30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) حضور( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کا دروازہ وہ دروازہ ہے جہاں سارے منگتوں کا بھلا ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص892)
(4) عالِم ،طلبہ کو، مشائخ، مُریدِ صادق کو، غنی، بھکاری کو نہ جِھڑکیں کہ یہ سب سائِلین ہیں، کبھی سائِلین کے لباس میں کوئی مقبول بندہ بھی ہوتا ہے جو ہمارے امتحان کے لیے آتا ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص893)
(5) مسلمان کو صُورت و سِیْرت اسلامی رکھنی چاہیے کہ اس میں رب کی نعمت یعنی اسلام کا اِظْہار ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص893)
” سُوْرَۃُ اَلَمْ نَشْرَح“سے حاصل ہونے والی 04 خوبصورت باتیں
(1) تاقیامت اُمّت کی بدعَمَلیاں مُلاحظہ فرما کر قلبِ پاک کو دُکھ تھا، رب نے شفاعت دے کرحضور( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم )کےقلب کوتسلی دی۔حضور( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) اپنی اُمّت کے سارے حالات سے خبردار ہیں ورنہ آپ کو دُکھ نہ ہوتا کیونکہ اس زمانہ میں سارے صحابہ مُتِّقی تھے۔(تفسیر نور العرفان،ص893)
(2) ذمہ داریاں ایمان دار کے لیے بوجھ ہیں اور بے ایمان، غدار کے لیے عیش کا سامان۔
(تفسیر نور العرفان،ص893)
(3) اپنی عبادات کے عِوَض جنّت بھی نہ چاہو، صرف رضائے رب کے طلب گار رہو، دنیا میں دل نہ لگاؤ کہ ” فانی“ہے رب سے دل لگاؤ کہ وہ ”باقی“ہے۔ دریا میں کشتی ہو تو نَجات ہے اور کشتی میں دریا آجائے تو ہلاکت ہے۔ دل دنیا میں رہے، دل میں دنیا نہ رہے وہ یار کے رہنے کی جگہ ہے۔(تفسیر نور العرفان،ص894)
(4) رب سے مَحبّت کی دو خصوصی نشانیاں ہیں، ایک اس کے محبوب بندوں اور محبوب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع