30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : بارش کے پانی کو حاصل کرنے کے لیے بارش شروع ہوتے ہی پانی جمع کرنا شروع نہ کیا جائے کیونکہ فَضا میں گَرد و غُبار، دُھواں اور کیمیاوی عَناصِر وغیرہ ہوتے ہیں ۔ ابتِدائی برسات اِن کو بہا کر زمین کی طرف لاتی ہے ۔ جب کچھ دیر بارش برس جاتی ہے تو یہ آلُودگیاں ختم ہو جاتی ہیں، اب کھلی فَضا میں چوڑے مُنہ کا برتن(پتیلا، تھال وغیرہ)رکھ کر بارش کا پانی جمع کر لیں اور صاف بوتلوں میں بھر کر محفوظ کر لیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ مریضوں کے لیے کارآمد رہے گا بلکہ سبھی کو تَبَرُّکاً پینا چاہیے کہ قرآنِ پاک میں اس کو مبارَک پانی قرار دیا گیا ہے چنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ(۹) (پ۲۶، ق : ۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اُتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے ۔
بارِش کے پانی کا بیماری میں اِستِعمال کاطریقہ
سُوال : بارِش کا پانی بیماری میں کس طرح استِعمال کیا جائے ؟
جواب : اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات، مولا مشکل کشا، علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم مریضوں کو اس طرح ہدایت فرماتے تھے کہ قرآنِ پاک کی کوئی سی آیت لکھ کر اس کو بارش کے پانی سے دھو کر اس پانی میں شَہْد ملا کر پی لیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ شِفا پائیں گے ۔ ([1])
یاد رکھیے !قرآنِ پاک کی کسی آیت یا سورۃ کو بہ نیتِ شفا برتن وغیرہ پر لکھ کر اسے استعمال کر سکتے ہیں مگر یہ احتیاط ضروری ہے کہ لکھنے والا باوضو ہو اور جس برتن وغیرہ پر آیت یا سورۃ لکھی ہے اسے بے وُضو ، جنب اور حَیض و نِفاس والی عورت ہرگز نہ چھوئے کہ یہ حرام ہے چنانچہ صدرُ الشَّریعہ ، بدرُالطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : جس برتن یا گلاس پر سورۃ یا آیت لکھی ہو اس کا چھونا بھی ان کو (یعنی بے وُضو اور جنب اور حَیض و نِفاس والی کو) حرام ہے اور اس کا استعمال سب کو مکروہ مگر جبکہ خاص بہ نیتِ شفا ہو ۔ ([2])
سُوال : بارش کی کوئی اور فضیلت بھی بیان فرما دیجیے ۔
جواب : برستی بارِش میں دُعا قبول ہوتی ہے ۔ دَفنِ میِّت کے بعد بارش ہونا نیک فال([3]) ہے خُصوصاً جب کہ پہلے سے بارِش کے آثار نہ ہوں جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت سے ایک عورت کے دفن کرنے کے بعد بارش ہونے کے بارے میں سُوال کیا گیا تو اِرشاد فرمایا : بارش رحمت فالِ حسن ہے خصوصاً اگر خلافِ عادت ہو ۔ ([4])
حضرتِ سیِّدُنا شيخ ابو طالب محمد بن علی مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : روایت میں ہے کہ جس نے ننگے پاؤں اور ننگے سر طواف کيا اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے بارش میں طواف کے سات چکر لگائے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ ([5])
٭…٭…٭…٭…٭…٭
| قرآنِ پاک | ٭…٭…٭… | ٭…٭…٭ | ٭…٭…٭…٭ام کتاب | ||
| نام کتاب | مطبوعہ | نام کتاب | مطبوعہ | ||
| کنزالایمان | مکتبۃس المدینۃ۱۴۳۲ھ | حلیۃالاولياء | دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ | |
[1] ۔ ۔ ۔ تَفْسِیْراِبْنِ کَثِیْر، پ۱۴، النحل، تحت الآیة : ۶۹، ۴ / ۵۰۱ ملخّصاً
[2] ۔ ۔ ۔ بہارِشریعت ، ۱ / ۳۲۷، حصّہ : ۲
[3] ۔ ۔ ۔ محاورۂ عرب میں ”فال“ ہر اچھی بُری شگون کو کہتے ہیں ۔ خیال رہے کہ” نیک فال“ لینا سنَّت ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے اُمّید ہے اور” بدفالی“ لینا ممنوع کہ اس میں رب سے نااُمیدی ہے ۔ اُمّید اچھی ہے نااُمیدی بُری، ہمیشہ رب سے اُمّید رکھو ۔ (مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۲۵۵ ملتقطاً)
[4] ۔ ۔ ۔ فتاویٰ رضویہ، ۹ / ۳۷۳
[5] ۔ ۔ ۔ قوتُ القلوب ، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکر دعائم الاسلام...الخ ، ۲ / ۱۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع