30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہتا ہے، اس لیے قَبْر میں ان کی پہچان کرائی جاتی ہے، حضور( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) سے پہلے یہ سوالات قبر نہ تھے۔
(تفسیر نور العرفان، ص899)
(2) رضائے الٰہی کی علامات یہ ہیں کہ بندے کو اعمال ِ خیر کی توفیق ملتی ہے، مخلوق کے دل اس کی طرف کھنچتے ہیں اور لوگوں میں اس کا ذکرِ خیر رہتا ہے فرشتے بھی اس سے مَحَبّت کرتے ہیں۔
(تفسیر نور العرفان،ص719)
(3) بندے کی رضا کی علامت یہ ہے کہ بندہ رَنج و خوشی، عیش و مصیبت ہر حال میں رب سے راضی رہتا ہے، اس کے تشریعی سخت احکام بَخوشی بَجالاتا ہے، جب بیمار ڈاکٹر سے راضی ہے تو اس کی کَڑْوِی دوا، آپریشن سے بھی راضی، یہ نعمت کسی کسی کو ملتی ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص719)
” سُوْرَۃُ الزِّلْزَال“سے حاصل ہونے والی 03 خوبصورت باتیں
(1) جِنّ و اِنْس اپنی زندگی میں زمین پر بوجھ ہیں، دَفْن کےبعد زمین کا بوجھ، اسی لیے انہیں ”ثَقَلَیْن“ کہا جاتا ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص900)
(2) قیامت میں سات گواہ ہوں گے، زمین ، آسمان، وقت، خود ہمارے ہاتھ پاؤں، کاتبِ اعمال فرشتے، اعمال نامہ ، اللہ تعالیٰ۔
(تفسیر نور العرفان،ص719)
(3) جیسے زمین میں پانی وغیرہ جَذْب کرلینے کی صلاحیت ہے ایسے ہی ہمارے قول و عمل کیچ کرلینے کی بھی صلاحیت ہے، آج سب کچھ جذب کررہی ہے، قیامت میں بیان کردے گی، جیسے ریکارڈ بَھرتے وقت ہر آواز جذب کرلیتا ہے پھر مشین کی سُوئی لگتے ہی بول پڑتا ہے۔ نیز زمین سَعادَت و شَقاوَت بھی جذب کرلیتی ہے کہ مقبولوں کی جگہ مُتَبرَّک(یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع