30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب کچھ جانتا ہے)کہ ’’تم کیوں روتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ ! ہم تیری خُفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں ۔‘‘ ربُّ العباد عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا : ’’تم اِسی حالت پر رہنا۔‘‘(الرسالۃ القشیریۃ، باب الخوف، ص۱۶۶ )
سَیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کی گِریہ وزاری
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل ں کو دیکھا کہ اِبلیسِ خَسِیس کے اَنجامِ بد سے عِبرت گِیر ہو کر کعبۂ مُشَرَّفہ کے پردے سے لپٹ کر نہایت گِریہ وزاری کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یہ دُعا کر رہے ہیں : ’’اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْ یعنی اے میرے اللہ ! اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ ! کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہلِ عطا کے زُمرے سے نکال کر اہلِ غضب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا ۔‘‘(منہاج العابدین ، ص۱۵۸ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ذرا سوچئے کہ تَکَبُّر کس قدر خطرناک باطِنی مرض ہے جس کی وجہ سے ’’مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فِرِشتو ں کے اُستاذ ‘‘کا رُتبہ پانے والے اِبلیس (شیطان)نے خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی اوراپنے مقام ومَنصَب سے محروم ہوکر جَہَنَّمی قرار پایا۔ اِبلیس کایہ اَنجام دیکھ کر جب حضرتِ سیِّدُنا جبرئیل ومیکائیل علیہما السلام جیسے مقرّب ومعصوم فرشتے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے اَشک بار ہوجائیں اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عافیت وسلامتی کی مُناجات (یعنی دُعائیں )کرنا شروع کر دیں تو ہم جیسے عِصیاں شِعاروں (یعنی گنہگاروں ) کو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بدَرَجۂ اَولیٰ ڈرنا چاہئے ! ؎
تِرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الہٰی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تَکَبُّر کا عِلْم سیکھنا فَرْض ہے
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اِس جدید سائنسی دور میں میڈیا (ذرائِعِ اِبلاغ) کی وُسعتوں نے ہر دوسرے شخص کو معلومات کا حریص بنا دیا ہے ، آج ہم اپنے اِرد گرد، اَڑوس پڑوس، مَحَلّے اور گاؤں ، شہر اور ملک، خِطّے بلکہ ساری دنیاکی معلومات حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں کہ فُلاں ملک میں الیکشن ہوئے تو کس سیاسی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ! فُلاں میچ کونسی ٹیم جیتی ! فُلاں جگہ زلزلہ یا طوفان آیا تو کتنے لوگ ہلاک ہوئے ! فُلاں ملک کا صدر ، یا فُلاں صُوبے کاگورنر کون ہے !وغیرہ وغیرہ مگر افسوس اِس کے مقابلے میں ہماری دینی معلومات عُمُوماً سطحی نوعیَّت کی ہوتی ہیں پھر اُن میں سے دُرُست کتنی ہوتی ہیں ؟ کوئی صاحبِ عِلم ہمارا امتحان لے تو پتا چلے۔ یادرکھئے ! دُنیوی معلومات کی کثرت پر ہمیں آخرت میں کوئی جزاملے گی نہ کم ہونے پر کوئی سزا!البتّہ بقدرِ ضرورت دینی معلومات نہ ہونا نقصانِ آخرت کا باعث ہے کیونکہ اِس جہانِ فانی(یعنی دُنیا) میں کی گئی نیکیاں جہانِ آخرت کی آباد کاری جبکہ گناہ بربادی کا سبب ہیں اورنیکیوں اور گناہوں کی پہچان کے لئے عِلمِ دین کا ہونا بہت ضَروری ہے۔ جہنم میں لے جانے والے گناہوں میں سے ایک تَکَبُّر بھی ہے جس کا عِلم سیکھنا فرض ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مجدّدِ دین وملّت ، پروانۂ شمع رِسالت مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 624 پر لکھتے ہیں : ’’ مُحَرَّمَاتِ باطِنِیَّہ(یعنی باطنی ممنوعات مَثَلاً) تَکَبُّر و رِیا وعُجب وحَسَد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات(یعنی عِلاج) کہ ان کا عِلم (یعنی جاننا)بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ مخرجہ، ج۲۳، ص۶۲۴)
اس لئے ہر اِسلامی بھائی اوراِسلامی بہن کو چاہیئے کہ پہلے تَکَبُّر کی تعریف، تباہ کاریاں ، اَقسام ، اَسباب، علامات اور عِلاج وغیرہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر کے دیانتداری کے ساتھ اپنا مُحَاسَبَہ کرے پھر اگر اِس باطِنی گناہ میں گرفتار ہونے کا اِحساس ہو توہاتھوں ہاتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور عِلاج کے لئے بھرپور کوششیں شروع کر دے ۔
مَخْزنِ جُودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’جوشخص تکبر، خِیانت اوردَین(یعنی قرض وغیرہ) سے بَری ہوکر مرے گا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب السیر، باب ماجاء فی الغلول، الحدیث۱۵۷۸، ج۳، ص۲۰۸)
اِس رِسالے میں تَکَبُّر کی معلومات کو قدرے آسان اندازمیں عنوانات کے تحت حوالہ جات کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ کم عِلم بھی اِس سے فائدہ حاصل کرسکیں ، پھر بھی عِلم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دشواریاں بالکل جاتی رہیں ، جو بات سمجھ میں نہ آئے، سمجھنے کے لئے علماء کرام دامت فیوضھم سے رُجوع کیجئے۔ تَکَبُّر سے نجات کا جذبہ پانے کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کیسٹ بیانات ’’مغرور بادشاہ‘‘، ’’تکبر کسے کہتے ہیں ؟‘‘، ’’تکبر کی علامات‘‘، ’’ تکبر کے اسباب‘‘ اورمبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شورٰی و نگران پاکستان انتظامی کابینہ حاجی محمدشاہد عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی کابیان ’’باطنی امراض کا عِلاج‘‘ سننابھی بے حد مفید ہے ۔
اس اہم رسالے کو نہ صرف خود پڑھئے بلکہ دیگر اِسلامی بھائیوں کوبھی پڑھنے کی ترغیب دے کر نیکی کی دعوت کو عام کرنے کا ثواب کمائیے۔ اللہ تَعَالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور’’ مَدَنی قافلوں ‘‘ کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع