دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

لیکن جب یہی شخص خُوداِن کی ’’شان‘‘میں گستاخی کی جرأت کربیٹھے تو یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ دیکھنا! عنقریب اِسے اللہ   تَعَالٰی کی طرف سے کیسی سزا ملتی ہے ! پھر جب وُہی شخص تقدیرِ الہٰی   عَزَّوَجَلَّ    سے کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو یہ سمجھتے بلکہ بول پڑتے ہیں : ’’ دیکھا ! اس کا انجام!‘‘اور اپنے تئیں گمان کرتے ہیں کہ  اللہ    تَعَالٰی نے میری وجہ سے بدلہ لے لیا ہے ، حالانکہ اُس شخص کو مصیبت پہنچنااِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کا یہ حال’’ موصوف‘‘ کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے ہوا ہے۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا آپ کو نہیں معلوم کہاللہ    تَعَالٰی کے کئی انبیاء علیہم السلام (جو بارگاہِ الہٰی   عَزَّوَجَلَّ    میں یقینا وقطعاً مقبول تھے)کوکفّار نے شہید کیا، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دیں مگر اللہ   تَعَالٰی نے ان کفّارکو مہلت دی اوربعضوں کو دنیا میں سزا نہیں دی پھر ان میں سے بعض تو اسلام کے دامن میں بھی آ گئے اور دنیاوآخرت کی سز ا سے بچ گئے ۔تو کیا آپ خود کو اللہ   تَعَالٰی کے نزدیک انبیا ء علیہم السلام سے بھی زیادہ معزّز سمجھ بیٹھے ہیں کہ ربُّ الانام   عَزَّوَجَلَّ   نے آپ کا’’ انتقام ‘‘تو لے لیا مگر ان انبیاء کرام علیہم السلام کاکوئی انتقام نہیں لیا !عین ممکن ہے کہ آپ خود اِس خود پسندی اور   تَکَبُّر  کی وجہ سے غضبِ جبّار  عَزَّوَجَلَّ   کے شکار ہو کر عذاب کے حقدار قرار پا چکے ہوں اور آپ کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوْبُوْااِلَی اللّٰہِ                   اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقی عبادت گزاربندوں کے مَدَنی کردار کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمایئے اور اپنی اصلاح کا سامان کیجئے !

لوگوں کی تکلیفوں کا سبب میں ہوں !

        جب کبھی آندھی چلتی یا بجلی گرتی تو حضرتِ سیِّدُنا عطاء سُلَمی علیہ رحمۃ  اللہ  القوی فرماتے :  لوگوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس کا سبب میں ہوں ، اگر عطاء  فوت ہوجائے تو لوگوں کی جان اس مصیبت سے چھوٹ جائے ۔(احیاالعلوم، ج۳ ، ص۴۲۹)

تمہیں تعجب نہیں ہونا چاہئے

       حضرت ِ سیِّدُنا بِشر بن منصور علیہ رحمۃ  اللہ  الغفور ان لوگوں میں سے تھے جن کو دیکھ کر اللہ   تَعَالٰی اور آخرت کا گھر یاد آتا تھا کیونکہ وہ عبادت کی پابندی کرتے تھے، چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک دن طویل نماز پڑھی، ایک شخص پیچھے کھڑا دیکھ رہا تھا ، حضرت ِ سیِّدُنا بشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو معلوم ہو گیا آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے نماز سے سلام پھیرا توعاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

 ’’ جو کچھ تم نے مجھ سے دیکھا ہے اس سے تمہیں تعجُّب نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ شیطانِ لعین نے فرشتوں کے ہمراہ ایک طویل عرصے تک عبادت کی پھر اس کا جو انجام ہوا وہ واضِح ہے۔‘‘

(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، فصل بیان ذم العجب وآفاتہ، ج۳، ص۴۵۳)

دوسرا اِمام تلاش کر لو

       حضرت ِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک گروہ کو نَماز پڑھائی ، جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : ’’ کوئی دوسرا اِمام تلاش کرو یا اکیلے اکیلے نَماز پڑھو ، کیونکہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ مجھ سے افضل کوئی نہیں ہے۔‘‘(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، فصل بیان مابہ التکبر، ج۳، ص۴۲۸)

   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی اِن سب پررحمت ہو اور اِن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳) مال ودولت

         تَکَبُّر  کا ایک سبب مال ودولت اوردنیاوی نعمتوں کی فراوانی بھی ہے۔ جس کے پاس کار، بنگلہ ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لئے نوکرچاکَر ہوں وہ بعض اوقات    تَکَبُّر   کی آفت میں مبتَلاہوجاتا ہے پھر اُسے غریب لوگ زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں کی طرح حقیر دکھائی دیتے ہیں (مگر جسے  اللہ   تَعَالٰی بچائے)۔   

 بسااوقات اس قسم کے مُتکبّرانہ جملے اس کے منہ سے نکلتے سُنائی دیتے ہیں : ’’تم میرے منہ لگتے ہو ! تمہارے جیسے لوگ تو میری جُوتیاں صاف کرتے ہیں ، میں ایک دن میں اتنا خرچ کرتا ہوں جتنا تمہارا سال بھر کا خرچ ہے ۔‘‘

مال ودولت سے پیدا ہونے والے تکبر کا عِلاج

        مال ودولت کی کثرت کے باعث پیداہونے والے   تَکَبُّر  کاعِلاج یوں ہوسکتا ہے کہ انسان اِس بات کایقین رکھے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اُسے یہ سب  کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ دُنیا سے جانا ہے ، کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نُور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی کی چمک دمک !الغرض یہ دولت فانی ہے اور ہِرتی پھرتی چھاؤں ہے کہ آج ایک کے پاس تو کل کسی دوسرے کے پاس اور پرسوں کسی تیسرے کے پاس ! آج کا صاحبِ مال کل کنگال اور آج کا کنگال کل مالامال ہوسکتا ہے ، تو ایسی ناپائیدارشے کی وجہ سے    تَکَبُّر   میں مبتَلاہوکر اپنے رب   عَزَّوَجَلَّ   کو کیوں ناراض کیاجائے!

بِلاحساب جہنَّم میں داخِلہ

        حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’چھ قسم کے لوگ بغیر حساب کے جہنَّم میں داخل ہوں گے۔‘‘ (۱)اُمراء ظلم کی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن