دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

آپ کو نمایاں جگہ پر بیٹھنے کی درخواست کی توقَبول کرنے میں حرج نہیں ۔امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ علی المرتضٰی کرم  اللہ   تَعَالٰی وجہہ الکریم کہیں تشریف فرماہوئے صاحِب خانہ نے حضرت کے لئے مسندحاضر کی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس پررونق افروز ہوئے اور فرمایا :  کوئی گدھا ہی عزّت کی بات قَبول نہ کرے گا۔ (فتاوٰی رضویہ ، ج۲۳، ص۷۱۹ )

(۱۳) گھر کے کام کیجئے

        اگر کوئی عُذْر نہ ہو توگھر کے چھوٹے موٹے کام خود کیجئے ۔گھر والوں کی ضرورت کا سامان اپنے ہاتھ سے اٹھا کر بازار سے گھر تک لائیے۔   

  گھرکے کام کاج کرناسنّت ہے

         اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہ رضی  اللہ   تَعَالٰی عنہاسے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ ’’سلطانِ مکۂ مکرمہ ، سردارِمدینہ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے کپڑے خودسی لیتے اوراپنے نعلین مبارک گانٹھتے اوروہ سارے کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں ۔‘‘( الجامع الصغیر، الحدیث۷۰۱۸، ص۴۳۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

چیزکا مالک اسے اٹھانے کا زیادہ حقدار ہے

        حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ بازار گیا۔ایک دکان سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے چار درہم کاپائجامہ خریدا، جب واپس پلٹے تو میں نے رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم سے پائجامے کو اس غرض سے پکڑا تاکہ اسے میں اٹھا لوں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے منع فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’چیزکا مالک اسے اٹھانے کا زیادہ حقدار ہے ہاں اگروہ کمزورہو، اسے اٹھانے سے عاجِز ہو تو اس کا اسلامی بھائی اسے اٹھانے میں اس کی مدد کرے۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر، باب ما ورد فی شعرہ …الخ، ج۴، ص۲۰۵ ملتقطا)

لکڑیوں کا گٹھّا

        حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ  بن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ اپنے باغ سے نکلے تو سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھا رکھا تھا، کسی نے آپ رضی  اللہ   تَعَالٰی عنہسے حیرت سے پوچھا :  ’’آپ کے ہاں توبیٹے اور غلام موجود ہیں جو اِس کام کے لئے کافی ہیں ۔‘‘تو آپ رضی  اللہ   تَعَالٰی عنہنے اِرشاد فرمایا : ’’میں اپنے نفس کی آزمائش کررہا ہوں کہ یہ اس کام سے اِنکار تو نہیں کرتا۔‘‘(شرح صحیح البخاری لابن بطال ، ج۱۰، ص۲۱۴)تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے صرف اس ارادے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا کہ ’’آیا !نفس سچا ہے یا جھوٹا!‘‘

کمال میں کوئی کمی نہیں آتی

        امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : اگر کوئی کامل شخص اپنے گھر والوں کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے تو اِس سے اُس کے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی ۔(احیاء العلوم ، ج۳، ص۴۳۵)

عِیال دار کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسب ہے

        ایک بزرگ فرماتے ہیں میں نے امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیکھا کہ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دِرہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا، میں نے عرض کی : امیر المؤمنین !میں اٹھا کر لے جاتا ہوں ۔ فرمایا : ’’نہیں ، عِیال دار آدمی کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسِب ہے۔‘‘(احیاء العلوم ، ج۳، ص۴۳۵)

گھر کے کام کردیا کرتے

        صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ  اللہ  القوی بہت بڑے عالِم دین اور فقیہ ہونے کے باوجود عاجزی وانکساری کے پیکر تھے۔ حدیث شریف میں ہے : ’’کَانَ یَکُونُ فِی مِہْنَۃِ أَہْلِہِِیعنی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے( یعنی گھر والوں کا کام کرتے تھے)‘‘(صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب من کان فی حاجۃ أہلہ، الحدیث۶۷۶، ج۱، ص۲۴۱)اِسی سنت پر عمل کرتے ہوئے صدر الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گھر کے کام کاج سے عار محسوس نہ فرماتے، گھر میں ترکاریاں چھیلتے، کاٹتے اور دوسرے کام بھی کردیا کرتے تھے۔

(ماہنامہ اشرفیہ، صدر الشریعہ نمبر، ص۵۴، ملخصاً)

   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۴) خود مُلاقات کے لئے جائیے

         دوسروں کو اپنے پاس بلانے کے بجائے نفس کے    تَکَبُّر  کوتوڑنے کے لئے حتَّی الامکان خود چل کر ملاقات کرنے جائیے۔

(۱۵) غریبوں کی دعوت بھی قبول کیجئے

        صِرف امیروں سے تعلُّقات بڑھانے اور ان کے ہاں دعوتوں پر جانے کے عادی نہ بنئے بلکہ اپنے شناساؤں میں غریبوں کو بھی شامل کیجئے اور جب وہ آپ کو دعوت دیں تو قَبول کیجئے ۔

ایسی دعوت روز قبول کروں

         ایک کمسِن صاحبزادے نہایت ہی بے تکلُّفانہ انداز میں سادگی کے ساتھ  اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت  مولٰینا شاہ امام احمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’میری بُوا(یعنی بوڑھی والدہ) نے تمہاری دعوت کی ہے، کل صبح کوبلایا ہے۔‘‘ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے بڑی اپنائیت وشفقت سے اُن سے دریافْتْ فرمایا : ’’مجھے دعوت میں کیا کِھلائیے گا؟‘‘اِس پر اُن صاحِبزادے نے اپنے کُرتے کا دامن جو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے پھیلا دیا ، جس میں ماش کی دال اور دو چار مرچیں پڑی ہوئی تھیں ۔ کہنے لگے : دیکھئے نا! یہ دال لایا ہوں ۔ حُضور نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا : ’’اچھّا میں اور ( خادِمِ خاص حاجی کفایَتُ  اللہ  صا حِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)یہ کل دس بجے آئیں گے۔‘‘اور حاجی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن