30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے!
حضرت سیِّدُنا امام حَسَن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اِس قدر مُنکَسِرُالمزاج تھے کہ ہر فرد کو اپنے سے بہتر تَصَوُّر کرتے۔اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن دریائے دِجلہ پر کسی حَبشی کوعورت کے ساتھ اِس طرح شراب نوشی میں مبتَلا دیکھا کہ شراب کی بوتل اُسکے سامنے تھی۔اُس وقت آپ کو یہ تَصَوُّر ہوا کہ کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ تو شرابی ہے۔اِسی دَورا ن ایک کِشتی سامنے آئی جس میں سات افراد تھے اور وہ غَرَق ہو گئی، یہ دیکھ کر حبشی پانی میں کود گیا اور چھ افراد کو ایک ایک کر کے نکالا۔پھر آپ سے عرض کیا : آپ صرف ایک ہی کی جان بچا لیں ۔میں تو یہ امتحان لے رہا تھا کہ آپ کی چشمِ باطن کُھلی ہوئی ہے یا نہیں ! اور یہ عورت جو میرے پاس ہے، میری والِدہ ہیں اور اِس بوتل میں سادہ پانی ہے۔ یہ سنتے ہی آپ اِس یقین کے ساتھ کہ یہ تو کوئی غیبی شخص ہے اُس کے قدموں میں گر پڑے اور حبشی سے کہا کہ جس طرح تو نے چھ افراد کی جان بچائی اِسی طرح تَکَبُّر سے میری جان بھی بچا دے۔اُس نے دعا کی کہ اللہ تَعَالٰی آپ کو نُورِ بصیرت عطا فرمائے یعنی کِبرونَخْوَت(کِب۔رَو۔نَخْ۔ وَتْ) کو دُور کر دے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اِس کے بعد اپنے آپ کو کبھی بہتر تَصَوُّر نہیں کیا۔ (تذکرۃ الاولیاء فارسی، ص۴۳)
حضرت سیِّدُنا حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’تواضُع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھرسے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اُسے اپنے آپ سے افضل جانو۔‘‘(الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج۱، ص۱۶۳)
میں سب سے بُرا ہوں نگاہِ کرم ہو
مگر آپ کا ہوں نگاہِ کرم ہو
دیگر اَخلاقی عادات کی طرح عاجِزی میں بھی اِعتِدال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر عاجِزی میں بلاضَرورت زیادَتی کی تو ذلّت اور کمی کی تو تَکَبُّر میں جاپڑنے کا خدشہ ہے ۔لہٰذا اِس حد تک عاجِزی کی جائے جس میں ذلّت اور ہلکا پن نہ ہو ۔(احیاء العلوم ، ج۳، ص ۴۵۱)
ہر مسلمان کو امیر ہویاغریب ، بڑا ہو یا چھوٹا سلام میں پہل کیجئے ۔ہمارے مَدَنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتو بچوں کو بھی سلام میں پہل فرمایا کرتے تھے ۔حضر ت سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچند لڑکوں کے پاس سے گزرے تواُن کو سلام کیا ، پھر فرمایا : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب الاستئذان، باب تسلیم علی الصبیان، الحدیث۶۲۴۷، ج۴، ص۱۷۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے؟ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکس قد ر مُنکَسِرُ الْمزاج ہیں کہ چھوٹو ں کو بھی سلام میں پہل کیا کرتے ہیں ۔ کاش ! ہم بھی اگر بڑے ہیں تو چھوٹو ں کے پہل کر نے کا انتِظار کئے بغیر سر کار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عاجزی والی سنّت ’’ پہلے سلام کرنا ‘‘ ادا کرلیا کریں ۔ ؎
تری سادگی پہ لاکھوں ، تری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلامِ عاجِزانہ مدنی مدینے والے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بَری ہے
حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت کرتے ہیں ، فرمایا : ’’ پہلے سلام کہنے والا تَکَبُّر سے بَری ہے۔‘‘
(شعب الایمان، باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین، الحدیث۸۷۸۶، ج۶، ص۴۳۳)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!جب دو شخص ملاقات کریں تو پہلے کون سلام کرے ؟‘‘ فرمایا : ’’پہلے سلام کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔‘‘(ٖ جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب ، الحدیث۲۷۰۳، ج۴، ص۳۱۸ )
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی سلام میں پہل کی عادتِ مبارکہ
حضرتِ مولانا سید ایّوب علی علیہ رحمۃ القوی کا بیان ہے کہ ’’ کوہ ِبھوالی سے میری طلبی فرمائی جاتی ہے ، میں بہ ہمراہی شہزادۂ اصغر(حضور مفتیٔ اعظم ہند)حضرت مولانامولوی شاہ محمد مصطفی رضاخاں صاحِب مدظلہ الاقدس، بعد ِ مغرب وہاں پہنچتا ہوں ، شہزادہ ممدوح(مَمْ۔دُوح یعنی جس کی تعریف کی جائے) اندر مکان میں جاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں : ’’ ابھی حُضورکو آپ کے آنے کی اطِّلاع کرتاہوں ۔‘‘ مگر باوُجُود اس آگاہی کے کہ حُضور(یعنی امامِ اہلسنّت شاہ مولانااحمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن)تشریف لانے والے ہیں ، تقدیمِ سلام سرکار(یعنی سلام میں پہل اعلیٰ حضرت)ہی فرماتے ہیں ، اس وقت دیکھتا ہوں کہ حُضوربالکل میرے پاس جلوہ فرما ہیں ۔‘‘ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ج۱، ص۹۶)
عاشقِ اعلیٰ حضرت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عادت کریمہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عاشقِ اعلیٰ حضرت شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرتِ علّامہ مولانامحمدالیاس عطّار قادری رضوی مدظلہ العالی بھی حتّی المقدور ملنے والوں سے سلام میں پہل فرماتے ہیں ۔ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے بارہا کوشش کی کہ میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو پہلے سلام کروں مگر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عادت کریمہ کی وجہ سے بہت کم مواقع پر ایسا کرنے میں کامیاب ہوسکا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت اور امیرِ اہلسنّت پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع