30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شعبہ اِصلاحی کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ )
۶ ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۳۰ھ بمطابق 26اکتوبر 2009ء
تَکَبُّر کسے کہتے ہیں ؟
خُود کو افضل، دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تَکَبُّر ہے ۔چنانچہ رسولِ اکرم نُورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرشاد فرمایا : ’’ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِیعنیتکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نا م ہے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبروبیانہ، الحدیث : ۹۱، ص۶۱)
اِمام راغب اِصفہانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں : ذٰلِکَ اَن یَّرَی الْاِنْسَانُ نَفْسَہٗ اَکْبَرَ مِنْ غَیْرِہِ۔یعنی تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے۔ (المُفرَدات للرّاغب ص۶۹۷)
مدینہ : جس کے دل میں تَکَبُّر پایا جائے اُسے ’’مُتَکَبِّر ‘‘کہتے ہیں ۔
’’ مَکّہ‘‘ کے تین حُرُوف کی نسبت سے تَکَبُّر کی3 اقسام
(۱) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں تَکَبُّر
تکبر کی یہ قسم کُفر ہے، [1]؎ جیسے فِرعون کا تَکَبُّر کہ اُس نے کہا تھا :
اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ (پ۳۰، النّٰزعٰت : ۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان : میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں تو اللہ نے اُسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔
فرعون کی ہدایت کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ اورحضرتِ سیِّدُناہارون عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوبھیجامگراُس نے ان دونوں کوجھٹلایا تو رب عَزَّوَجَلَّ نے اُسے اوراُس کی قوم کودریائے نِیل میں غَرَق کردیا۔(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۴۹)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 853 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ صَفْحَہ132پر ہے : مفسرین کرام علیہم رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعون کو مرے ہوئے بیل کی طرح دریا کے کنارے پر پھینک دیا تا کہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے اوران پر یہ بات واضح ہو جائے کہ جو شخص ظالم ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جناب میں تَکَبُّر کرتا ہو اُس کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے کہ اسے ذلت واہانت کی پستی میں پھینک دیا جاتاہے ۔‘‘
(الزواجر عن اقتراف الکبائر(عربی) ، ج۱، ص۷۱)
نَمرُودبھی تَکَبُّر کی اِسی قسم کا شکار ہوا، اِس نے خدائی کادعوی کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نمرود کی طرف بھیجا تو اُس نے آپ علیہ السلام کو جُھٹلایا حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر تَکَبُّر کرتے ہوئے کہنے لگا : ’’میں آسمان کے رب کو قتل کردو ں گا (معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ ) اور اِس اِرادے سے آسمان کی طرف تیر بر سائے ، جب تیر خون آلُود ہ ہوکر واپس زمین پر آگرے تو اُس نے اپنی جہالت ، بغض وعداوت اور کُفرکی شامت کی وجہ سے گمان کیا کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
’’ اُس نے آسمان کے رب کوقتل کردیا۔‘‘ حتّٰی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نمرود کی طرف ایک مچھرکوبھیجاجو ناک کے ذریعے اُس کے دماغ میں گھس گیااور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس مغرورکوایک معمولی مچھر کے ذریعے ہلاک فرمادیا۔(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۴۹)
(۲) اللہ ربُّ العزت کے رسولوں کے مقابلے میں
اِس کی صورت یہ ہے کہ تَکَبُّر ، جہالت اوربغض وعداوت کی بنا پر رسول کی پیروی نہ کرنایعنی خود کو عزت والا اور بلند سمجھ کر یوں تَصَوُّر کرنا کہ عام لوگوں جیسے ایک انسان کا حکم کیسے مانا جائے ، جیسا کہ بعض کفّا رنے حضور نبی ٔکریم ر ء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے میں حَقا رت سے کہاتھا :
اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا (پ۱۹، الفرقان : ۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان : کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟
اور یہ بھی کہا تھا :
لُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (پ۲۵، الزخرف : ۱ ۳)
ترجمۂ کنزالایمان : کیوں نہ اُتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر ؟(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۵۰)
نبی کے مقابلے میں بھی تکبرکُفر ہے ۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح، ج۶، ص۶۵۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع