30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی کے ہاں تواضُع کرنے والا ہو۔( احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، ج۳، ص۴۳۵)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! ہمارے بُزُرگانِ دین علیہم رحمۃ اللہ المُبین مقام ومرتبہ اور عہدہ ومَنصَب ملنے کے باوُجُود کس قدر عاجِزی فرمایا کرتے تھے!
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱) بارگاہِ الٰہی میں حاضِر ی کو یاد رکھئے
اس طرح ’’فکر ِمدینہ ‘‘(یعنی اپنا محاسبہ)کیجئے کہ کل جب حَشْر بپا ہوگا اور ہرایک اپنے کئے کا حساب دے گا تو مجھے بھی اپنے ربِّ ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا ، اُس وقت میں انتہائی عجز، ذلّت اور پَستی کی جگہ پر ہوں گا۔ اگر میرا رب مجھ سے ناراض ہوا تو میرا کیا بنے گا !اگر تَکَبُّر کے سبب مجھے جہنَّم میں پھینک دیا گیا تو وہ ہولناک عذاب کیونکربرداشت کر پاؤں گا؟اس طرح تصور میں عذاب کو یاد کرنے کی وجہ سے اِنکساری پیدا ہوگی۔ان تمام باتوں کو سوچ کر اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ تَکَبُّر دُورہو جائے گا ، اور بندہ خود کواللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں حقیر و عاجِزخیال کرے گا۔
تَکَبُّر سے نجات پانے کے لئے مومن کے ہتھیار یعنی دُعا کو اِستعمال کیجئے اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے کچھ اِس طرح دُعا مانگئے : ’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں نیک بننا چاہتا ہوں ، تَکَبُّر سے جان چھڑانا چاہتا ہوں مگر نفس وشیطان نے مجھے دبارکھاہے ، اے میرے مالک مجھے ان کے مقابلے میں کامیابی عطا فرما ، مجھے نیک بنا دے ، عاجِزی کا پیکر بنادے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
گناہوں کی عادت چُھڑا یا الہٰی
مجھے نیک انساں بنا یا الہٰی
تَکَبُّر سے بچنے کے لئے اپنے عیوب پر نظر رکھنا بہت مُفید ہے اوراپنی عادات واطوار کو تقویٰ کی چَھلنی سے گُزارناعُیُوب ونَقائص کی پہچان کے لئے بہت مُعاوِن ہے۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحِبِ جُودو نَوالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ باکمال ہے : ’’عنقریب میری اُمّت کو پچھلی اُمّتوں کی بیماری لاحِق ہو گی۔‘‘ صَحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : ’’پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ تَکَبُّر کرنا، اِترانا، کثرت سے مال جمع کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا نیز آپس میں بُغض وحسد رکھنا ، بُخْل کرنا، یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہوجائے اور پھر فِتنہ وفساد بن جائے۔‘‘(المعجم الاوسط، الحدیث : ۹۰۱۶، ج۶، ص۳۴۸)
مُہلکات(مُہْ۔لِ۔کات) کا ایک عِلاج یہ بھی ہے کہ جب کسی مُہْلِک کے درپیش ہونے کا اندیشہ ہوتو اُس کے نقصانات و عذابات پر خوب غور کرے تا کہ اپنے اندر اُس مُہْلِک(یعنی ہلاک کرنے والے عمل) سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو ۔
اپنے دل سے تَکَبُّر کی گندگی کوصاف کرنے کے لئے عاجِزی کا پانی اِستعمال کرنا بے حد مُفید ہے ، خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’تواضُع(یعنی عاجزی) اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بڑے مرتبے والے بندے بن جاؤ گے اور تَکَبُّر سے بھی بَری ہو جاؤ گے۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث : ۵۷۲۲، ج۳، ص۴۹)
غرورو تَکَبُّر نے نہ کسی کو شائستگی(شائِس۔تَ۔گی) بخشی ہے اور نہ کسی کو عظمت و سر بلندی کی چوٹی پر پہنچایاہے، ہاں ! ذلّت کی پستیوں میں ضرور گرایا ہے جیسا کہ نبیِ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ مُعَظّم ہے : ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجِزی اختیار کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بلندی عطا فرمائے گا، پس وہ خود کو کمزور سمجھے گا مگر لوگوں کی نظروں میں عظیم ہو گا اور جو تَکَبُّر کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ذلیل کر دے گا، پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہو گامگرخودکو بڑا سمجھتاہو گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتّے اور خِنزِیر سے بھی بدتر ہو جاتاہے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث : ۵۷۳۴، ج۳، ص۵۰)
ایک اور جگہ فرمانِ عالیشان ہے : ’’ہر انسان کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جب بندہ تواضُع کرتا ہے تواس لگام کے ذریعے اُسے بلندی عطاکی جاتی ہے اور فرشتہ کہتاہے : ’’بلند ہوجا! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے بلند فرمائے۔‘‘ اور اگر وہ اپنے آپ کو(تکبرسے) خودہی بلند کرتا ہے تووہ اُسے زمین کی جانب پَست (یعنی نیچا) کر کے کہتا ہے : ’’ پَست (یعنی نیچا)ہو جا! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے پَست کرے۔‘‘(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث : ۵۷۴۱، ج۳، ص۵۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع