دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Takabbur | تکبر

book_icon
تکبر

جمع کرلی ہوں گی اور علم کی فضیلت کی وجہ سے جو بخشش و عطاہو گی وہ اس کے نصیب میں ہوگی، اگر کسی کافر کو دیکھے تواگرچہ اسے حقیر جاننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں مگر اپنے دل سے   تَکَبُّر  کا صفایا کرنے کے لئے اسے بھی بحیثیت انسان کے خود سے حقیر اور کم تر نہ جانے، کافر کو دیکھ کر اپنے اندر اس طرح عاجزی پیداکرے کہ اس وقت یہ کافر ہے اور میں مومن ، لیکن کیا معلوم کہ یہ توبہ کرلے اور آخر ی وقت میں مسلمان ہو جائے یوں اس کا خاتمہ ایمان پر ہو جائے اوریہ بخشش ونجات کا مستحق بن جائے جبکہ میں ساری عمر ایمان پر گزار کر ممکن ہے اپنی موت سے پہلے کوئی ایسا کام کر بیٹھوں کہ میرا ایمان جاتا رہے اور میرا خاتمہ کفر پر ہو !حدیث پاک میں ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ یعنی اَعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔‘‘(صحیح البخاری الحدیث۶۶۰۷، ج۴، ص۲۷۴) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  ’’یعنی مرتے وقت جیسا کام ہوگا ویسا ہی انجام ہوگا لہٰذا چاہیے کہ بندہ ہر وقت ہی نیک کام کرے کہ شاید و ہی اس کا آخری وقت ہو۔‘‘

(مرآۃ المناجیح، ج۱، ص۹۵)

       میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اللہ   عَزَّوَجَلَّ   بے نیاز ہے اُس کی’’ خفیہ تدبیر‘‘ کو کوئی نہیں جانتا، کسی کو بھی اپنے عِلم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔ کہیں ایسانہ ہو کہ تکبّر کی نُحُوست کی وجہ سے مرنے سے پہلے ہمارا اِیمان سَلب ہوجائے اور معاذ  اللہ    عَزَّوَجَلَّ   ہمارا خاتمہ کُفر پر ہو ، اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو عِلم کے دفینے اورعبادتوں کے خزینے ہمارے کچھ کام نہ آئیں گے۔    ؎

مسلماں ہے عطّارؔ تیری عطا سے

ہو اِیمان پر خاتِمہ یا الہٰی

کافِر کو کافِرکہنا ضروری ہے

         دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ692 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ کیصَفْحَہ59 پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : کافِر کو کافِر کہنا نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہے ۔صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ  اللہ  القوی لکھتے ہیں :  ایک یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ہم تو کافِر کو بھی کافِرنہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتِمہ کُفر پر ہو گا ‘‘ یہ بھی غَلَط ہے قرآنِ عظیم نے کافِرکو کافِر کہا اور کافِر کہنے کا حکم دیا۔ (چُنانچِہ ارشاد ہوتا ہے : )

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ   (پ۳۰الکافرون۱)

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ اے کافرو!

 اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمھیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے۔(بہارِ شریعت ، جلد ۲، حصّہ ۹، ص۴۵۵)   

یہ مجھ سے بہتر ہے

       حضرت سیِّدُنا بکر بن عبد اللہ  تابِعِی علیہ رحمۃ  اللہ  القوی جب کسی بوڑھے آدمی کو دیکھتے تو فرماتے :  ’’یہ مجھ سے بہتر ہے اور مجھ سے پہلے اللہ   تَعَالٰی کی عبادت کرنے کا شرف رکھتا ہے۔‘‘ اور جب کسی جوان کو دیکھتے تو فرماتے : ’’ یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ میرے گناہ اِس سے کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء ، ج۲، ص ۲۵۷، الحدیث۲۱۴۳)

   اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیر نافِع عِلْم سے خدا کی پناہ

        (۶)نفع نہ دینے والے عِلم سے اللہ   تَعَالٰی کی پناہ مانگئے ۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دعا کیا کرتے تھے : ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَایَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَایَخْشَع یعنی اے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ   میں ایسے عِلم سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو نفع نہ دے، اور ایسے دل سے(تیری پناہ چاہتا ہوں ) جو عاجِزی وانکساری نہ کرے۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، الحدیث :  ۲۷۲۲، ص۱۴۵۷ملخصًا)

قیامت کے چار سوالات

        (۷)اپنے عِلم پر عمل کیجئے ۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ گُہربار ہے : ’’قِیامت کے دن بندہ اُس وقت تک قدم نہ ہٹاسکے گا جب تک اُس سے یہ چارسُوالات نہ کرلئے جائیں : (۱)اپنی عمرکن کاموں میں گزاری(۲)اپنے عِلم پر کتنا عمل کیا(۳)مال کس طرح کمایا اور کہاں خرچ کیا اور (۴)اپنے جسم کو کن کاموں میں بوسیدہ کیا۔‘‘

(جامع الترمذی، الحدیث :  ۲۴۲۵، ج۴ص۱۸۸)

        (۸)اپنے اَکابِرین علیہم رحمۃ  اللہ  المبین کے نقوشِ قدم سے رہنمائی حاصل کیجئے کہ عِلم وعمل کے پہاڑ ہونے کے باجود کیسی عاجِزی کیا کرتے تھے !

’’عاجِزی کا نُور‘‘کے10 حُرُوف کی نسبت سے بُزُرگانِ دین کی عاجِزی کی دس حکایات

(۱)  کاش میں پرندہ ہوتا

            امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے  ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا توفرمایا :  اے پرندے! تُو بڑاخوش بخت ہے ، وَ اللہ ! کاش !میں بھی تیری طرح ہوتا، درخت پر بیٹھتا ، پھل کھاتا ، پھر اُڑجاتا، تجھ پر کوئی حساب وعذاب نہیں ، خداکی قسم !کاش !میں کسی راستے کے کَنارے پر کوئی دَرَخت ہوتا، وہاں سے کسی اُونٹ کا گزرہوتا، وہ مجھے منہ میں ڈالتا چباتا پھر نگل جاتا۔اے کاش! میں انسان نہ ہوتا۔(مُصَنَّف ابن ابی شَیبۃج۸ ص ۱۴۴، دارالفکر بیروت)ایک موقع پر فرمایا :  ’’کاش !میں کسی مسلمان کے پہلو کا بال ہوتا۔ ‘‘(الزُّھد، للامام احمد بن حنبل ص ۱۳۸ رقم ۵۶۰)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن