دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Tajheez-o-Takfeen Ke Marakiz Banane Kay Sharai Ahkam | تجہز و تکفین کے مراکز بنانے کے شرعی احکام

Tajheez o Takfeen Aur Murda Khane Banae Ke Shari Ahkam

book_icon
تجہز و تکفین کے مراکز بنانے کے شرعی احکام
            

تجہیز و تکفین کے مراکز بنانے کے شرعی احکام

بسمِ اللہ الرَّحمنِ ا لرَّحِیم الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی آلک واصحٰبک یا حبیب اللہ یورپ و دیگر غیر مسلم ممالک میں اس وقت تجہیز و تکفین وغیرہ کے حوالے سے Funeral homesکے قیام کی حاجت بہت زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ان ممالک میں کئی مساجد و دینی مراکز کے ساتھ تجہیز و تکفین کے لیے جگہیں مختص ہیں ۔بعض جگہوں پر تجہیز و تکفین کے ساتھ ساتھ ایمبولینس سروس بھی مہیا کی جاتی ہے ۔ میت کو کسی سبب سے کچھ دنوں کے لیے رکھنا ہو یا تدفین میں کچھ تاخیر ہو ،تو انہی مراکز کے ساتھ سرد خانے بھی بنے ہوئے ہیں ،جہاں میت کو رکھا جاتا ہے۔ قانونی یا دیگر معاشرتی و معاشی مسائل کے پیش نظر تعزیت وغیرہ کے لیے لوگ مسجد میں ہی بیٹھتے ہیں ۔ یو کے و دیگر ممالک کے صحیح العقیدہ سنی مسلمان یہ چاہ رہے ہیں کہ ہم اپنے پلیٹ فارم سے لوگوں کو funeral سروسز مہیا کریں ۔اولاً اس سروس کی ابتداء ایک ایسے سُنی ٹرسٹ کے زیر انتظام مساجد و مراکز سےہو گی ، جس کے مراکز تقریباً یوکے کے بڑے شہروں و یورپ وغیرہ کے تمام ممالک میں موجود ہیں ۔شرعی اجازت ملنے کی صورت میں تجہیز و تکفین کے لیے ضروری سامان کی خریداری شرعی رہنمائی کےساتھ سنی ٹرسٹ کو ہر نیک و جائز کام کے لیے ملنے والے عطیات سے ہو گی یا پھر مخیر حضرات سے خاص اسی مد کے لیے عطیات کیے جائیں گے ۔ تجہیز و تکفین کے مکمل پراسز اور تعزیت کے لیے بیٹھنے والے ورثاء کے لیےجگہ کی فراہمی وغیرہ تمام امور کے لیے مراکز کے کمرے استعمال ہوں گے ۔تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے بھی کم از کم دو کمرے درکار ہوں گے ،ان میں سے ایک مردوں کے لیے،جبکہ دوسرا صرف عورتوں کے لیےمختص ہو گا،اس پورے انتظام کے لیےدرج ذیل امور پر شرعی رہنمائی درکار ہے ۔ 1۔قبرستان کے لیے جگہ وقف کرنا تو جائز ہے ،تجہیز و تکفین وغیرہ کے انتظامات کے لیے جگہ لینا اور صرف اسی مقصد کے لیے وقف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ 2۔ایسے دینی مراکز و مساجد جو عرصہ دراز سےسنی ٹرسٹ کے زیر انتظام ہیں ،ان کی خالی پڑی جگہوں یا پہلے سے موجود عمارت کے کسی حصے میں اس سروس کو شروع کیا جا سکتا ہے ؟ 3۔اس پورے آپریشن کو چلانے کے لیے ایک یا دو اجیر رکھے جائیں گے ،جو کسی مسلمان کی موت کی اطلاع ملنے پر میت کو گھر سے یا ہاسپٹل سے اس سینٹر پر لائیں گے۔ میت سے متعلق جتنے بھی قانونی تقاضے ہوں گے مثلا ہاسپٹل سے ڈیتھ سرٹیفکيٹ بنوانا ،کونسل سے اجازت لینا وتمام امور کی تکمیل ان کی ذمہ داری ہو گی ۔ یہ افراد سنی ٹرسٹ کے اجیر ہوں گے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے رکھے جانے والے اجیر کوٹرسٹ کے دینی مقاصد کے لیےجمع شدہ عطیات سے تنخواہ دی جا سکتی ہے ؟ 4۔میت کے اہل خانہ اگر تین دن تک مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھیں، تو ان کا مسجد میں بیٹھنا جائز ہے یا نہیں ؟ 5۔ مراکز و مساجد وغیرہ میں بعض کمرے مسجد کی ضروریا ت کے علاوہ ہو تے ہیں ،اگر تعزیت کے لیے بیٹھنے والے لوگوں کو ان کمروں میں بٹھا دیا جائے ،تو شرعاً اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟ نیز اگر ان لوگوں سے تین دن جگہ ،بجلی و پانی وغیرہ استعمال کرنے کے چارجز لیے جائیں،توشر عاً ا س کی اجازت ہو گی ؟ 6۔یورپ میں تجہیز و تکفین کے معاملات کی کھلے عام اجازت نہیں ہو تی کہ جہاں آپ چاہیں میت لے جائیں یا جہاں چاہیں غسل دیدیں ،بلکہ گورنمنٹ کی طرف سے منظور شدہ funeral homes میں ہی تمام کام کرنے ہو تے ہیں۔اتوار و دیگر کئی عام قومی تعطیلات کے سبب ،گورکنوں کی چھٹیاں ہو تی ہیں اور قبرستان بند ہو تے ہیں ۔اس لیے مجبورا ً میت کو سرد خانے میں رکھنا پڑتا ہے ۔پوچھنا یہ ہے کہ اگر ہم یہ کام کرتے ہیں ،تو ہمیں سرد خانے بنانے کی اجازت ہو گی یا نہیں ؟ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الوهاب اللّٰھم هدایۃالحق والصواب 1۔ کسی بھی مقصدکے لیے وقف درست ہونے کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط موقوف علیہ کی جہت ( یعنی جس جہت میں وقف کیا جارہا ہے، اس )کا قربت(نیکی کا کام ) ہونا ضروری ہے ۔ مسلمان میتوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام و انصرام کرنا بھی بلاشبہ بہت بڑی نیکی ہے ،اس مقصد کے لیے وقف کرنا بلاشبہ جائز ہے ۔ چنانچہ درمختار میں وقف کی شرائط کے بیان میں فرمایا :’’وأن یکون قربۃ فی ذاتہ‘‘یعنی جس جہت میں وقف کیا جارہا ہے ،اس کا فی نفسہٖ قربت( نیکی کاکام) ہو نا ۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے :’’أی بأن یکون من حیث النظر إلی ذاتہ وصورتہ قربۃ والمراد أن یحکم الشرع بأنہ لو صدر من مسلم یکون قربۃ حملا علی أنہ قصد القربۃ‘‘یعنی ا س چیز کی ذات اور صورت کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ کہا جا سکے کہ اگر یہ کام مسلمان سے صادر ہو تو شریعت کی نظر میں یہ نیکی کاکام قرار پائے گا اور اس کو اسی بات پر محمول کیا جائے گا کہ اس نے قربت کے ارادے سے یہ کام کیا۔ (فتاوی شامی، جلد6، صفحہ 522، مطبوعہ کوئٹہ ) قبرستان ،مسافر خانے ،پل اور کنوؤں وغیرہ کے اوقا ف کو فقہاء نے مصالح عامہ کے پیشِ نظر جائز قرار دیاہے ،بڑے شہروں اور بالخصوص غیر مسلم ممالک میں funeral homes کا قیام لوگوں کے مصالح میں شامل ہے، لہذا قبرستان وغیرہ کی طرح ان کا وقف بھی مصلحت عامہ للمسلمین کے سبب بلاشبہ جائز ہے۔ چنانچہ شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :’’ثم النزول فی الخان والدفن فی المقبرۃ من مصالح الناس قال اللہ تعالی ( اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا ) (المرسلات: 25) ( اَحْیَآءً وَّ اَمْوٰتًا ) (المرسلات26) وجواز الوقف لمعنی المصلحۃ فیہ للناس من حیث المعاش والمعاد‘‘ترجمہ : پھر سرائے میں قیام اور قبرستان میں دفنانا لوگوں کے مصالح میں سے ہے ،اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے: (کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا ، تمہارے زندوں اور مردوں کی ؟) اور وقف کا جواز اسی معنی کی وجہ سے ہے کہ اس میں لوگوں کے معاش و معاد کے اعتبار سے مصلحت ہے۔ (المبسوط،جلد12،صفحہ 33،دارالمعرفۃ،بیروت) ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں:’’ثم للناس حاجۃ إلی ما یرجع إلی مصالح معاشھم ومعادھم. فإذا جاز ھذا النوع من الإخراج والحبس لمصلحۃ المعاد فکذلک لمصلحۃ المعاش کبناء الخانات والرباطات واتخاذ المقابر‘‘ترجمہ:پھرلوگوں کواس چیزکی بھی حاجت ہے، جس میں ان کے معاش اورمعادکی مصلحتیں ہوں ،پس جب یہ قِسم یعنی اپنی ملکیت سے نکالنااورکسی مخلوق کی ملکیت میں داخل نہ کرنا(یعنی وقف کرنا)معادکی مصلحت کے لیے درست ہے،تواسی طرح معاش کی مصلحت کے لیے بھی درست ہوگا،جیسے سرائے اورغازیوں کے مکانات کی تعمیرکرنا اورقبرستان بنانا۔ (المبسوط،جلد12،صفحہ 29،دارالمعرفۃ،بیروت) تجہیز و تکفین کے لیےخریدی گئی جگہ میں چندہ دینے والوں کی اجازت کےساتھ کچھ جگہ یا کمرے اس مقصد کے لیے وقف کر دئیے جائیں کہ یہاں لوگ اجتماعی طور پر بیٹھ کرمیت کے ایصالِ ثواب کے لیےقرآنی خوانی کریں اور اہل میت تین دن تک یہاں بیٹھ کر تعزیت وصول کریں، تو اس میں بھی شرعاً حرج نہیں ۔ 2۔سنی ٹرسٹ کے زیر انتظام مساجد و مدارس و دیگر دینی امور کے لیے خریدی گئی جگہوں کی(وقف ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ) بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں : (۱)وہ جگہیں جو صرف مسجد یا پھر مسجد و مدرسہ دونوں کے نام سے عطیات جمع کرکے خریدی گئیں اور خریدنے کے بعد مکمل جگہ کو مسجد و مدرسہ کے لیے وقف کر دیا گیا ، یا کسی نے اپنی ذاتی ملک کو مسجد یا مسجد و مدرسہ وونوں کے لیے وقف کر دیا، تو ایسی جگہوں پر تجہیز و تکفین کے لیے کوئی جگہ مختص کرنا تغییر و تعطیل وقف کے سبب ناجائز و گناہ ہے کہ ان جگہوں کے کسی جز کو funeral home کرنے کی صورت میں ، مسجد یا اس کےفنا یا مدرسہ وغیر ہ میں سے کسی میں تغییر وقف لازم آئے گا جو شرعا ناجائز و حرام ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے کہ ’’لایجوز تغییر الوقف عن ھئیتہ فلا یجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دکانا الا اذا جعل الواقف الی الناظر ما یری فيه مصلحۃ الوقف۔‘‘یعنی وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں، لہٰذا مکان کو باغ، سرائے کوحمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گا، ہاں اگر واقف نے خود متولی کومصلحتِ وقف کے لیے تبدیلی کا اختیار دیا ہو ،تو جائز ہے۔‘‘ (فتاوی هندیہ، جلد 2،صفحہ490، مطبوعہ کوئٹہ) سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں : ’’ ایک وقف جس غرض کے لیے وقف کیا گیا ہے، اسی پر رکھا جائے، اس میں تو تغیر نہ ہو،مگر ہیئت بدل دی جائے ،مثلاً دکان کو رباط کردیں یا رباط کو دکان،یہ حرام ہے۔۔۔نہ کہ سرے سے موقوف علیہ بدل دیا جائے، متعلق مسجد کو مدرسہ میں شامل کرلیا جائے یہ حرام ہے اور سخت حرام ہے۔۔۔۔ تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالک حقیقی جل و علا کی ملک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد16 ،صفحہ 231 ،رضا فاؤنڈیشن، لاهور) البتہ ان جگہوں پر مسجد و مدرسہ وغیرہ کی نیت سے پہلے مسجد و مدرسہ کی آمدنی کے لیے کسی جگہ کو بطور دوکان یا مکان مختص کیا گیا تھا ،تو ایسی جگہوں کا عُرف کے مطابق کرایہ ادا کرکے ان پراس سروس کو شروع کیا جا سکتا ہے ،اگر پہلے سے ایسی کوئی جگہ نہیں تھی،تو ان کو مسجد و مدرسہ کرنے کے بعد ان کے کسی حصہ کو کرایہ پر لینا دینا بھی جائز نہیں ۔ (۲) وه جگہیں جوسنی ٹرسٹ نے اپنے مراکز کے لیے خریدیں ،ان کی خریداری کے لیے چندہ لیتے وقت اگر چندہ دینے والوں کو یہ صراحت (وضاحت ) کردی گئی تھی کہ اس جگہ کو مسجد، مدرسہ و تجہیز و تکفین سمیت ٹرسٹ کے زیر انتظام دیگر دینی امور کے لیے استعمال کیا جائے گا یا چندہ دینے والوں کو خاص funeral home بنانے کی صراحت تو نہیں کی ،لیکن وہاں دینی مراکز کے ساتھ فیونرل سینٹرز کا ہونا ہر چندہ دینے والے کے ذہن میں معہودومعروف ہے (یعنی ہرچندہ دینے والے کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ جہاں بھی دینی مرکز ہو گا ، وہاں یہ سروس بھی دی جائے گی)،تو ایسے مراکز کی وہ جگہیں جن کو ابھی کسی مقصد کے لیے باقاعدہ وقف نہیں کیا گیا ،ان جگہوں پر Funeral home (تجہیز و تکفین سینٹر) بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وقف نہ ہونے کی صورت میں یہ جگہیں بدستور چندہ دینے والوں کی ملک پر باقی ہیں اور چندہ دینے والوں کی اغراض میں فیونرل سروس کا قیام بھی موجود ہے ،لہٰذا ان جگہوں کوfuneral homes کے لیے باقاعدہ وقف یا بغیر وقف کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ، تاہم یہ یاد رہے! وقف نہ کرنے کی صورت میں یہ جگہیں بدستور چندہ دینے والوں کی ملک پر باقی رہیں گی ۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :’’اگر چندہ دینے والے سب یا ان کا وکیلِ ماذون بعد خریداری زمین یہ کہہ دیتا کہ اس زمین کو مسجد کیا، تو وہ کُل مسجدہو جاتی اور اس میں سے کسی جزو کی بیع یا کوئی تصرّف مالکانہ مطلقا حرام ہو تا ،لیکن ظاہرا یہاں ایسا واقع نہ ہوا، بلکہ زمین خریدی گئی کہ اس میں مسجد بنائی جائے گی اور بنانے میں تصحیح سمت کے سبب ایک حصہ چھوٹ گیا ،جس قدر میں مسجد بنی وہی مسجد سمجھی گئی اور اس میں نماز جاری ہوئی،حصہ متروکہ کو اگر چندہ دہندوں یا ان کے وکیل ماذون نے وقف علی المسجد کر دیا، تو اب بھی اس کی بیع ناجائز ہو ئی ،مگر سوال سے اس صورت کا وقوع بھی ظاہر نہیں ہو تا ،صرف اتنا ہوا کہ وہ چندہ دے کر اس روپے اور زمین سے بے تعلق ہو گئے اور یہ ملک سے خارج ہونے کا موجب نہیں جب تک وقف شرعی نہ پایا جائے ،یہ بیع اور اس روپے کا مسجد میں صرف کرنا اگر اجازت مالکان سے تھا یا بعد وقوع انہوں نے اجازت دیدی ،تو دونوں تصرف صحیح ہو گئے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد16،صفحہ 422،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاهور) کسی کام کے چندہ دینے والوں کے ذہنوں میں معہود و معروف ہونے کی صورت میں اس کی دلالۃ اجازت کا ثبوت فتاوی رضویہ کے اس جزئیہ سے واضح ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ انجمن کی طرف سے یتیم بچیوں کے نکاح میں ان کو سامان بطور جہیز خرید کر دینے سے متعلق فرماتے ہیں ’’یہ اس صورت میں ہے کہ یتیمات کا نکاح کرنا ، اُنہیں مالِ انجمن سے جہیز دینا اغراضِ مشتہرہ معلومۂ انجمن میں داخل ہو جس سے اس امر میں بھی ما لکان چندہ کی طرف سے توکیل صدر حاصل ہو،اگر ایسا نہیں بلکہ بلا اذن مالکین یہ تجہیز صدر نے بطور خود کی ، تو اب وہ اس شرائے سامان میں فضولی ہو گا اور شراء جب تک نفاذ پائے ، مشتری پر نافذہوتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12،صفحہ 255،رضا فاؤنڈیشن، لاهور ) یہ بھی یاد رہے! مراکزکے لیے خریدی گئی جگہوں میں مساجد و مدارس کے علاوہ کسی اور دینی کام کرنے کی اجازت ہونا اور بات ہے اور ایسی جگہوں کو مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کر دینے کے بعد اس وقف شدہ جگہ کو غیر موقوفہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا کچھ اور ہے ۔ کسی جگہ پر ہر چیز کی اجازت ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ وقف کیے بغیر اس میں سب امور انجام دیے جا سکتے ہیں یا اس جگہ کو اجازت یافتہ امور میں سے کسی ایک یا سب پر وقف کیا جا سکتا ہے ،جبکہ شرعاً اس کا وقف کرنا درست ہو ،لیکن وکیلِ ماذون کی طرف سے جب اس کو کسی ایک مقصد کے لیے وقف کر دیا گیا، تو اب اس جگہ کو کسی دوسرے ماذون یا اجازت یافتہ مقصد کے لیے استعمال کرنا ، جائز نہ ہو گا، جیسے اگر کسی نے اس طور پر جگہ یا چندہ کسی تنظیم کو دیا کہ وہ اس جگہ پر جو چاہے بنالے ، جگہ لینے یا خریدنے کے بعد اگر وکیلِ ماذون نے اس تمام جگہ کو مسجد کر دیا ، تو اب تمام جگہ مسجد ہو گئی ،اب مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے اس جگہ کو استعمال کرنا تغییر وقف کے سبب ناجائز ہو گا ۔ 3۔مذکورہ سروس مہیا کرنے پر اس کے مختلف امور کو انجام دینے کے لیے اجیر رکھنا اور اس کوسنی ٹرسٹ کے عطیات سے تنخواہ ادا کرنا ، جائز ہے ،کیونکہ تجہیزو تکفین کے امور میں معاونت اور اس کے لیے انتظامات کرنا سنی ٹرسٹ کے بیان کردہ معروف مقاصد میں نہ صرف شامل ہے، بلکہ اس کام کے لیے ایک پورا شعبہ موجو د ہے ۔سنی ٹرسٹ کی طرف سے( اپنے ابلاغی ذرائع یعنی پرنٹ و الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور بیانات کے ذریعے ) جب بھی ڈونیشن کی ترغیب دلائی جاتی ہے، دیگر دینی شعبہ جات کے ساتھ ساتھ اس شعبہ کا ذکر بھی نمایاں طور پرکیا جاتا ہے۔جب سنی ٹرسٹ کی طرف سے اپنے تمام دینی شعبہ جات کے لیے اپیل کی جاتی ہے، تو ان شعبہ جات میں تجہیز و تکفین کا شعبہ بھی شامل ہے ۔سنی ٹرسٹ کا اپنے عطیات میں سے اس شعبہ پر خرچ بلاشبہ چندہ دینے والوں کی اغراض میں شامل ہے ۔ 4۔اہل میت کا مسجد کے علاوہ تین دن تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز ہے، البتہ مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنے کے بار ے میں فقہاء کے دو طرح کے اقوال ہیں: بعض فقہاء جن میں صاحب ظہیریہ و صاحبِ درر شامل ہیں ،انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ،جبکہ دیگر فقہاء نے اس کو مکروہ قرار دیا۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجد د دین وملت نے جد الممتار میں دونوں اقوال میں یہ تطبیق بیان کی کہ یہ کراہت ،کراہت تنزیہی پر محمول ہے اور جس حدیث میں یہ بیان ہوا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم تعزیت کے لیے مسجد میں تشریف فرما ہوئے ، یہ بیان ِجواز کے لیے ہے ،لہٰذا مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنے سے احتراز کرنا چاہیے ،یہ بھی یا در ہے کہ تین دن تعزیت کے لیے بیٹھنے کی اجازت بھی مردو ں کو ہے، عورتوں کو تعزیت کے لیے بیٹھنے سے فقہاء نے منع فرمایا ہے ۔ فتاوی شامی میں ہے :’’ لکن فی الظھیریۃ : لا بأس بہ لأھل المیت فی البیت أو المسجد والناس یأتونھم ویعزونھم ‘‘ ترجمہ : لیکن ظہیریہ میں ہے: ورثائے میت کا گھر یا مسجد میں اس لیے بیٹھنا کہ لوگ ان کے پاس تعزیت کرنے آئیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاوی شامی، جلد 3، صفحہ 176، مطبوعہ کوئٹہ ) الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :’’ الجلوس فیہ ثلاثۃ أیام للتعزیۃ مکروہ ‘‘ترجمہ : مسجد میں تین دن تک تعزیت کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار ،کتاب الکراهیۃ،جلد 4 ، صفحہ 177، دار الکتب العلمیہ، بیروت) درمختار میں ہے :’’وبالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلاثۃ ایام ‘‘یعنی تعزیت کے لیے غیر مسجد میں تین دن تک بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔ در مختار کی اس عبارت ’’فی غیر مسجد‘‘ کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’اما فیہ فیکرہ کما فی البحرعن المجتبی ،وجزم بہ فی شرح المنیہ والفتح‘‘یعنی بہر حال مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے، جیسا کہ بحر میں مجتبٰی کے حوالے سے ہے ، شرح منیہ اور فتح میں اسی پر جزم فرمایا۔ (فتاوی شامی، جلد3، صفحہ 176، مطبوعہ کوئٹہ ) سیدی اعلیٰ حضرت، الشاہ ،امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :’’عندی ان الاولی حمل الکراھۃ فی الامداد علی التنزیہ وھو الذی یعطیہ قولھم ( لا باس بالجلوس لھا ) فیحصل التوفیق ویکون فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقریرہ بیانا للجواز‘‘ ترجمہ : میرے نزدیک امداد کے قولِ کراہت کو مکروہ تنزیہی پر محمول کرنا اولیٰ ہے اور فقہاء کا قول ” تعزیت کے لئے بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘‘ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کر رہا ہے، لہذا توفیق حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل و تقریر بیانِ جواز کے لیے ہوگا۔ (جد الممتار، جلد3، صفحہ683، مکتبۃ المدینہ، کراچی) احتراز کا حکم بھی اس صورت میں ہے، جبکہ مسجد کے آداب کا لحاظ رکھا جائے ،ذکر و تلاوت جاری رہے ،اس کے بر عکس اگر مسجد میں بیٹھنے کا ماحول کسی ڈرائنگ روم کے ماحول کی طرح ہو کہ دنیاجہاں کی الٹی سیدھی باتیں ،ہنسی مذاق ،قہقہے، مذاق مسخری کہ جس سے مسجد کا تقدس پامال ہو ،ایسی صورت میں مسجد میں بیٹھنا جائز نہیں ہو گا ۔ عورتوں کے تعزیت کے لیے بیٹھنے کے تعلق سے رد المحتار میں خزانۃ الفتاوی کے حوالے سے ہے:’’وفی الاحکام عن خزانۃ الفتاوی : الجلوس فی المصیبۃ ثلاثۃ ایام للرجال،جاء ت الرخصۃ فیہ ،ولا تجلس النساء قطعا ‘‘ یعنی احکام میں خزانۃ الفتاوی کے حوالے سے ہے: مصیبت میں تین دن بیٹھنے کی رخصت صرف مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کو اس کی قطعا اجازت نہیں ۔ ( فتاوی شامی، جلد3، صفحہ 176، مطبوعہ کوئٹہ) 5۔ مراکز کی وہ جگہیں جن کو باقاعدہ کسی مقصد کے لیے وقف نہیں کیا اور وہ بدستور چندہ دینے والوں کی ملک پر باقی ہیں اور چندہ دینے والوں کی طرف سے ان جگہوں کو کسی بھی نیک و جائز کام میں استعمال کرنے کی صراحتاً یا دلالۃ اجازت موجود تھی ،تو ان جگہوں پر تعزیت کے لیے بیٹھنے والوں کا انتظام دو شرطوں کی پاسداری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے ۔ پہلی شرط یہ کہ مجمع مخلوط نہ ہو اور صرف مردوں کے لیے انتظام ہو ۔ دوسری یہ کہ اس جگہ کا کرایہ وصول نہ کیا جائے، کیونکہ مراکز کے لیے خریدی گئی جگہوں کو آمدنی کے لیے وقف کیے بغیر کرائے پر دینا چندہ دینے والوں کی غرض کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی شخص مشروط یا معروف کے بغیر اپنی رضا مندی سے مسجد و مدرسہ کے اخراجات یا دینی امور میں معاونت کے لیے ٹرسٹ کے ساتھ تعاون کرتا ہے ،تو ایسا کرنا ، جائز ہے ۔ 6۔ایسی ضرورت کہ جس کی وجہ سے فی الوقت تدفین ممکن نہیں ،جیسے یورپ و دیگر مغربی ممالک میں week end (ہفتہ وار ) یا دیگر قومی تعطیلات کے مواقع پر متعلقہ افراد کی چھٹیوں کے سبب قبرستان بند ہو تے ہیں اور خود سے تدفین کا عمل ممکن نہیں ،اسی طرح موسم خراب ہونے کے سبب تدفین ممکن نہ ہو اور سرد خانے میں رکھے بغیر جسم کی حفاظت کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی،تو اس صورت میں بقدر ضرورت سر دخانے میں رکھنے کی اجازت ہو گی ۔ ممکنہ شرعی اعذار کے بغیر میت کو سر د خانے میں رکھنا در حقیقت اس کو تکلیف پہنچانا ہے اور شرعاً یہ عمل ناجائز ہے ۔موت کے بعد تجہیز و تدفین وغیرہ میں جلدی کرنی چاہیے ، بلاوجہ تاخیر ناپسندیدہ ہے ۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے:’’ عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کسر عظم المیت ککسرہ حيا ‘‘ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ میت کی ہڈی توڑنا ،زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے ۔‘‘ ( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز ، باب في الحفار يجد العظم الخ ، ج 3 ، ص 212 ،مطبوعہ بیروت ) اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’یعنی جیسے وہ حرام ہے، ایسے ہی یہ حرام ۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی کہ مومن کو بعد موت ایذاء دینا ایسا ہی ہے، جیسے اسے زندگی میں ستانا ۔ یہاں مرقا ت میں ہے کہ جن چیزوں سے مومن زندگی میں راحت پاتا تھا ،انہی چیزوں سے بعد موت بھی راحت پاتا ہے ،لہٰذا وہاں تلاوت کرنا خوشبودار چیزیں رکھنا وغیرہ بہتر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان مردے کا پوسٹ مارٹم کرنا یا اسے مردہ خانہ رکھ کر اس کی کھال اتارنا ،اس کے پرزے اڑادینا ،عرصہ تک دفن نہ کرنا سخت ممنوع ہے،ضروریا ت شرعیہ اس سے مستثنیٰ ہیں ۔“ (مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 2،صفحہ483،مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ) بلا ضرورتِ شرعیہ تدفین کو مؤخر کرنا درست نہیں ،چنانچہ امداد الفتاح میں ہے:’’اذا تیقن موتہ یعجل بتجھیزہ اکراما لہ و روی ابوداود عنہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ لما عاد طلحۃ بن البراء وانصرف قال : مااری طلحۃ الا قد حدث فیہ الموت ،فاذا مات فاذنونی بہ حتی اصلی علیہ وعجلوا بہ ،فانہ لاینبغی لجیفۃ مسلم ان تحبس بین ظھرانی اھلہ والصارف عن وجوب التعجیل الاحتیاط للروح الشریفۃ فانہ یحتمل الاغماء وقد قال الاطباء ان کثیرین ممن یموتون بالسکتۃ ظاھرا یدفنون احیاء ،لانہ یعسر ادراک الموت الحقیقی بھا الا علی افاضل الاطباء فینبغی التاخیر فیھا الی ظھور الیقین بنحو التغییر ‘‘۔ترجمہ:یعنی جب کسی شخص کی موت کا یقین ہو جائے، تو اس کے احترام کے سب اس کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا چاہیے، امام ابو داؤد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت طلحہ بن براء کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور واپس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ طلحہ کو موت واقع ہو چکی ہے اور جب انتقال ہو جائے ،تو مجھے اس کی اطلاع دینا تاکہ میں اس کی نماز جنازہ ادا کروں اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ۔کسی مسلمان میت کو اس کے اہل کی پیٹھ پر روک کر نہیں رکھنا چاہیے۔تعجیل کے وجوب سے پھیرنے کا سبب احتیاط ہے ،کیونکہ جسم سے روح کے جدا ہونے کا معاملہ انتہائی خفی ہے ۔اطباء کا کہنا ہے کئی ایسے لوگ ہیں ،جو سکتے میں چلے جانے کے سبب بظاہر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کو اسی حالت میں دفن کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ زندہ ہو تے ہیں ۔حقیقی طور پر موت کے وقوع کو جاننا انتہائی مشکل معاملہ ہے،فاضل اطباء کے علاوہ کم ہی ایسے طبیب ہوں گے ،جو اس معاملے کاصحیح ادراک رکھتے ہوں۔اس لیے موت کے یقین ہو نے تک اس معاملے کو مؤخر کیا جانا چاہیے اور جب موت کے واقع ہو نے کی کوئی علامت ؛مثلا جسم کا متغیر ہونا وغیرہ ظاہر ہو جائے ،تو پھر تجہیز و تدفین کا معاملہ کیا جائے ۔ (امداد الفتاح ،صفحہ 607،مطبوعہ صدیقی پبلشرز، کراچی ) واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کتبــــــــــــہ محمد سجاد عطاری مدنی یکم ذیقعدۃ الحرام 1437؁ ھ بمطابق 3ستمبر 2016؁ ء

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن