30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ، کون شخص قبول کر رہا ہے ؟ یہ معلوم نہیں ہوتا ہے اور صرف آواز سے یہ متعین نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فُلاں شخص کی آواز ہے اس لئے کہ آواز دوسرے کی طرح بنائی جا سکتی ہے ۔ لوگ جانوروں کی آوازوں کی اس طرح نقل کرتے ہیں کہ اگر سامنے نہ ہو تو پہچانا نہیں جا سکتا کہ یہ آواز جانور کی ہے یا انسان نقل کر رہا ہے ۔ بہر حال ٹیلی فون پر نکاح باطل ہے ۔ ([1])فتاویٰ فیض ُ الرّسول میں ہے : ٹیلی فون کے ذریعے نکاح پڑھنا ہرگز صحیح نہیں ۔ ([2])
سُوال : کیا کوئی ایسی صورت نہیں جس سے ٹیلیفون پر نکاح کرنا دُرست ہو جائے ؟
جواب : ٹیلیفون پر نکاح دُرست ہونے کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ لڑکا یا لڑکی خط یا ٹیلیفون کے ذریعے کسی شخص کو اپنا وکیل بنا دے مثلاً لڑکا کسی کو اپنا وکیل بناتے ہوئے یہ کہے کہ میں فُلانہ بنتِ فُلاں بن فُلاں سے اتنے حق مہر کے بدلے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں یا لڑکی کہے کہ میں فُلاں بن فُلاں سے اتنے حق مہر کے بدلے میں نکاح کرنا چاہتی ہوں ۔ اب وہ وکیل لڑکے یا لڑکی کی طرف سے دوسری جگہ دو گواہوں کے سامنے مجلس ِنکاح میں ایجاب وقبول کرے تو اس طرح نکاح ہو جائے گا ۔
شَہْد کی مکھی کو نہیں مارنا چاہیے
سُوال : (بیرونِ ملک کے قِیام کے دَوران غالِباً ۴ ربیعُ الآخر ۱۴۱۸ ھ کو قِیام گاہ پر عَلَی الصُّبح اندھیرے میں امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پاؤں بے خیالی میں ایک شَہْد کی مکّھی پر پڑ گیا ۔ اُس نے جلال میں آ کر پاؤں کے تَلوے پر ڈنک مار دیا ، آپ نے بے تاب ہو کر قدم اُٹھا لیا شہد کی مکّھی رینگنے لگی ۔ ایک اسلامی بھائی اس مکھی کو مارنے کے لیے دوا کا اسپریئر (Flying Insect Killer)اُٹھا لائے ۔ آپ نے فوراً اس کا ہاتھ روک دیا اور فرمایا : اس بے چاری کا قُصور نہیں ۔ قصور میرا ہی ہے کہ میں نے بے دیکھے اس پر پاؤں رکھ دیا اب وہ اپنی جان بچانے کے لیے ڈنک نہ مارتی تو اور کیا کرتی؟ اس پر آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں عرض کی گئی : )کیا شَہْد کی مکّھی کو نہیں مارنا چاہیے ؟
جواب : شَہْد کی مکّھی کو نہیں مارنا چاہیے کہ” نبیٔ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے چیونٹی اور شَہْد کی مکّھی کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ “ ([3]) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ چیونٹی، شَہْد کی مکّھی، ہُدہُد اور اِلٹورا(سبزرنگ کا پرندہ جو چھوٹے پرندوں کا شکار کرتا ہے ) ۔ ([4]) اَلبتہ ایسی چیونٹیاں جو بستروں پر چڑھ جاتی ہیں اور آدمی کی آنکھوں یا بدن کے دوسرے حصّوں پر کاٹ لیتی ہیں جس سے آدمی شدید تکلیف میں مبتَلا ہو جاتا ہے تو اِنہیں اپنے سے ضَرر(نقصان)کو دُور کرنے کے لیے فِنِس وغیرہ اَسپرے کے ذریعے مارنا جائز ہے ۔ اس کی اصل وہ اَحادیثِ مُبارکہ ہیں جن میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمنے کاٹنے والے کتّے ، چوہے وغیرہ کو قتل کرنے کا حکم اِرشاد فرمایا ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول ُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مؤمن کی مثال شَہْد کی مکّھی کی طرح ہے جو کھاتی ہے تو پاکیزہ چیز(پھولوں کا رَس) اور پیدا کرتی ہے تو پاکیزہ چیز(شہد)اور جس پاکیزہ چیز پر بیٹھ جائے تو اُسے خراب کرتی ہے نہ توڑتی ہے ۔ ([5])
شَہْد کی مکّھی کے ڈنک میں عذابِ قبر وجہنم کی یاد ہے اور یہ تو مقامِ شُکر ہے کہ مجھے شَہْد کی مکّھی نے کاٹا ہے اگر اس کی جگہ کوئی بچھو ہوتا وہ کاٹ لیتا تومیں کیا کرتا؟
[1] ۔ ۔ ۔ وقارُالفتاویٰ، ۳ / ۵۲ ملتقطاً
[2] ۔ ۔ ۔ فتاویٰ فَیض الرسول ، ۱ / ۵۶۰
[3] ۔ ۔ ۔ مُصَنّف اِبن اَ بی شیْبة ، کتاب الادب ، باب فی قتل النمل ، ۶ / ۲۵۹، حدیث : ۱
[4] ۔ ۔ ۔ اِبنِ ماجَہ ، کتاب الصید ، باب ما ینھی عن قتلہ ، ۳ / ۵۷۸، حدیث : ۳۲۲۴
[5] ۔ ۔ ۔ مستدرکِ حاکم ، کتاب الایمان، صفة حوضہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ...الخ ، ۱ / ۲۵۶، حدیث : ۲۶۱ مختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع