دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

(۲)  کاش!میں پھل دار پَیڑ ہوتا

             حضرتِ سیِّدُناابو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار غَلَبۂ خوف کے وَقت فرمانے لگے : ’’خدا کی قسم! اللہ     عَزَّوَجَلَّ   نے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھا کاش! اُس دن وہ مجھے ایسا پَیڑ بنادیتا جس کو کاٹ دیا جاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے۔‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۸ص۱۸۳)

(۳)  میں ان کی عاجِزی دیکھنا چاہتا تھا

        جلیل القدر مُحدِّث حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ  اللہ  القوی رَملہ تشریف لائے تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ  اللہ  الاکرم نے ان کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس تشریف لا کر کوئی حدیث سنایئے ۔حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوریعلیہ رحمۃ  اللہ  القوی تشریف لے آئے تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ  اللہ  الاکرم سے عرض کی گئی :  ’’آپ ایسے لوگوں کو یوں بلاتے ہیں !‘‘فرمایا : ’’ میں ان کی تواضُع (یعنی عاجِزی)دیکھنا چاہتا تھا۔‘‘( احیاء العلوم، ج۳، ص۴۳۵)

(۴)  اِسی وجہ سے تو وہ مالِک ہیں

        حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ  اللہ  الغفار فرماتے ہیں : ’’اگر کوئی اِعلان کرنے والا مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر اِعلان کرے کہ تم میں سے جو سب سے بُرا ہے وہ باہر نکلے تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی قسم !مجھ سے پہلے کوئی نہیں نکلے گا، ہاں !جس میں دوڑنے کی زیادہ طاقت ہو وہ مجھ سے پہلے نکلے گا۔‘‘ راوی کہتے ہیں جب حضرت ِ سیِّدُنامالک بن دینار علیہ رحمۃ  اللہ  الغفار کی یہ بات حضرت ِ سیِّدُنا عبد  اللہ  بن مبارک علیہ رحمۃ  اللہ  الخالق کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا : اسی وجہ سے تو وہ’’ مالک ‘‘ہیں ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، فصل فضیلۃ التواضع، ج۳، ص۴۲۰)

(۵)  امام فخر الاسلام کے آنسو

        امام فخر الاسلام حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمد بزدَوی علیہ رحمۃ  اللہ  القویجب بغداد شریف کے مدرسۂ نظامیہ میں صدر مُدَرِّس مقرر کئے گئے تو پہلے ہی دن جب وہ مَسنَدِ تدریس پر بیٹھے تو انہیں خیال آ گیا کہ یہ وہی مَسنَد ہے جس پر کبھی حضرتِ سیِّدُناابو اسحق شیرازی علیہ رحمۃ  اللہ  القوی اورحجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمدغزالی علیہ رحمۃ  اللہ  الوالی جیسے اکابرِ اُمّت بیٹھ کر درس دے چکے ہیں ۔یہ تَصَوُّر آتے ہی ان کے دل پر ایک عجی کیفیت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے آنسوؤ ں کا ایک سیلاب امنڈ آیا۔بڑی دیر تک عمامہ اپنی آنکھوں پر رکھ کر روتے رہے اور یہ شعر پڑھا     ؎

خَلَتِ الدِّیَارُ فَسُدْتُ غَیْرَ مَسُوْدٍ

وَمِنَ الْعِنَاءِ تَفَرُّدِی بِالسُّوْدِ

        یعنی ملک باکمال لوگوں سے خالی ہو گیا اور میں جو سرداری کے لائق نہیں تھاسردار بن گیا۔مجھ جیسے آدمی کا سردار بن جاناکس قدر تکلیف دہ ہے!    (روحانی حکایات، ص۹۰)

(۶)   قیدیوں کے ساتھ کھانا

          حضرتِ سیِّدُناشیخ شہاب الدین سہروردی علیہ رحمۃ  اللہ  القوی فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ مجھے اپنے پیر ومُرشِد حضرتِ سیِّدُناضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ رحمۃ  اللہ  القوی کے ہمراہ مُلکِ شام جانے کا اِتّفاق ہوا ۔کسی مالدار شخص نے کھانے کی کچھ اشیا قیدیوں کے سروں پررکھوا کرشیخ کی خدمت میں بھجوائیں ۔ان قیدیوں کے پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔جب دستر خوان بچھایا گیا تو آپ رحمۃ  اللہ  تعالی علیہ نے خادِم کو حکم دیا : ’’ان قیدیوں کو بلاؤ تا کہ وہ بھی دَرویشوں کے ہمراہ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھائیں ۔‘‘ لہٰذا ان سب قیدیوں کو لایا گیااور ایک دسترخوان پر بٹھا دیا گیا۔ شیخ ضیاء الدین ابو النجیب علیہ رحمۃ  اللہ  المجیب اپنی نشست سے اٹھے اور ان قیدیوں کے درمیان جا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ گویا آپ انہی میں سے ایک ہیں ۔ان سب نے آپ کے ہمراہ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔اُس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طبیعت کی عاجِزی وانکساری ہمارے سامنے ظاہر ہوئی کہ اِس قدر عِلم و فضل ا ور مرتبہ و مقام کے باوجود آپ نے    تَکَبُّر   سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔(الابریز، ج۲، ص۱۴۶ملخصًا)

(۷)  کتے کے لئے راستہ چھوڑ دیا

        حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد عبد  اللہ  بن عبد الرحمن علیہ رحمۃ الرحمن جیِّد عالمِ دین اور بہت بڑے فقیہ تھے۔ ایک دن شدید بارش اور کیچڑ کے موسم میں اپنے عقیدت مندوں کی ہمراہی میں کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ سامنے سے ایک کتا آتا دکھائی دیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دیوار کے ساتھ لگ گئے اور کتے کے گزرنے کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔جب کتا قریب آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نچلی طرف کیچڑ میں آ گئے اور راستے کا اوپری صاف حصہ کتے کے گزرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ جب کتا گزر گیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہمراہیوں نے دیکھاکہ آپ کے چہرے پر افسوس کے آثار موجود ہیں ۔انہوں نے عرض کی : ’’حضرت!آج ہم نے ایک حیران کن بات دیکھی ہے کہ آپ نے کتے کے لئے صاف راستہ چھوڑ دیا اور خود کیچڑ میں پاؤں رکھ دیا!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا :

 ’’ جب میں پہلے دیوار کے ساتھ لگاتو مجھے خیال آیا کہ میں نے اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہوئے اپنے لئے صاف جگہ منتخب کر لی ، میں ڈرا کہ میری اِس حرکت کے باعث کہیں اللہ   تَعَالٰی مجھ سے ناراض نہ ہو جائے ، لہٰذا میں وہ جگہ چھوڑ کر کیچڑ میں آگیا۔‘‘(الابریز، ج۲، ص۱۴۶)

(۸)  اپنے دل کی نگرانی کرتے رہو

        حضرت سیدنا بایزید بسطامی قدس سرہ السامی  کو ایک مرتبہ یہ تَصَوُّر ہو گیا کہ میں بہت بڑا بزرگ اور شیخِ وقت ہو گیا ہوں ، لیکن اِس کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ میرا یہ سوچنا فخر و تکبر کا آئینہ دار ہے۔‘‘ چنانچہ فورا خراسان کا رخ کیا اور ایک منزل پر پہنچ کر دعا کی :  ’’اے  اللہ  جب تک ایسے کامِل بندے کو نہیں بھیجے گا جو مجھ کو میری حقیقت سے روشناس کرا سکے اُس وقت تک یہیں پڑا رہوں گا۔‘‘ تین دن اِسی طرح گزر گئے تو چوتھے دن ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اونٹ پر آئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو قریب آنے کا اشارہ کیا لیکن اس اشارے کے ساتھ اونٹ کے پاؤں زمین میں دھنستے چلے گئے۔ انہوں نے چُبھتے ہوئے لہجہ میں کہا : ’’ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنی کھلی ہوئی آنکھوں کو بند کر لوں اور بند آنکھ کھول دوں اور بایزید سمیت پورے بسطام کو غرق کر دوں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن