30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
([1])اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہر قسم کے مُوْذِیا ت سے محفوظ و مامون فرمائے اور آخرت میں بھی ان کے عذاب سے بچائے ، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔
مری لاش سے سانپ بچھو نہ لپٹیں
کرم از طفیلِ رضا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
سُوال : کیا شَہْد کا استِعمال سُنَّت ہے ؟ نیز شَہْد کتنے رنگ کا ہوتا ہے ؟
جواب : جی ہاں! شَہْد کا استِعمال سُنَّت ہے ۔ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم اسے پسند فرماتے تھے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُہُ الْحَلْوَآءُ وَالْعَسَلُ یعنی نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے ۔ ([2])اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے شَہْد میں شفا رکھی ہے چنانچہ پارہ 14سورۃُ النحل کی آیت نمبر 69 میں اِرشاد ہوتا ہے : (فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-) ترجمۂ کنزالایمان : ”جس (شہد) میں لوگوں کی تندرستی ہے ۔ “حدیث شریف میں ہے : اَلشِّفَآءُ شِفَاءَانِ، قِرَاءَۃُ الْقُرْاٰنِ وَشُرْبُ الْعَسَلِ یعنی شِفا دو چیزوں میں ہے ، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور شہد پینے میں ۔ ([3])
شَہْد کے چار رَنگ ہوتے ہیں : اَبیض(سفید)، اَصْفَر(زرد)، اَحمر(سرخ)اور اَسْوَد(کالا) اور یہ رنگ بھی مکّھی کی عمر کے اِعتبار سے ہوتے ہیں ۔ سفید رنگ جوان مکّھی کا ہو گا اور زرد ادھیڑ عمر والی کا اور سُرخ رنگ بوڑھی مکّھی کا اور کالا رنگ اُس مکّھی کا ہو گا جو اس سے زائد عمر میں پَہُنچ کر محنت کرے ۔ ([4])
سُوال : شَہْد پینے کا طریقہ اور اس کے فوائد بھی بیان فرما دیجیے ۔
جواب : مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم روزانہ صبح کو ایک پیالہ شہد کا شربت نوش فرمایا کرتے تھے ۔ ([5])پانی میں شَہْد ملا کر صبح خالی پیٹ پینا بَہُت سارے منافِع کا مجموعہ ہے ۔ خالی پیٹ میں شہد فوراً جَذب ہو کر مِعدہ کی صفائی کرتا اور جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابُوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ صحت نشان ہے : جو کوئی ہر ماہ تین دِن صبح کے وَقْت شَہْد چاٹ لے وہ اس مہینے کسی بڑی بَلا میں مبتلا نہ ہو گا ۔ ([6])
حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی :
یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم! میرے بھائی کو دَست کی بیماری ہے ۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اسے شہد پلاؤ ۔ وہ شخص پھر دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کی : دَست اور زیادہ ہوگئے ہیں ۔ فرمایا : اسے شَہْد پلاؤ ۔ وہ شخص پھر آ کر عرض کرنے لگا کہ میں نے اپنے بھائی کو شہد پلایا ہے دَست اور زیادہ ہو گئے ہیں ۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللّٰہتعالیٰ نے سچ فرمایا ہے اور تیرے
[1] ۔ ۔ ۔ مُسْلِم، کتاب الذکر والدعاء...الخ ، باب فی التعوذ ...الخ ، ص۱۴۵۳، حدیث : ۲۷۰۹
[2] ۔ ۔ ۔ بخاری ، کتاب الطب ، باب الدواء بالعسل ، ۴ / ۱۷، حدیث : ۵۶۸۲
[3] ۔ ۔ ۔ مستدرکِ حاکم ، کتاب الطب ، الشفاء شفاءان...الخ ، ۵ / ۲۸۲، حدیث : ۷۵۱۳
[4] ۔ ۔ ۔ تفسیرحسنات، پ۱۴، النحل، تحت الآیۃ : ۶۹، ۳ / ۶۳۷ ماخوذاً
[5] ۔ ۔ ۔ مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۲۵۱
[6] ۔ ۔ ۔ اِبنِ ماجہ ، کتاب الطب ، باب العسل ، ۴ / ۹۴، حدیث : ۳۴۵۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع