30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(8) عذاب ِ جہنم میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کچھ لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے غرقی لنگوٹیوں کی طرح کچھ چیتھڑے تھے اور جہنم کے گرم پتھر اور تھوہر اور سخت کڑوی جلتی بدبو دارگھاس چوپایوں کی طرح چرتے پھرتے تھے ۔ جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی : یہاں پر مالوں کی زکوٰۃ نہ دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا، اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں فرماتا ۔(الزواجر ، کتاب الزکوٰۃ، الکبیرۃ السابعۃ، الثامنۃ والعشرون....الخ، ج۱، ص۳۷۲)
ایک مقام پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : زکوۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا ۔(مجمع الزوائد ، کتاب الزکوٰۃ، باب فرض الزکوۃ، الحدیث۴۳۳۷، ج۳، ص۲۰۱)
ایک اور مقام پر فرمایا : ’’دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں سے ایک وہ مالدار کہ اپنے مال میں اللہعَزَّوَجَلَّ کا حق ادا نہیں کرتا۔‘‘
(صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکوٰۃ، باب لذکر ادخال مانع الزکوۃ النار۔۔۔۔الخ ، الحدیث۲۲۴۹، ج۴، ص۸ ملخصاً)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت ‘‘جلد اوّل کے صفحہ405 پر لکھتے ہیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے !زکوٰۃادا کرنے کے جہاں بے شُمار ثوابات ہیں نہ دینے والے کیلئے وَہاں خوفناک عذابات بھی ہیں ، چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن قراٰن و حدیث میں بیان کردہ عذابات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں ، ’’خُلاصہ یہ ہے کہ جس سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دی جائے ، روزِ قِیامت جہنَّم کی آگ میں تپا کر اُس سے اُن کی پیشانیاں ، کروٹیں ، پیٹھیں داغی جائیں گی۔ اُن کے سر ، پِستان پر جہنَّم کا گرم پتّھر رکھیں گے کہ چھاتی توڑ کر شانے سے نکل جائیگا اور شانے کی ہڈّی پر رکھیں گے کہ ہڈّیاں توڑتا سینے سے نکل آئے گا، پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا ، گُدّی توڑ کر پیشانی سے اُبھرے گا ۔ جس مال کی زکوٰۃ نہ دی جائے گی روزِ قِیامت پُرانا خبیث خونخوا ر اَژدہا بن کر اُس کے پیچھے دوڑے گا ، یہ ہاتھ سے روکے گا، وہ ہاتھ چبالے گا، پھر گلے میں طوق بن کر پڑے گا، اس کا مُنہ اپنے مُنہ میں لے کر چبا ئے گا کہ میں ہوں تیرا مال ، میں ہُوں تیرا خزانہ۔ پھر اسکاسارا بدن چبا ڈالے گا۔ والعِیاذ باللہ رب العٰلمین(فتاوٰی رضویہ تخریج شدہ ج۱۰ص ۱۵۳)میرے آقا اعلیٰحضرت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ زکوٰۃ نہ دینے والے کو قِیامت کے عذاب سے ڈرا کرسمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں ، اے عزیز ! کیا خدا و رسولعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرمان کو یونہی ہنسی ٹَھٹھّا سمجھتا ہے یا( قِیامت کے ایک دن یعنی) پچاس ہزار برس کی مدّت میں یہ جانکاہ مُصیبتیں جَھیلنی سَہل جانتا ہے ، ذرا یہیں کی آگ میں ایک آدھ روپیہ( چھوٹا سا سکّہ) گرم کر کے بدن پر رکھ کر دیکھ، پھر کہاں یہ خفیف( ہلکی سی) گرمی، کہاں وہ قہر آگ، کہاں یہ ایک ہی روپیہ کہاں وہ ساری عمر کا جوڑا ہوا مال، کہاں یہ مِنَٹ بھر کی دیر کہاں وہ ہزار دن برس کی آفت ، کہاں یہ ہلکا سا چہکا( یعنی معمولی سا داغ) کہاں وہ ہڈّیاں توڑ کر پار ہونے ولا غضب ۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کو ہدایت بخشے ۔ (اَیضاً ص۱۷۵)
ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ُ ربِّ العزّت لکھتے ہیں : غر ض زکوٰۃ نہ دینے کی جانکاہ آفتیں وہ نہیں جن کی تاب آسکے ، نہ دینے والے کو ہزار سال ان سخت عذابوں میں گرفتاری کی امید رکھنا چا ہئے کہ ضعیف البنیان انسان کی کیا جان، اگر پہاڑوں پر ڈالی جائیں سُرمہ ہوکر خاک میں مل جائیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ زکوٰۃ و خیرات کے ضَروری احکامات کی معلومات ہوتی رہیں گی اور عمل کے جذبے میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
زکوٰۃ شریعت کی جانب سے مقرر کردہ اس مال کو کہتے ہیں جس سے اپنا نفع ہر طرح سے ختم کرنے کے بعد رضائے الہٰیعَزَّوَجَلَّ کے لئے کسی ایسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع