30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رینٹھ(رِیں ۔ٹھ)، منہ میں تھوک ، کانوں میں بدبودار میل ، ناخُنوں میں مَیل، آنکھوں میں کیچڑ اورپسینے سے بدبودار بغلیں لئے پھرتاہے ، روزانہ کئی کئی بار اِستنجا خانے میں اپنے ہاتھ سے پاخانہ و پیشاب صاف کرتا ہے ، کیا ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے فَقَط گوری رنگت ، ڈیل ڈول اور قدوقامت نیز چوڑے چکلے سینے وغیرہ پر تَکَبُّر کرنا زیب دیتا ہے! یقینا نہیں ۔حضرت سیِّدُنا اَحنَف بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’آدمی پر تعجُّب ہے کہ وہ تَکَبُّر کرتاہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پیشاب گاہ سے نکلا ہے۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ، ج۱، ص ۱۴۹) حضرت سیِّدُنا حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’آدمی پر تعجُّب ہے کہ وہ روزانہ ایک یادو مرتبہ اپنے ہاتھ سے ناپاکی دھوتا ہے پھر بھی زمین وآسمان کے بادشاہ (یعنی اللہ تعالیٰ)سے مقابلہ کرتاہے۔‘‘(ایضاً)
حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نصیحت
حضرتِ لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا : اے میرے بیٹے! اُس شخص کو تَکَبُّر کرنا کس طرح رَوَا (یعنی جائز)ہے جس کی اصل یہ ہے کہ اسے پاؤں سے رونداگیا ہے یعنی اُس کا خمیر مٹّی ہے اورکیونکر تَکَبُّر کرتاہے جبکہ اُس کی اصل ایک گندہ قطرہ ہے۔‘‘(الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۷۹)
حضرتِ ابو ذَر اور حضرتِ بلال رضی اللہ تَعَالٰی عنہما کی حکا یت
حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سیاہ رنگ پر عار(یعنی شرم) دلائی، انہوں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں شکایت کی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ِ ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس کی تصدیق کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’اے ابوذر (رضی اللہ تَعَالٰی عنہ)! تمہارے دل میں ابھی تک جاہلیت کے تَکَبُّر میں سے کچھ باقی ہیــ۔‘‘یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے آپ کوزمین پر گرادیا اور قسم کھائی کہ جب تک حضرتِ سیِّدُنا بِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے رُخسار کو اپنے قدموں سے نہیں روندیں گے وہ اپنا سر نہیں اٹھائیں گے۔چنانچہ انہوں نے سر نہ اٹھایا حتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس طرح کا عمل کیا۔
(شرح صحیح البخاری لابن بطّال، باب السلام من الاسلام، ج۱، ص۸۷)
( 2)حسین وجمیل ہوتے ہوئے بھی عاجِزی اختیار کیجئے اور اِس فضیلت کے حقدار بنئے، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلنشین ہے : ’’جو حسین وجمیل اور شریفُ الاصل(یعنی اونچے خاندان والا) ہونے کے باوُجود منکسِر المزاج ہو گا تووہ ان لوگوں میں سے ہو گا جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن نجات عطا فرمائے گا۔‘‘
(حلیۃ الاولیاء، رقم : ۳۷۷۷، ج۳، ص۲۲۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
انسان کی زندگی کامیابی وناکامی کی داستان ہے ، جب مسلسل کامیابیاں بعض اِسلامی بھائیوں کے قدم چُومتی ہیں تو وہ پے درپے ناکامیوں کے شکار ہونے والے دُکھیاروں کو حقیر سمجھنا شروع کردیتے ہیں ، خود کو بے حد تجرِبہ کار گردانتے ہوئے انہیں بے وُقُوف، نادان، گدھااور نہ جانے کیسے کیسے القابات سے نوازتے ہیں ۔
کامیابیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبرکا عِلاج
کامیابیوں پر پھولے نہ سما کرجامے سے باہَر ہونے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثرواپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے ، ہر کمال کو زوال ہے۔ آپ کو کامیابی ملی اِس پر اللہ تَعَالٰی کا شکر کیجئے نہ کہ اپنا کمال تَصَوُّر کر کے ناشکروں کی صف میں کھڑے ہونے کی جسارت! پھر جسے آپ ’’کامیابی‘‘ سمجھ رہے ہیں اُس کا سفر دنیا سے شروع ہوکر دنیا ہی میں ختم ہوجاتا ہے ، حقیقی کامیاب تو وہ ہے جو قبر وحشر میں کامیاب ہوکر رحمتِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے سائے میں جنت میں داخل ہوگیا ، جیسا کہ پارہ 28سورۂ تغابن کی آیت 9 میں ارشادِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہے :
وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(پ۲۸ التغابن۹)
ترجمۂ کنزالایمان : جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تَکَبُّر کا ایک سبب طاقت وقوت بھی ہے، جس کا قد کاٹھ نکلتا ہوا ہو، بازوؤں کی مچھلیاں پَھڑکیں اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسااوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے ۔
طاقت وقوَّت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبُّرکا عِلاج
طاقت وقُوَّت سے پیداہونے والے تَکَبُّر کاعِلاج کرنے کے لئے یوں فکرِ مدینہ کیجئے کہ قُوَّت و پھرتی تو چوپایوں اور درندوں میں بھی ہوتی ہے بلکہ ان میں انسان سے زیادہ طاقت ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اورجانوروں میں ’’ مُشْتَرَک‘‘ صفت پر تَکَبُّر کیوں کیا جائے!حالانکہ ہمارے جسم کی ناتُوانی کا تویہ حال ہے کہ اگر ایک دن بخار آجائے تو طاقت وقُوَّت کا سارانشہ اترجاتا ہے، معمولی سی گرمی میں ذرا پیدل چلنا پڑے تو پسینے سے شَرابُور ہوکر نِڈھال ہوجاتے ہیں ، سَرد ہوا چلے تو کپکپانے لگتے ہیں ۔بڑی بیماریاں تو بڑی ہی ہوتی ہیں انسان کی ڈاڑھ میں اگر درد ہوجائے تو اُس وقت خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ اُس کی طاقت وقوت کی حیثیت کیا اور کتنی ہے!پھر جب موت آئے گی تو یہ ساری طاقت و قُوَّت دَھری کی دَھری رہ جائے گی اور بے بسی کا عالَم یہ ہوگا کہ اپنی مرضی سے ہاتھ تو کیا اُنگلی بھی نہیں ہِلاسکیں گے ۔لہٰذا میرے میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ایسی عارِضی قُوَّت پر نازاں ہونا ہمیں زَیب نہیں دیتا ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع