30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِرے اَخلاق اچھے ہوں مرے سب کام اچھے ہوں بنا دو مجھ کو تم پابندِ سنّت یارسولَ الله[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
فی نفسہٖ قسطوں پرکاروبار کرنا بالکل جائز ہے کہ یہ ادھا فروخت کی ایک صورت ہے اور کسی چیز کو بیچتے وقت باہمی رضا مندی سے جتنی قیمت چاہیں مُقَرَّر کر لیں اس میں شرعا ً کوئی حَرَج نہیں، جب تک کوئی ایسی صورت نہ پائی جائے جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہو ۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّت ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ-(پ۵، ا َلنِّسَاء : ۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو ۔
مگر افسوس ہمارے زمانے میں اس کاروبار کی کئی ایسی صورتیں رائج ہو چکی ہیں جو ناجائز و حَرام ہیں ۔ مثلاً 1معاہدہ (Agreement)کرتے ہوئے یہ شرط لگانا کہ اگر وقت پر قسط ادا نہ کی گئی تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ۔ یہ ظلم و زیادتی اور تَعْزِیْر بِالْمَال (مالی جرمانہ)ہے جو اسلام میں جائز نہیں ۔ رَدُّالْمُحْتار میں ہے ، تَعْزِیْر بِالْمَال ابتدائے اسلام میں تھی پھر اس کو مَنْسُوخ کردیا گیا ۔ [2]اور مَنْسُوخ کا حکم یہ ہے کہ اس پر عَمَل کرنا حَرام ہے ۔ [3] 2قسطوں پر شے بیچی مگر ساتھ میں یہ کہہ دیا کہ جب تک تمام قسطیں ادا نہیں ہو جاتیں آپ اس شے کے مالک نہیں ۔ یہ شرط ناجائز ہے کیونکہ شریعت کے اِعْتِبَار سے جب کسی چیز پر ایجاب و قبول ہوجائے اور شے خریدار کے قبضے میں چلی جائے تو وہ مالک ہو جاتا ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ، بیع کا حکم یہ ہے کہ مُشْتَری مَبیع (خریدی ہوئی چیز)کامالک ہو جائے اور بائع ثَمَن (قیمت)کا ۔ [4] 3کرایہ اور چیز کی قیمت کو جمع کر نا، یعنی کسی چیز کی اس طرح قسطیں کرنا جو کہ اس کی قیمت اور کرایہ دونوں پر مُشْتَمِل ہوں ۔ اس کی صورت یوں بنے گئی، ایک موٹر سائیکل دو ۲ہزار ماہانہ قسط پر بیچی، اس میں طے یہ کیا کہ ایک ہزار موٹر سائیکل کی قیمت کی مَدْ میں اور ایک ہزار کرایہ کی مَدْ تو یہ طریقہ ناجائز ہے ۔ کیونکہ سرکارِ دوعالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک سودے میں دو۲سودے کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [5]
باہمی رضا مندی کے ساتھ نیلامی کی صورت میں کسی چیز کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے ۔ مگر اس میں بھی کئی ناجائز صورتیں آچکی ہیں، آج کل جو صورت بہت عام ہو چکی ہے وہ یہ ہے کہ فقط شے کی قیمت بڑھانے کے لئے بولی لگائی جاتی ہے ۔ خاص(Special) اس کام کے لئے آدمی رکھے جاتے ہیں جنہوں نے وہ شے تو خریدنی نہیں ہوتی بس دوسروں کو اس چیز کی زیادہ قیمت دینے پر ابھارنا ہوتا ہے ۔ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : نَجْش مکروہ ہے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے منع فرمایا ، نَجْش یہ ہے کہ مَبیع کی قیمت بڑھائے اور خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس سے مقصود یہ ہوتاہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہو اور قیمت سے زیادہ دے کر خرید لے اور یہ حقیقۃً خریدار کو دھوکا دینا ہے ۔ [6]
بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ صورت بھی بہت رائج ہوتی چلی جارہی کہ شے تیار ہوتی ہے پاکستان میں مگر اس پر مہر (Stamp)لگتی ہے میڈ ان جاپان (Made in Japan) یامیڈ ان کوریا (Made in Korea)وغیرہ، یہ سیدھا سیدھا جھوٹ اور دھوکا ہے جو کہ ناجائز و حَرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہے ۔ اللہ پاک اِرشَاد فرماتا ہے :
لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ(۶۱) (پ۳، آلِ عِمْرَان، تحت الآية : ۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان : جھوٹوں پر الله کی لعنت ۔
دھوکے کے مُتَعَلِّق سرکارِ عالی وقار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا : جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ [7]خیال رہے ! اس کام میں کئی افراد گناہ کے مُرْتکِب ہوتے ہیں ۔ (۱)جعلی مہر لگوانے والا (۲)اسے بنانے والا (۳)شے پر لگانے والا اور (۴)وہ دکاندار جو یہ شے آگے جھوٹ بول کر بیچتا ہے ۔
اس طرح کے کام میں ایک صورت یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کمپنی (Company) کی کسی پراڈکٹ (Product)کی نقل تیار کرنا اور پھر اس پر اسی کمپنی کی مہر لگا دینا ۔ یہ بھی کئی طرح
[1] وسائل بخشش(مرمّم)، ص۳۳۲
[2] رد المحتار، كتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب فی التعزیر باخذ المال، ۶ / ۹۸
[3] حاشیہ شلبی مع تبيين الحقائق، کتاب القضاء، باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ، ۴ / ۱۸۹
[4] فتاوی ھندیه، کتاب البیوع، الباب الاول فی تعریف البیع...الخ، ۳ / ۴
[5] ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی النهی عن بیعتین فی بیعة، ص ۳۲۰، حدیث : ۱۲۳۱
[6] بہار شریعت، ۲ / ۷۲۳، حصہ : ۱۱
[7] مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی صلی الله علیہ وسلم : من غشنا فلیس منا، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع