30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجہ سے(۲)عَرَب عَصَبِیَّت(عَ۔صَ۔بی۔یَت یعنی طرف داری) کی وجہ سے(۳) رئیس اور سردار تَکَبُّر کی وجہ سے (۴)تجارت کرنے والے جھوٹ کی وجہ سے (۵)اہلِ علم حَسَد کی وجہ سے(۶)مالدار بُخْلکی وجہ سے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب المواعظ والرقاق…الخ، قسم الاقوال ، الحدیث۴۴۰۲۳، ج۱۶، ص۳۷)
مالدار اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ حدیث پاک میں بیان کردہ اِس فضیلت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں :
عاجِزی کرنے والے دولت مند کے لئے خوشخبری
مخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’خوشخبری ہے اُس شخص کے لئے جو تنگدستی نہ ہوتے ہوئے تواضُع (یعنی عاجزی)اختیار کرے اوراپنا مال جائز کاموں میں خرچ کرے اور محتاج ومسکین پررحم کرے اور اہل عِلم وفِقْہْ سے میل جول رکھے۔‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث : ۴۶۱۶، ج۵، ص۷۲)
حضرت سیِّدُنا حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک امیر کو متکبرا نہ (مُ۔ تَ۔ کَبْ۔ بِرانہ) چال چلتے ہوئے دیکھا تو اُس سے فرمایا کہ اے احمق! تَکَبُّر سے اِتراتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا ں دیکھ رہا ہے ؟ کیا اُن نعمتوں کودیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا یااُن نعمتوں کو دیکھ رہا ہے کہ جن کا تذکِرہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکام میں نہیں ۔ جب اُس نے یہ بات سنی تو معذِرت کرنے حاضر ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اِرشاد فرمایا : ’’مجھ سے معذِرت نہ کربلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر کیا تو نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا :
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور زمین میں اتراتا نہ چل بے شک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج۱، ص۱۴۹)
تَکَبُّر کا ایک سبب حسب ونَسَب بھی بنتا ہے کہ انسان اپنے آباء واجداد کے بل بوتے پر اَکڑتا اوردوسروں کو حقیر جانتا ہے ۔
حسب ونسب کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبرکا عِلاج
دوسروں کے کارناموں پر گھمنڈکرنا جہالت ہے ، کسی شاعر نے کہاہے :
لَئِنْ فَخَرْتَ بِآ بَائٍ ذَوِی شَرَفٍ
لَقَدْ صَدَقْتَ وَلٰکِنْ بِئْسَ مَاوَلَدُوْا
ترجمہ : تمہارا اپنے عزّت وشرف والے باپ ، داداپرفخر کرنا تو دُرُست ہے لیکن انہوں نے تجھ جیسے کوجَن کر براکیا۔(یعنی تیرے آباء نے بڑے بڑے کارنامے سراَنجام دیے مگر تیرے جیسا ناخَلَف(جودوسروں کے کارناموں پرفخرکرکے نام کماتاہے)کوجنم دے کر بہت براکام کیاہے )
تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اپنے فوت شدہ آباء واجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آ جانا چاہئے، کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں ، یا وہ قومیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہو جائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم سے جاہلیت کا تَکَبُّر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرما دیا ہے، اب آدمی متقی و مؤمن ہو گا یا بدبخت وبدکار ، سب لوگ حضرتِ آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو مٹّی سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
(جامع الترمذی، الحدیث۳۹۸۱، ج ۵ص۴۹۷)
ٍ سلطانِ اِنس و جان، رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ موسیٰ کے زمانے میں دو آدمیوں نے باہم فخر کیا، ان میں سے ایک (جوکہ کافر تھا)نے کہا ’’میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں ‘‘ اس طرح وہ نو پشتیں شمار کر گیا۔ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علی نبیِّنا و علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ’’ اس سے فرما دیجئے کہ وہ نو کی نو پشتیں (کفر کی وجہ سے) جہنّم میں جائیں گی اور تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے۔‘‘(المعجم الکبیر، الحدیث۲۸۵، ج۲۰ ص۱۴۰، ملخصًا)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تَکَبُّر کا پانچواں سبب حُسن وجمال ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے متکبرہوجاتاہے ، کسی کا رنگ گورا ہے تو وہ کالے رنگ والے کو، کوئی قدآور ہے تو وہ چھوٹے قد والے کو ، کسی کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں تو وہ چھوٹی آنکھوں والے کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے ، عُمُوماً یہ بیماری مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔
حُسن وجمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبُّر کے عِلاج
(1)حُسن وجمال کے باعث پیداہونے والے تَکَبُّر کاعِلاج کرنے کے لئے اپنی اِبتداء اور انتہاء پر غور کیجئے کہ میرا آغاز ناپاک نُطفہ(یعنی گندہ قطرہ) اور اَنجام سڑا ہوا مُردہ ہے ۔عمر کے ہر دَور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماند پڑجاتا ہے ، کبھی کوئی حادِثہ بھی اس حسن کے خاتمے کا سبب بن جاتا ہے ، کھولتا ہوا تیل تو بہت بڑی چیز ہے ، ابلتا دودھ بھی سارے حُسن کو غارت کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ انسان جب تک دنیا میں رہتا ہے اپنے جسم کے اندر مختلف گندگیاں مَثَلاً پیٹ میں پاخانہ وپیشاب اور رِیح (یعنی بدبودار ہوا)، ناک میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع