بھی مَدَنی بُرقع  پہن لیا ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   گھر کا ہر فرد سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخِل ہو کر سرکارِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃُ اللہ  الاکرم کا مُرید ہو گیا۔اوراس انفِرادی کوشش کرنے والے میرے محسن اسلامی بھائی کے میٹھے بول کی برکت سے مجھ پر اللّٰہُ اعظم عزوجل نے ایسا کرم فرمایا کہ میں نے قراٰنِ پاک حِفظ کرنے کی سعادت حاصِل کرلی اور درسِ نظامی ( عالم کورس) میں داخِلہ لے لیا اور یہ بیان دیتے وقت دَرَجۂ ثالِثہ یعنی تیسری کلاس میں پَہنچ چکا ہوں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے تعلُّق سے عَلاقائی قافِلہ ذِمّہ دار ہوں ۔ میری نیّت ہے کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   شَعبانُ المُعظَّم  ۱۴۲۷ ھ سے یکمشت12ماہ کیلئے مَدَنی قافِلوں میں سفر کروں گا۔

دل پہ گر زنگ ہو، گھر کاگھر تنگ ہو،

ایسا فیضان ہو، حِفظ قراٰن ہو،

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن