دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

(۸) عُہدہ ومَنصَب 

       کبھی عُہدہ ومَنصَب کی وجہ سے بھی انسان   تَکَبُّر  کا شکار ہوجاتا ہے ۔

عُہد ہ ومنصب کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبُّرکا عِلاج

        ایسے اِسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ اپنا ذہن بنائیں کہ فانی پر فخر نادانی ہے ، عزّت ومَنصَب کب تک ساتھ دیں گے ، جس مَنصَب کے بَل بوتے پرآج اکڑتے ہیں کل کلاں کوچِھن گیا توشاید انہی لوگوں سے مُنہ چُھپانا پڑے جن سے آج تحقیر آمیز سُلوک کرتے ہیں ، آج جن پر حکم چلاتے ہیں ریٹائرمنٹ کے دوسرے دن انہی کی خدمت میں حاضر ہوکر پنشن کیس نپٹوانا ہے! الغرض فانی چیزوں پر غروروتکبر کیونکرکیا جائے!اِس لئے کیسا ہی بڑامَنصَب یا عہدہ مل جائے اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  فرماتے ہیں : ’’آدمی کو اپنی حالت کا لحاظ ضرو ر ہے نہ کہ اپنے کو بھولے یاستایشِ مردم (یعنی آدمیوں کے تعریف کرنے)پر پھولے۔ (ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت ص۶۶)

’’عاجِزی‘‘کے  پانچ حروف کی نسبت سے 5حکایات

(۱) اپنی اوقات یادرکھتا ہوں

        ایازسلطان محمود غزنوی کا ایک ادنیٰ غُلام تھا پھر ترقی کرتے کرتے اس کا محبوب ترین وزیر بن گیا۔ایاز کی کامیابیاں حاسِدین درباریوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں ۔ وہ موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ کسی طرح ایاز کو  محمود کی نظروں سے گرا دیں ۔ آخِرِکار انہیں ایک موقع مل ہی گیا۔ ہوایوں کہ ایاز کا معمول تھا کہ روزانہ مخصوص وقت میں ایک کمرے میں چلا جاتا اور کچھ دیر گزار کر واپس آجاتا ۔درباریوں نے محمود کے کان بھرنا شروع کئے کہ ضرور ایاز نے شاہی خزانے میں خردبُرد کر کے مال جمع کررکھا ہے جسے دیکھنے کے لئے کمرۂ خاص میں جاتا ہے ، وہ اس کمرے کو تالا لگا کر رکھتا ہے اورکسی اور کو اندرداخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ محمود کو اگرچہ ایاز پر مکمل اعتماد تھامگر درباریوں کو مطمئن کرنے کے لئے ایک وزیر کو کہا کہ اُس کمرے کا تالاتوڑ ڈالو ، وہاں جوکچھ ملے وہ تمہارا ہے ۔وزیر اور دیگر درباری خوشی خوشی ایاز کے کمرے میں جاگھسے۔   

 مگر یہ کیا ! وہاں ایک پُرانے بوسیدہ لباس اور چپلوں کے سوا کچھ تھا ہی نہیں ۔درباریوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ محمود نے ایاز سے ان کپڑوں اور چپلوں کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ یہ میری غلامی کے دور کی یادگار ہیں جنہیں دیکھ کر میں اپنی اوقات یادرکھتا ہوں اور خود کو موجودہ عُروج پر  تَکَبُّر  میں مبتلا نہیں ہونے دیتا۔ یہ سُن کر محموداپنے وفادار خادِم ایاز سے اور زیادہ متأَ ثِّر نظر آنے لگا اور درباریوں کا منہ کالا ہوا۔    ( مثنوی مولانا روم(مترجم)، دفتر پنجم، ص۴۵، ملخصًا)

(۲) ساری سَلْطَنَت کی قیمت ایک گلاس پانی

       دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 540 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ376پر ہے :  حضرت خلیفہ ہارون رشید رحمۃ اﷲ علیہ عُلَماء دوست تھے۔ دربار میں علماء کامجمع ہر وقت لگارہتا تھا۔ ایک مرتبہ پانی پینے کے واسطے منگایا، منہ تک لے گئے تھے، پینا چاہتے تھے کہ ایک عالِم صاحب نے فرمایا : ’’ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِین !ذرا ٹھہریئے! میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ۔‘‘ فوراً خلیفہ نے ہاتھ روک لیا۔ اُنہوں نے فرمایا : ’’ اگر آپ جنگل میں ہوں اور پانی مُیَسَّر نہ ہو اور پیاس کی شِدَّت ہو تواِتنا پانی کس قَدَر قیمت دے کر خریدیں گے ؟‘‘ فرمایا :  ’’وَاﷲ ! آدِھی سلطنت دے کر۔‘‘ فرمایا : ’’ بس پی لیجئے !‘‘جب خلیفہ نے پی لیا ، انہوں نے فرمایا :  ’’اب اگر یہ پانی نکلنا چاہے اور نہ نکل سکے(یعنی پیشاب ہی بند ہو جائے) تو کس قَدَر قیمت دے کر اس کا نکلنامَول (یعنی خرید )  لیں گے‘‘کہا :  وَاﷲ !پوری سلطنت دے کر۔ ارشاد فرمایا :  ’’بس آپ کی سلطنت کی یہ حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ ایک چُلُّو  پانی پر آدھی بک جائے اور دوسری بار پوری۔ اِس(حکومت) پر جتنا چاہے    تَکَبُّر  کرلیجئے!‘‘ (تاریخ الْخُلَفَا ، ص۲۹۳ملخصاً)

(۳)  سالارِ لشکر کونصیحت

        حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبد اللہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک لشکر کے سپہ سالار ’’مُھَلَّب ‘‘کو ریشمی جُبّے میں ملبوس اکڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  اے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے بندے! اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اور اُس کے رسول کو یہ چال پسند نہیں ۔اُس نے جواباً کہا :  کیا تم مجھے پہچانتے نہیں کہ میں کون ہوں ! فرمایا :  کیوں نہیں ، میں تمہیں خوب پہچانتا ہو ں ، تمہارا آغاز ایک بدلنے والا نُطفہ(یعنی گندہ قطرہ)، اَنجام بدبودار مُردہ اور درمیانی وقفے(یعنی زندگی بھر پیٹ) میں گندگی اُٹھائے پھرناہے۔یہ سُن کر ’’مُھَلَّب‘‘(شرمندہ ہو کر) چلا گیا اور اُس نے یہ چال چھوڑ دی۔

(اِحْیَاءُ الْعُلُوْم  ج ۳ ص۴۱۷دارصادربیروت)

(۴)  بُلندی چاہنے والے کی رُسوائی

        ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں نے کوہ ِصفا کے قریب ایک شخص کو خچّر پر سُوار دیکھا، کچھ غُلام اُس کے سامنے سے لوگوں کوہٹا رہے تھے، پھرمیں نے اُسے بغداد میں اِس حالت میں پایا کہ وہ ننگے پاؤں اور حسرت زدہ تھا نیز اُس کے بال بھی بہت بڑھے ہوئے تھے، میں نے اُس سے پوچھا : ’’   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا : ’’میں نے ایسی جگہ بلندی چاہی جہاں لوگ عاجِزی کرتے ہیں تو   اللہ    عَزَّوَجَلَّ   نے مجھے ایسی جگہ رُسوا کر دیا جہاں لوگ رِفعت (یعنی بلندی) پاتے ہیں ۔‘‘(الزواجرعن اقتراف الکبائر، ج۱، ص ۱۶۴)   

(۵)  میرے مقام میں کوئی کمی تو نہیں آئی

        ایک رات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاں کوئی مہمان آیا، آپ کچھ لکھ رہے تھے۔ قریب تھا کہ چَراغ بجھ جاتا۔مہمان نے عرض کی میں اُٹھ کر ٹھیک کر دیتا ہوں تو آپ نے فرمایا :  مہمان سے خدمت لینا اچّھی بات نہیں ہے۔اُس نے کہا غُلام کو جگا دوں ؟ فرمایا :  وہ ابھی ابھی سویا ہے۔پھر آپ خود اٹھے اور کُپِّی لے کر چَراغ میں تیل بھر دیا۔مہمان نے کہا :  یا امیرَ المؤمنین! آپ نے خود ذاتی طور پر یہ کام کیا؟ فرمایا : جب میں (اِس کام کے لئے) گیا تو بھی عُمر تھا اور جب واپَس آیا تو بھی عُمر ہی تھا، میرے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی اور بہترین آدمی وہ ہے جو اللہ   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن