30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) مکان کو ریشم، چاندی، سونے سے آراستہ کرنا مثلاً دیواروں ، دروازوں پر ریشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرینے سے سونے چاندی کے ظُرُوف و آلات(یعنی برتن اور اَوزار) رکھنا، جس سے مقصود محض آرائش و زیبائش ہو تو کراہت ہے اور اگر تَکَبُّر وتفاخُر سے ایسا کرتا ہے تو ناجائز ہے۔( ردالمحتار، ج۹، ص۵۸۵) غالِباً کراہت کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسی چیزیں اگرچِہ ابتدائً تَکَبُّر سے نہ ہوں ، مگر بالآخر عُموماً ان سے تَکَبُّر پیدا ہوجایا کرتا ہے۔(بہار شریعت، حصّہ ۱۶، ص۵۷)
(2) ریشم کا رومال ناک وغیرہ پونچھنے یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے کے لیے رکھناجائز ہے یعنی جبکہ اس سے پونچھنے کا کام لے، رومال کی طرح اُسے نہ رکھے اور تَکَبُّر بھی مقصود نہ ہو۔
( ردالمحتار، کتاب الحظر و الإباحۃ، ج۹، ص۵۸۷۔ ۵۸۸)
(3) ناک ، منہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے، اسی طرح پسینہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے اور اگر براہِ تَکَبُّر ہو تو منع ہے۔‘‘
(ا لفتاوی الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ، ج۵، ص۳۳۳)
(4) یہ شخص سواری پر ہے اور اِس کے ساتھ اور لوگ پیدل چل رہے ہیں ، اگر محض اپنی شان دکھانے اور تَکَبُّر کے لیے ایسا کرتا ہے تو منع ہے۔‘‘( الفتاوی الہندیۃ، ج۵، ص۳۶۰) اور ضرورت سے ہو تو حرج نہیں ، مثلاً یہ بوڑھا یا کمزور ہے کہ چل نہ سکے گا یا ساتھ والے کسی طرح اس کے پیدل چلنے کو گوارا ہی نہیں کرتے جیسا کہ بعض مرتبہ علما و مشایخ کے ساتھ دوسرے لوگ خود پیدل چلتے ہیں اور ان کو پیدل چلنے نہیں دیتے، اس میں کراہت نہیں جبکہ اپنے دل کو قابو میں رکھیں اور تَکَبُّر نہ آنے دیں اور محض ان لوگوں کی دلجوئی منظور ہو۔ ‘‘(بہار شریعت، حصّہ ۱۶، ص۲۴۰)
(5) قدرِ کفایت سے زائد اس لیے کماتا ہے کہ فُقَراء و مساکین کی خبر گیری کرسکے گا یا اپنے قریبی رشتے داروں کی مدد کرے گا یہ مستحب ہے اور یہ نفل عبادت سے افضل ہے ، اور اگر اس لیے کماتا ہے کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزّت ووقار میں اضافہ ہو گا، فخر و تَکَبُّر مقصود نہ ہو تو یہ مُباح ہے اور اگر محض مال کی کثرت یا تفاخُر مقصود ہے تو منع ہے۔‘‘
(الفتاوی الہندیۃ‘‘، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر في الکسب، ج۵، ص۳۴۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع